hadith book logo

Mishkaat Shareef

179. آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان

مشكاة المصابيح

5723
Mishkaat Shareef
صحیح
اخلاق خلق کی جمع ہے جس کی معنی طبعی خصلت اور باطنی صفت کے ہیں اور شمائل شمال کی جمع ہے جس کے معنی عادت اور خو کے ہیں پس پچھلے باب میں مؤلف کتاب نے آنحضرت ﷺ کی ظاہری شکل و صورت سے متعلق احادیث نقل کیں جس کو صورت اور خلق کہا جاتا ہے اب یہ باب قائم کرکے ان احادیث کو نقل کیا گیا ہے جن میں آنحضرت ﷺ کے باطنی اوصاف وخصائل ذکر کئے گئے ہیں، جن کو سیرت اور خلق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ باطنی اوصاف یا سیرت وخلق سے مراد مردانگی، شجاعت سخاوت، نرمی مروت محبت تحمل تواضع رحم و کرم اور شرم وحیا وغیرہ ہیں
5724
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أنس قال : خدمت النبي صلى الله عليه و سلم عشر سنين فما قال لي : أف ولا : لم صنعت ؟ ولا : ألا صنعت ؟ متفق عليه
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی دس سال خدمت کی (اس پورے عرصہ میں) مجھ کو آپ ﷺ نے کبھی اف بھی نہیں کہا اور نہ کبھی آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا اور یہ کام تم نے کیوں نہیں کیا۔ (بخاری)

تشریح
مسلم کی روایت میں نوسال کے الفاظ۔ بہرحال آنحضرت ﷺ جب مکہ سے ہجرت فرماکر مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت حضرت انس (رض) کی عمر باختلاف روایت آٹھ سال یا دس سال کی تھی، ان کی والدہ ماجدہ اور ان کے بعض اور رشتہ دار جو انصار میں سے تھے، ان کو آنحضرت ﷺ کے پاس لائے اور خدمت مبارک میں دے دیا، چناچہ حضرت انس (رض) نے اس دن سے اس وقت تک کہ آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ میں دس سالہ قیام کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوئے آپ ﷺ کی مسلسل خدمت کرتے رہے اور اس حدیث میں وہ آنحضرت کے ساتھ اس طویل خادمانہ تعلق کا تجربہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس پورے عرصہ میں میری کسی غلطی اور کسی کوتاہی پر ڈانٹنا ڈپٹنا تو کجا کسی بات پر اف تک نہیں کیا۔ الف کے پیش اور ف کی تشدید اور زیر کے ساتھ ہے ایک نسخہ میں یہ لفظ کے زبر کے ساتھ ایک نسخہ میں تنوین مکسورہ کے ساتھ ہے، یہ لفظ انسان کی زبان سے اس وقت نکلتا ہے جب وہ کسی ناپسند یا تکلیف دہ صورت حال سے دوچار ہوتا ہے۔ تم نے یہ کام کیوں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔۔ اس جملہ کے ذریعہ بھی حضرت انس (رض) نے آنحضرت ﷺ کے حسن سلوک اور کمال خلق کو بیان کیا کہ اس طویل زمانہ میں ایسا کبھی ہوا کہ میں نے از خود کوئی کام کیا ہو اور آنحضرت ﷺ نے یہ اعتراض فرمایا ہو کہ تم نے میری مرضی کے بغیر یہ کام کیوں کیا، یا آنحضرت ﷺ نے مجھ سے کسی کام کے لئے کہا ہو اور میں اس کام کو نہ کرسکا ہوں تو آپ ﷺ نے جواب طلب کیا ہو کہ تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا لیکن واضح رہے کہ حضرت انس (رض) نے آنحضرت ﷺ کا یہ معاملہ اور سلوک دنیاوی امور یا ذاتی خدمت کے تعلق سے بیان کیا ہے نہ دینی معاملات و امور سے متعلق، کیونکہ کسی دینی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر اعتراض پر چشم پوشی روا نہیں ہے۔ علامہ طیبی (رح) نے لکھا ہے کہ حدیث کے بین السطور سے خود حضرت انس (رض) کی خوبی ظاہر ہوتی ہے یا یوں کہے کہ ایک طرح سے حضرت انس (رض) نے اپنی تعریف بھی بیان کی کہ میں نے ایسا موقع کبھی نہیں آنے دیا کہ آنحضرت ﷺ میرے کسی کام پر کوئی اعتراض ہوا ہو یا مجھ سے کوئی شکایت پیدا ہوئی ہو لیکن یہ بات کہنا کچھ زیادہ موزوں معلوم نہیں ہوتا، حدیث کا جو سیاق وسباق ہے اور حضرت انس (رض) خلق نبوی کے متعلق جن احساسات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں ان کے پیش نظر حدیث کا اصل مفہوم وہی ہے جو پہلے ذکر ہوا۔
5725
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم من أحسن الناس خلقا فأرسلني يوما لحاجة فقلت : والله لا أذهب وفي نفسي أن أذهب لما أمرني به رسول الله صلى الله عليه و سلم فخرجت حتى أمر على صبيان وهم يلعبون في السوق فإذا برسول الله صلى الله عليه و سلم قد قبض بقفاي من ورائي قال : فنظرت إليه وهو يضحك فقال : يا أنيس ذهبت حيث أمرتك ؟ . قلت : نعم أنا أذهب يا رسول الله . رواه مسلم
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ اخلاق و عادات کی خوبی میں تمام لوگوں سے بڑھ کر تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ آپ ﷺ نے مجھے کسی کام سے کہیں بھیجنا چاہا، میں نے آپ ﷺ سے یوں کہہ دیا کہ کہ اللہ کی قسم میں نہیں جاؤں گا چناچہ میں چل پڑا، بازار سے گذرا تو ایک جگہ جہاں بچے کھیل رہے تھے ٹھہر گیا اچانک رسول اللہ ﷺ وہاں آگئے اور پیچھے سے میری گدی پکڑ لی، میں نے مڑ کر آپ ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ مسکرا رہے تھے۔ پھر آپ ﷺ فرمانے لگے ارے انیس تو وہاں جارہا ہے نا، جہاں میں نے تجھے بھیجا تھا ؟ میں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ﷺ میں اب جارہا ہوں (مسلم)

تشریح
حضرت انس (رض) نے یہ واقعہ اس زمانہ کا بیان کیا ہے جب انہیں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا اور ابھی صغیر السن تھے، یہی وجہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے انہیں کہیں بھیجنا چاہا تو باوجودیکہ انکا ارادہ آنحضرت ﷺ کے حکم کی تعمیل کرنا تھا مگر بچپن کی نادانی اور لاابالی پن میں ان کی زبان سے یہ نکل گیا کہ میں تو نہیں جاؤں گا، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کی اس بات کو اسی سیاق وسباق میں دیکھا اور اس پر کسی تادیب کی ضرورت محسوس نہیں کی بلکہ ان کے ساتھ ہنسی اور نرمی و شفقت کا معاملہ کیا۔ انیس انس کی تصغیر ہے اور آپ ﷺ نے حضرت انس (رض) کو ان کے اصل نام سے مخاطب کرنے کے بجائے اس نام کی تصغیر انیس سے مخاطب کیا، جو ان کے تئیں آپ ﷺ کی شفقت و محبت کا اظہار تھا۔
5726
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : كنت أمشي مع رسول الله صلى الله عليه و سلم وعليه برد نجراني غليظ الحاشية فأدركه أعرابي فجبذه جبذة شديدة ورجع نبي الله صلى الله عليه و سلم في نحر الأعرابي حتى نظرت إلى صفحة عاتق رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أثرت به حاشية البرد من شدة جبذته ثم قال : يا محمد مر لي من مال الله الذي عندك فالتفت إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ضحك ثم أمر له بعطاء . متفق عليه
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ (ایک دن) میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا اس وقت آپ ﷺ کے جسم پر (یمن کے شہر) نجران کی بنی ہوئی (دھاری دار) چادر تھی، جس کے کنارے بہت دبیز اور موٹے تھے، (اچانک راستہ میں) ایک دیہاتی آنحضرت ﷺ کو مل گیا اور اس نے (اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے آپ ﷺ کی چادر پکڑ کر اتنے زور سے کھینچا کہ نبی کریم ﷺ اس کے سینے کی قریب آلگے، میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو اس دیہاتی کے اس قدر سختی سے چادر کھینچنے سے رسول کریم ﷺ کی گردن مبارک پر چادر کے کنارے کی رگڑ کا نشان پڑگیا، پھر اس دیہاتی نے کہا کہ محمد ﷺ تمہارے پاس اللہ کا جو مال ہے اس میں سے کچھ مجھ کو دلواؤ۔ آنحضرت ﷺ نے پہلے تو (حیرت کے ساتھ) اس کی طرف دیکھا پھر (ازراہ تلطف) مسکرائے اور اس کو کجھ دیئے جانے کا حکم صادر فرمایا۔ (بخاری ومسلم )

تشریح
ایک دوسری روایت میں ہے کہ مال اللہ الذی عندک کے بعد اس دیہاتی نے یہ بھی کہا لامن مالک ولامن مال ابیک (نہ تو تمہارے ذاتی مال میں سے مانگ رہا ہوں اور نہ تمہارے باپ کے مال میں سے) اور اللہ کے مال سے زکوٰۃ کا مال مراد ہے ! یہ حدیث لوگوں کی سخت گوئی بےمروتی اور بداخلاقی پر انحضرت ﷺ کے کمال ضبط و تحمل کی دلیل ہے اور اس بارے میں سرکار رسالت مآب کا ایک ایسا کردار پیش کرتی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ہوسکتی۔ واضح رہے کہ مذکورہ دیہاتی پرلے درجہ کا اجڈ اور نہایت درشت خو تھا، اس نے نہ تہذیب وشائستگی سیکھی اور نہ اخلاق وآداب کے معمولی مراتب سے بھی روشناس تھا، اس لئے اس نے اپنے خالص اجڈ پن میں آنحضرت ﷺ سے اس قدر غیر شائستہ انداز میں اپنا مدعا ظاہر کیا۔ اس حدیث سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ حاکم وسلطان کے لئے مستحب ہے کہ وہ اپنی رعایا اور نادان لوگوں کی ایذاء پر صبر و تحمل کرے اور دوسری بات یہ کہ اپنی حیثیت عرفی اور اپنے وقار کی حفاظت کے لئے کسی کو کچھ دینا دانشمندی کا تقاضہ ہے۔
5727
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم أحسن الناس وأجود الناس وأشجع الناس ولقد فزع أهل المدينة ذات ليلة فانطلق الناس قبل الصوت فاستقبلهم النبي صلى الله عليه و سلم قد سبق الناس إلى الصوت هو يقول : لم تراعوا لم تراعوا وهو على فرس لأبي طلحة عري ما عليه سرج وفي عنقه سيف . فقال : لقد وجدته بحرا . متفق عليه
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ (حسن و جمال، فضل و کمال، صفات حمیدہ اور اخلاق فاضلہ میں) تمام لوگوں سے بڑھ کر تھے، تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور تمام لوگوں سے زیادہ دلیروبہادر تھے، ایک رات کا واقعہ ہے کہ مدینہ کے لوگ (کسی سمت سے چور وڈاکو یا کسی دشمن کی آواز سن کر) مضطرب وخوف زدہ ہوگئے (اور ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے) پھر (کچھ لوگ) (جمع ہو کر) اس آواز کی سمت گئے، وہاں انہوں نے اپنے سامنے نبی کریم ﷺ کو موجود پایا، حقیقت یہ ہے آنحضرت ﷺ سب سے پہلے (گھر سے نکل کھڑے ہوئے تھے اور تن تنہا، اس آواز کی سمت روانہ ہوگئے تھے آپ ﷺ نے ان سب لوگوں کو اطمینان دلاتے ہوئے فرمایا کہ ڈرو نہیں، کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ اس وقت ابوطلحہ (رض) کے گھوڑے پر سوار تھے جو ننگی پیٹھ تھا، اس پر زین نہیں تھی نیز آپ ﷺ کی گردن میں تلوار بھی تھی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا میں نے تو اس گھوڑے کو دریا کی طرح تیز رو پایا۔ ( بخاری ومسلم )

تشریح
ایک روایت میں یہ وضاحت بھی ہے کہ گھوڑا بہت سست رفتار، تنگ قدم اور سرکش تھا، لیکن اس دن کے بعد سے وہ گھوڑا ایسا تیز رفتار ہوا کہ کوئی گھوڑا اس کے آگے نہیں نکل پاتا تھا پس یہ آنحضرت ﷺ کے معجزات میں سے ہے کہ اس گھوڑے کی حالت آپ ﷺ کی ذرا سی دیر کی سواری سے اس طرح بدل گئی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی طرف سے دشمن وغیرہ کی کوئی آہٹ محسوس ہو تو صورت حال کی تحقیق کے لئے سبقت کرنا اور اس طرف تن تنہا روانہ ہوجانا دلیری بھی ہے اور مستحب بھی بشرطیکہ ہلاکت میں نہ پڑنے کا یقین ہو، اس طرح اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ عاریتا مانگنا اور مستعار گھوڑے (یا کسی بھی سواری) پر جہاد کرنا جائز ہے نیز تلوار کا گردن میں لٹکانا مستحب ہے، یہ بھی اس حدیث سے معلوم ہوا ،
5728
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر قال : ما سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا قط فقال : لا . متفق عليه
اور حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول کریم ﷺ سے کسی نے سوال کیا ہو اور آپ ﷺ نے اس کو انکار کردیا ہو ( بخاری ومسلم)

تشریح
علامہ ابن حجر (رح) نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جب کوئی شخص آپ ﷺ سے کچھ مانگتا اور آپ ﷺ کے پاس ہوتا تو فورا دے دیتے تھے۔ اگر آپ ﷺ کے پاس دینے کے لئے کچھ نہ ہوتا اور سائل کا سوال پورا کرنے پر قادر نہ ہوتے تو اس صورت میں بھی صفائی کے ساتھ انکار نہ کرتے بلکہ یا تو خاموشی اختیار کرلیتے یا مناسب الفاظ میں عذر بیان کرتے، یا دعائیہ جملے ارشاد فرمادیتے، گویا آپ ﷺ کسی بھی حالت میں سائل کے سامنے اپنی زبان پر صاف انکار کا لفظ نہیں لاتے تھے۔ اور شیخ عزالدین نے لکھا ہے اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ لا (انکار کا لفظ) آپ ﷺ کی زبان پر کبھی اس لئے نہیں آیا کہ کسی سائل نے آپ ﷺ سے کوئی سوال کیا ہو اور آپ ﷺ اس سوال کو ٹھکرانا چاہتے ہوں، یہ اور بات ہے کہ کوئی سوال پورا کرنا آپ ﷺ کے بس میں نہ رہا ہو اور آپ ﷺ نے عذر بیان کرنے کے لئے یا کسی اور مقصد کی خاطر اس لفظ کا استعمال فرمایا ہو جیسے ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا تھا لااجدما احملکم علیہ (میرے پاس کوئی سواری نہیں ہے کہ تمہیں سوار ہونے کے لئے دوں) مشہور شاعر فرزدق نے آنحضرت ﷺ کے اسی وصف کا کہ لا (انکار) کا لفظ آپ ﷺ کی زبان پر کبھی نہیں آیا اپنے شعر میں اس طرح ذکر کیا ہے۔ ماقال لا قط الا فی تشہدہ لولا التشہد کانت لاؤہ نعم۔ اسی مضمون کو ایک فارسی شاعر نے یوں ادا کیا ہے۔ نہ رفت کلمہ لا برزبان او ہرگز مگر باشہدان لاالہ الا اللہ۔
5729
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أنس أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه و سلم غنما بين جبلين فأعطاه إياه فأتى قومه فقال : أي قوم أسلموا فو الله إن محمدا ليعطي عطاء ما يخاف الفقر . رواه مسلم
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے اتنی بکریاں مانگیں جو پہاڑوں کے درمیانی نالہ کو بھر دیں، چناچہ آپ ﷺ نے اس کو اتنی بکریاں دے دیں، اس کے بعد وہ شخص اپنی قوم میں آیا اور کہا اے میری قوم کے لوگو اسلام قبول کرلو، اللہ کی قسم محمد ﷺ اتنا دیتے ہیں کہ فقر و افلاس سے بھی نہیں ڈرتے۔ (مسلم)

تشریح
شاید سائل کے وہم گماں میں بھی نہ تھا کہ اس کا اتنا بڑا سوال اتنی آسانی سے پورا کیا جاسکتا ہے چناچہ جب آنحضرت ﷺ نے اپنے تصرف میں موجود تقریبا ساری ہی بکریاں دے کر اس کا سوال پورا کردیا تو وہ اچھنبے میں پڑگیا اور آنحضرت کی بخشش وعطاء کا یہ مظاہرہ دیکھ کر اس کو یقین ہوگیا کہ آپ توکل و قناعت اور زہد واستغناء کے جس درجہ کمال پر فائز ہیں وہ اسی مذہب کا پر تو ہوسکتا ہے جس کے رسول بنا کر آپ ﷺ اس دنیا میں بھیجے گئے ہیں، اس لئے اس نے اپنی قوم میں جا کر لوگوں کو مخلصانہ تلقین کی کہ اگر تم اعلی اخلاقی اقدار اور بلند ترین انسانی کردار کی عظمت حاصل کرنا چاہتے ہو تو حلقہ بگوش اسلام ہوجاؤ اور ان محمد عربی ﷺ کے پیرو بن جاؤ جو سائل کے سوال کو اس طرح پورا کرتے ہیں کہ ان کے پاس جو کچھ ہوتا ہے اپنی ضرورت سے بےنیاز ہو کر سب دے دیتے ہیں اپنے فقر و افلاس کا خدشہ بھی انہیں سائل کی طلب و خواہش کی تکمیل سے نہیں روکتا۔ ہرچہ آمدت بدادے تو بیش ازاں ایں جود آں کسی ست کش از فقر عارنیست۔
5730
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جبير بن مطعم بينما هو يسير مع رسول الله صلى الله عليه و سلم مقفله من حنين فعلقت الأعراب يسألونه حتى اضطروه إلى سمرة فخطفت رداءه فوقف النبي صلى الله عليه و سلم فقال : أعطوني ردائي لو كان لي عدد هذه العضاة نعم لقسمته بينكم ثم لا تجدوني بخيلا ولا كذوبا ولا جبانا . رواه البخاري
حضرت جبیر ابن مطعم (رض) اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہیں جب وہ رسول کریم ﷺ کے ہمراہ غزوہ حنین سے واپس آرہے تھے کہ (راستہ میں ایک مقام پر) کچھ (غریب) دیہاتی آپ ﷺ کو لپٹ گئے اور (غنیمت کا مال) مانگنے لگے اور اس حد تک پیچھے پڑگئے کہ آپ کو (کھینچتے ہوئے) ایک کیکر کے درخت تک لے گئے۔ وہاں آپ ﷺ کی چادر کیکر کے کانٹوں میں الجھ کر رہ گئی آپ (بڑی بےچارگی کے ساتھ) رک گئے اور فرمایا لاؤ میری چادر تو دے دو ، اگر میرے پاس ان خار دار درختوں کے برابر بھی چوپائے (یعنی بکریاں اور اونٹ وغیرہ) ہوتے تو میں ان سب کو تمہارے درمیان تقسیم کردیتا اور تم جان لیتے کہ میں نہ بخیل ہوں نہ جھوٹا وعدہ کرنے والا اور نہ چھوٹے دل والا ہوں۔ (بخاری)

تشریح
غزوہ حنین وہ مشہور جنگ ہے جو فتح مکہ کے فورا بعد طائف اور مکہ کے درمیان آباد بنوہوازن وبنوثقیف اور ان کے حلیف قبائل سے آنحضرت ﷺ کو کرنا پڑی تھی۔ اس جنگ میں ابتدائی طور پر کچھ سخت پریشانیوں اور قدرے ہزیمت کے بعد مسلمانوں کو زبر دست فتح حاصل ہوئی تھی، دشمن کے چھ ہزار قیدیوں کے علاوہ مال غنیمت میں ٤٤ ہزار اونٹ ، ٤٤ ہزار سے زیادہ بھیڑبکریاں اور چار ہزار اوقیہ چاندی مسلمانوں کے ہاتھ آئی، اس معرکہ میں مدینہ کے دس ہزار مہاجر و انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے علاوہ اہل مکہ میں کے وہ دو ہزار لوگ بھی شامل تھے جو فتح مکہ کے موقع پر نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے آپ ﷺ نے عزوہ حنین کا سارا مال غنیمت میدان جنگ کے قریب ہی مقام جعرانہ میں جمع کرنے کا حکم دیا اور وہیں سے اہل طائف کی شورش کو دبانے کے لئے طائف تشریف لے گئے طائف کی مہم میں کامیاب ہو کر مقام جعرانہ واپس آئے اور وہاں جمع شدہ مال غنیمت کی تقسیم شروع فرمائی زیادہ تر مال آپ ﷺ نے اہل مکہ کی تالیف قلب کے لئے ان کو دے دیا دوسرے مستحقین کو بھی عطا فرمایا اور ایک شخص کو اس کے سوال پر بہت زیادہ بکریاں دینے کا وہ واقعہ، جس کا ذکر پیچھے کی حدیث میں گذرا اسی موقع پر پیش آیا تھا اس طرح جب آپ ﷺ وہاں سے روانہ ہوئے تو سارا مال و اسباب تقسیم کرکے ختم کرچکے تھے، لہٰذا آگے چل کر راستہ میں جب کچھ دیہاتیوں نے آپ ﷺ سے کچھ سوال کیا تو آپ ﷺ ان کا سوال پورا نہ کرسکے، ایک طرف تو یہ مجبوری تھی کہ سارا مال و اسباب ختم ہوجانے کی وجہ سے آپ ﷺ ان کو کچھ دے نہیں سکتے تھے دوسری طرف صفائی کے ساتھ انکار کرکے ان کی دل شکنی بھی گوار انہیں تھی لیکن جب ان لوگوں نے تنگ و پریشان کرنے کی حد تک آپ ﷺ کا پیچھا پکڑ لیا تو آپ ﷺ نے ان سے مذکورہ جملے ارشاد فرمائے جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہارا سوال پورا نہ کرنے کا حقیقی سبب یہ ہے کہ اس وقت میرے پاس کچھ نہیں بچا ہے، جو مال اسباب میرے پاس تھا سب کچھ تقسیم کرچکا ہوں، اگر میرے پاس اس جنگل میں پائے جانے والے بیشمار خار دار درختوں کے برابر بھی مال ہوتا تو میں سب کا سب تم لوگوں کے درمیان تقسیم کردیتا اس وقت تم لوگوں کو تجربہ ہوجاتا کہ نہ میں بخیل ہوں کہ خرچ کرنا نہیں چاہتا، نہ یہ بات کہ اپنا مال بچانے اور محض ٹرخانے کے لئے جھوٹا سچا وعدہ کرکے سائلین سے اپنا پیچھا چھڑا لیا کرتا ہوں اور نہ یہ کہ میں چھوٹے دل کا آدمی ہوں اور اس خوف کی وجہ تمہیں کچھ دینا نہیں چاہتا کہ اگر تمہیں دے دیا تو میرے پاس کچھ نہیں رہ جائے گا اور خود مجھے فقروافلاس گھیر لے گا غرضیکہ بخل وکذب اور جبن جیسی بری خصلتیں میرے اندر نہیں پاسکتے آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد گرامی میں اس بات کی دلیل ہے کہ اعتماد اور بھروسہ پیدا کرنے کے لئے نہ جاننے والے کے سامنے اوصاف حمیدہ کے ذریعہ اپنی تعریف کرنا جائز ہے۔
5731
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا صلى الغداة جاء خدم المدينة بآنيتهم فيها الماء فما يأتون بإناء إلا غمس يده فيها فربما جاؤوه بالغداة الباردة فيغمس يده فيها . رواه مسلم
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو اہل مدینہ کے خدام (یعنی لونڈیاں اور غلام اپنے اپنے برتنوں میں پانی لے کر پہنچ جاتے (تاکہ آپ ﷺ کے دست مبارک کی برکت سے عافیت اور بیماریوں سے شفا حاصل کریں) چناچہ جو شخص بھی پانی کا برتن لے کر آتا آپ ﷺ (اس کی خوشی کی خاطر اور اس کو اپنی برکت پہنچانے کے لئے) اس برتن میں اپنا ہاتھ ڈال دیتے اکثر ایسا ہوتا تھا کہ لوگ سردی کے موسم میں صبح ہی صبح اپنے برتن لے کر آتے اور آپ ﷺ (بڑی خوش دلی کے ساتھ) اپنا دست مبارک ان برتنوں میں ڈال دیتے۔ (مسلم)

تشریح
یہ حدیث نہ صرف آپ ﷺ کی اس شفقت و محبت اور ہمدری کو ظاہر کرتی ہے جو آپ ﷺ اپنی امت کے تئیں رکھتے تھے بلکہ اس طرف رہنمائی بھی کرتی ہے کہ اگر تکلیف و پریشانی کو برداشت کرکے بھی مخلوق اللہ کو فائدہ پہنچا یا جاسکتا ہو تو اس سے دریغ نہ کرنا چاہیے۔
5732
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : كانت أمة من إماء أهل المدينة تأخذ بيد رسول الله صلى الله عليه و سلم فتنطلق به حيث شاءت . رواه البخاري
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ مدینہ والوں کی لونڈیاں میں سے ایک لونڈی کا یہ معاملہ تھا کہ جب اس کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی) رسول کریم ﷺ کا ہاتھ پکڑتی اور جہاں اس کا جی چاہتا آپ ﷺ کو لے جاتی۔ (بخاری)

تشریح
مطلب یہ کہ وہ ضرورت سمجھتی تو آپ ﷺ کو مدینہ سے باہر کہیں دور اس طرح لئے چلی جاتی اور وہاں اپنی پریشانی بیان کرتی اور جو کچھ کہنا سننا ہوتا کہتی سنتی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اپنی امت کے لوگوں یہاں تک کہ چھوٹے درجہ کے افراد سے کس قدر محبت وتعلق تھا اور تواضع وبے نفسی کے کس بلند ترین مقام پر فائز تھے !