hadith book logo

Mishkaat Shareef

30. قبروں کی زیارت کا بیان

مشكاة المصابيح

1750
Mishkaat Shareef
صحیح
یہاں مذکورہ بالا عنوان قائم کر کے وہ احادیث و آثار نقل کئے جا رہے ہیں جن سے قبروں پر جانے کی فضائل و آداب اور اس سے متعلق احکام مسائل معلوم ہوں نیز یہ بتایا جائے کہ قبروں پر جانے کا مقصد کیا ہے اور وہاں جانے سے کیا حاصل ہوتا ہے۔
1751
Mishkaat Shareef
صحیح
عن بريدة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها ونهيتكم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاث فأمسكوا ما بدا لكم ونهيتكم عن النبيذ إلا في سقاء فاشربوا في الأسقية كلها ولا تشربوا مسكرا . رواه مسلم
حضرت بریدہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا پہلے تو میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کردیا تھے مگر اب تم قبروں کی زیارت کرلیا کرو، اسی طرح میں قربانی کا گوشت تین سے زیادہ رکھ کر کھانے سے منع کیا تھا اور اب تم جب چاہو اسے کھاؤ نیز میں نے نیند کو سوائے مشک کے دوسرے برتنوں میں رکھ کر پینے سے منع کیا تھا اب تم جن برتنوں میں چاہو سب میں پی لیا کرو لیکن نشہ کی کوئی چیز کبھی نہ پینا (مسلم)

تشریح
آنحضرت ﷺ نے ابتداء اسلام میں قبروں پر جانے سے منع فرما دیا تھا کیونکہ زمانہ جاہلیت قریب تھا اس لئے یہ اندیشہ ہوا کہ شاید لوگ قبروں پر جا کر کفر و شرک کی باتیں نہ کرنے لگیں جب آپ نے دیکھ لیا کہ اسلام نے دلوں میں رسوخ حاصل کرلیا ہے تو آپ ﷺ نے زیارت قبور کی اجازت دیدی لہٰذا تمام علماء کے نزدیک قبروں کی زیارت مستحب ہے کیونکہ قبروں پر جانے سے دل میں نرمی آتی ہے موت یاد آتی ہے اور دل و دماغ اس عقیدہ پر پختہ ہوتے ہیں کہ دنیا فانی ہے اس کے علاوہ اور بہت سے فائدے ہیں پھر سب سے بہتر فائدہ یہ بھی ہے کہ قبروں پر جانے سے مردوں کے لئے رحمت و مغفرت کی دعا کا موقع ملتا ہے جو سنت ہے، چناچہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ بقیع تشریف لے جاتے اور وہاں کے مردوں پر سلام پیش فرماتے نیز ان کے لئے دعائے مغفرت فرماتے۔
1752
Mishkaat Shareef
صحیح
اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ ابتداء اسلام میں زیارت قبور کے بارے میں جو ممانعت فرمائی گئی تھی وہ عورتوں کے حق میں اب بھی باقی ہے یا مردوں کی طرح ان کو یعنی قبروں پر جانے کی اجازت دی گئی ہے بعض حضرات کی رائے ہے کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی قبروں پر جانا درست ہے مگر دوسرے حضرات کی رائے یہ ہے کہ عوتوں کے لئے درست نہیں ہے لہٰذا اس سلسلہ میں صحیح مسئلہ یہ ہے کہ عورتوں کے لئے صرف نبی کریم ﷺ کے روزہ مطہرہ کی زیارت تو جائز ہے لیکن اس کے علاوہ دوسری قبروں پر جانا ان کے لئے درست نہیں ہے چناچہ باب الصلوۃ کی حدیث لعن رسول اللہ زائرات القبور الخ کی

تشریح
کے ضمن میں تفصیلی طور یہ مسئلہ مع فقہی روایتوں کے بیان کیا جا چکا ہے۔
1753
Mishkaat Shareef
صحیح
مقصد کے اعتبار سے قبروں پر جانے کی کئی قسمیں ہیں۔ (١) محض موت کو یاد کرنے اور آخرت کی طرف توجہ کے لئے اس مقصد کے تحت صرف قبروں کو دیکھ لینا ہی کافی ہے خواہ قبر کسی کی بھی ہو یہ ضروری نہیں ہے کہ صاحب قبر کے بارے میں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کون تھا اور کیسا تھا ؟ (٢) دعاء مغفرت اور ایصال ثواب وغیرہ کے لئے یہ ہر مسلمان کے لئے مسنون ہے (٣) حصول برکت وسعادت کی خاطر اس مقصد کے تحت اولیاء اللہ اور بزرگان دین کے مزارات کی زیارت کی جاتی ہے کیونکہ برزخ میں بزرگان دین اولیاء اللہ کے تصرفات اور ان کی برکتیں بیشمار ہیں۔ (٤) عزیز دوست کے ادائے حق کے لئے۔ یعنی کسی اپنے عزیز مثلاً والدین یا دوست کی قبر پر اس مقصد کے تحت جانا کہ وہاں پہنچ کر ان کے لئے دعاء مغفرت و ایصال ثواب کرنا اپنے اوپر ان کا حق ہے چناچہ حدیث ابونعیم میں منقول ہے کہ جو شخص پانے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک قبر کی زیارت جمعہ کے روز کرے تو اس کا یہ فعل حج کے برابر ہوتا ہے۔ (٥) دینی اخوت و محبت اور انس مہربانی کے تحت جیسا کہ ایک حدیث میں منقول ہے کہ جب کوئی شخص اپنے کسی بھی مومن بھائی کی قبر پر گررتا ہے اور وہاں سلام و دعاء مغفرت وغیرہ پیش کرتا ہے تو مردہ اس شخص کو پہچانتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔
1754
Mishkaat Shareef
صحیح
قبروں پر جانے کے کچھ آداب و احکام میں جو شریعت نے بتائے ہیں مثلاً (١) جب کوئی شخص دعاء مغفرت و ایصال ثواب کی خاطر کسی کی قبر پر جائے تو وہاں صاحب قبر کے منہ کے سامنے اس طرح کھڑا ہو کہ منہ تو قبر کی طرف پشت قبلہ کی طرف ہو۔ (٢) قبر پر پہنچ کر صاحب قبر کو سلام پیش کرے (٣) قبر کو ہاتھ نہ لگائے (٤) قبر کو چومے نہیں (٥) قبر کے سامنے تعظیما نہ جھکے اور نہ قبر کو سجدہ کرے (٦) قبر کی مٹی منہ پر نہ ملے کہ نصاری کی عادت ہے۔ ان احکام و آداب کے علاوہ ایسی چیزیں اختیار کرنا جن کا شریعت میں کوئی وجود نہیں ہے انتہائی گمراہی اور ضلالت کی بات ہے۔ قبر کے پاس قرآن کریم کی تلاوت مکروہ نہیں ہے نیز یہ مستحب ہے کہ جب کوئی شخص مرجائے تو وہاں صورت اخلاص سات مرتبہ پڑھ کر اس کا ثواب صاحب قبر کو بخش دے دوسرے دنوں کی بنسبت جمعہ کے روز خصوصا دن کے ابتدائی حصہ میں قبر پر جانا افضل ہے چناچہ حرمین شریف میں یہی معمول رہا ہے کہ لوگ جمعہ کے دن کے ابتدائی حصہ میں معلیٰ اور بقیع میں زیارت قبور کے لئے جایا کرتے تھے نیز منقول ہے کہ کہ دوسرے دنوں کی بنسبت جمعہ کے روز میت کو زیادہ علم اور ادراک دیا جاتا ہے اور وہ جمعہ کے روز اپنی قبر پر آنے والوں کو دوسرے دنوں کی بہ نسبت زیادہ پہچانتا ہے جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ قبروں کو بغیر ضرورت روندنا یعنی انہیں پامال کرنا اور ان پر چلنا مکروہ ہے یہ مستحب ہے کہ مرنے کے بعد سات دن تک میت کی طرف سے اللہ کے نام پر کچھ خرچ کیا جاتا ہے۔ ونہیتکم عن لحوم الاضاحی کا مطلب یہ ہے کہ ابتداء اسلام میں مسلمانوں کے پاس مال و دولت اور اسباب معیشت کی فراخی نہیں تھی اکثر لوگ چونکہ تنگ دست تھے اس لئے ہر شخص قربانی نہیں کرسکتا تھا، چناچہ آنحضرت ﷺ نے قربانی کرنے والوں سے فرما دیا تھا کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھ کر نہ کھایا کریں بلکہ تنگدست اور غریب لوگوں میں تقسیم کردیا کریں مگر جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مال و دولت اور اسباب معیشت کی وسعت بخشی اور ان کی تنگدستی اور مفلسی کا دور ختم ہوگیا جس کی وجہ سے انہیں دوسروں کے قربانی کے گوشت کی ضرورت و حاجت نہ رہی تو پھر آپ ﷺ نے اجازت دے دی کہ قربانی کا گوشت جتنے دن بھی چاہیں رکھ سکتے ہیں۔ نبیذ ایک مخصوص قسم کا شراب ہوتا ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کھجور یا انگور پانی میں ڈال لیتے ہیں اور انہیں چند روز تک اسی طرح پانی میں رہنے دیا جاتا ہے جس کے بعد وہ ایک شراب سا بن جاتا ہے، یہ نبیذ اس وقت تک حلال ہے جب تک کہ اس میں نشہ پیدا ہوجائے، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ابتداء اسلام میں مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ نبیذ مشک میں رکھی جایا کرے کیونکہ مشک پتلی ہوتی ہے اس میں رکھی ہوئی نبیذ جلد ہی گرم ہو کر نشہ آور نہیں ہوتی۔ دوسرے برتنوں میں نبیذ رکھنے سے آپ ﷺ نے منع فرما دیا مثلاً لاکھ کئے ہوئے برتنوں وغیرہ میں نبیذ نہ رکھی جائے کیونکہ اس قسم کے برتنوں میں رکھی ہوئی نبیذ جلد ہی گرم ہوجاتی تھی جس کی وجہ سے اس میں نشہ پیدا ہوجاتا تھا اور چونکہ اس وقت کچھ عرصہ پہلے ہی شراب حرام ہوئی تھی اور لوگ ہنوز شراب کی لذت نہیں بھولے تھے اس لئے خدشہ تھا کہ کہیں لوگ اس طرح آہستہ آہستہ پھر شراب کی طرف متوجہ نہ ہونے لگیں اس کے بعد جب شراب کی حرمت کا حکم پوری طرح لوگوں کے دل میں بیٹھ گیا اور شراب سے کلیہ اجتناب لازم ہوگیا نیز اس بات کا کوئی احتمال باقی نہیں رہا کہ اب لوگوں کی خواہشات پھر شراب کی طرف کسی بھی حیثیت سے مبذول ہوسکتی ہے تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی کہ کسی بھی برتن میں نبیذ پی جاسکتی ہے تاہم آپ ﷺ نے پھر بھی تاکید فرما دی کہ نبیذ اس وقت پینی جائز ہوگی جب تک کہ اس میں نشہ کا شائبہ بھی نہ پایا جائے جیسا کہ حدیث کے آخری الفاظ ولا تشربوا مسکرا سے یہ بات واضح ہو رہی ہے اور جس کا حاصل یہی ہے کہ ممانعت کا تعلق نشہ سے ہے برتن سے نہیں ہے برتن سے ممانعت تو اس صرف احتیاط کے پیش نظر کی گئی تھی اصل مقصد اس وقت بھی یہی تھا کہ لوگوں کا رجحان نشہ کی طرف دوبارہ مائل نہ ہونے پائے۔
1755
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : زار النبي صلى الله عليه و سلم قبر أمه فبكى وأبكى من حوله فقال : استأذنت ربي في ان أستغفر لها فلم يؤذن لي ن واستأذنته في أن أزور قبرها فأذن لي فزوروا القبور فإنها تذكر الموت . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ اپنی والدہ محترمہ کی قبر پر تشریف لے گئے تو آپ ﷺ روئے اور ان لوگوں کو بھی رلایا جو آپ ﷺ کے ہمراہ تھے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے پروردگار سے اس بات کی اجازت چاہی تھی کہ اپنی والدہ کے لئے بخشش چاہوں مگر مجھے اس کی اجازت نہیں دی گئی پھر میں نے اپنے پروردگار سے اس بات کی اجازت مانگی کہ اپنی والدہ کی قبر پر حاضری دوں تو مجھے اس کی اجازت فرمائی گئی لہٰذا تم قبروں پر جایا کرو کیونکہ قبروں پر جانا موت کو یاد دلاتا ہے۔ (مسلم)

تشریح
سرکار دو عالم ﷺ کی والدہ محترمہ کا نام آمنہ تھا جب نبی کریم ﷺ کی عمر صرف چھ سال کی تھی تو حضرت آمنہ آپ کو لے کر اپنے نانہال کے لوگوں سے ملاقات کرنے مدینہ منورہ تشریف لے گئیں جب وہ مدینہ سے مکہ واپس آنے لگیں اور ابواء پہنچیں جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے تو وہیں ان کا انتقال ہوگیا اور اسی جگہ انہیں دفن کردیا گیا، چناچہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ان کی قبر پر تشریف لے گئے تو اپنی والدہ کی جدائی کے غم میں اس قدر روئے کہ آپ کو روتا دیکھ کر وہ لوگ بھی ضبط نہ کرسکے جو آپ ﷺ کے ہمراہ تھے چناچہ آپ ﷺ کے آنسوؤں نے انہیں اتنا متاثر کردیا کہ وہ سب لوگ بھی رونے لگے۔
1756
Mishkaat Shareef
صحیح
اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے والدہ کا انتقال حالت کفر میں ہوا تھا چناچہ پہلے زمانہ کے علماء کا یہی خیال ہے لیکن بعد کے علماء نے آنحضرت ﷺ کے والدین کا اسلام ثابت کیا ہے پھر اس کی بھی تین صورتیں بیان کی ہیں کہ یا تو وہ حضرت ﷺ ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر قائم تھے یا انہیں اسلام کی دعوت ہی نہیں پہنچی اور وہ ایام فترت میں تھے اور اسی میں زمانہ نبوت سے پہلے ان کا انتقال ہوگیا اور یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آنحضرت ﷺ کی دعا سے (معجزہ کے طور پر) اتنی دیر کے لئے زندہ کردیا کہ آنحضرت ﷺ پر اسلام لے آئے اگرچہ آنحضرت ﷺ کے والدین کے دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں جو حدیث منقول ہے وہ بذاتہ ضعیف ہے لیکن تعدد طرق کے ذریعہ اس کی تصحیح و تحسین کی گئی ہے۔ یہ بات گویا پہلے زمانہ کے علماء سے چھپی ہوئی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے بعد کے علماء پر اسے ظاہر کردیا چناچہ شیخ جلال الدین سیوطی نے اس بارے میں رسالے تصنیف کئے ہیں اور اس مسئلہ کو دلائل سے ثابت کر کے مخالفین کے شبہات کے جواب دیئے ہیں بہرحال ! یہ مسئلہ چونکہ بہت زیادہ نازک ہے اس لئے علماء کا فیصلہ یہ ہے کہ اس بارے میں خاموشی اختیار کی جائے یہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہے وہی بہتر جانتا ہے۔
1757
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن بريدة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يعلمهم إذا خرجوا إلى المقابر : السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء ا لله بكم للاحقون نسأل الله لنا ولكم العافية . رواه مسلم
حضرت بریدہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ مسلمانوں کو سکھایا کرتے تھے کہ وہ جب قبرستان جائیں تو وہاں یہ کہیں دعا (السلام علیکم اہل الدیار من المومنین والمسلمین وانا انشاء اللہ للاحقون نسأل اللہ لنا ولکم العافیۃ) سلامتی ہو تم پر اے گھر والے مومنین و مسلمین سے ! یقینا ہم بھی اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تم سے ضرور ملیں گے ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے عافیت یعنی مکروہات سے نجات مانگے ہیں۔ (مسلم)

تشریح
آنحضرت ﷺ نے قبروں کو گھر اس لئے فرمایا ہے کہ جس طرح زندہ انسان اپنے اپنے گھروں میں رہتے ہیں اسی طرح مردے اپنی اپنی قبروں میں رہتے ہیں۔ اہل الدیار من المومنین والمسلمین من المومنین اہل الدیار کا بیان اور اس کی و جاحت ہے اسی طرح والمسلمین من المومنین کی تاکید کے لئے استعمال فرمایا گیا ہے۔
1758
Mishkaat Shareef
ضعیف
عن ابن عباس قال : مر النبي صلى الله عليه و سلم بقبور بالمدينة فأقبل عليهم بوجهه فقال : السلام عليكم يا أهل القبور يغفر الله لنا ولكم أنتم سلفنا ونحن بالأثر . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب
حضرت ابن عباس (رض) راوی ہیں کہ (ایک مرتبہ) نبی کریم ﷺ مدینہ کے قبرستان سے گزرے تو آپ ﷺ قبروں کی طرف روئے مبارک کر کے متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ دعا (السلام علیکم یا اہل القبور یغفر اللہ لنا ولکم انتم سلفنا ونحن بالاثر) ۔ اے قبر والو ! تمہاری خدمت میں سلام پیش ہے اور اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے تم ہم میں سے پہلے پہنچے ہوئے ہو اور ہم بھی تمہارے پیچھے آنے ہی والے ہیں۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

تشریح
حدیث کے الفاظ آپ ﷺ قبروں کی طرف اپنا روئے مبارک کر کے متوجہ ہوئے، میں اس بات کی دلیل ہے کہ جب کوئی شخص اہل قبور پر سلام پیش کرے تو اس کے لئے مستحب ہے کہ اس وقت اس کا منہ میت کے منہ کے سامنے ہو، اسی طرح جب دعاء مغفرت و فاتحہ خوانی وغیرہ کے لئے قبر پر کھڑا ہو تو اپنا منہ میت کے سامنے رکھے چناچہ علماء و مجتہدین کا یہی مسلک ہے اور اسی کے مطابق تمام مسلمانوں کا عمل ہے صرف علامہ ابن حجر اس کے خلاف ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک مستحب ہے کہ قبر پر حاضرت ہونے والا دعائے مغفرت و فاتحہ خوانی کے وقت اپنا منہ قبلہ کی طرف رکھے۔ مظہر (رح) فرماتے ہیں کہ کسی میت کی زیارت اس کی زندگی کی ملاقات کی طرح ہے لہٰذا جس طرح کسی شخص کی زندگی میں اس سے ملاقات کے وقت اپنا منہ اس کے منہ کی طرف متوجہ رکھا جاتا ہے اس طرح اس کے مرنے کے بعد اس کی میت یا اس کی قبر کی زیارت کے وقت بھی اپنا منہ اس کے منہ کے سامنے رکھا جائے پھر یہ کہ کسی بھی میت کے سامنے وہی طریقہ و آداب ملحوظ رہنے چاہئیں جو اس کی زندگی میں نشست و برخاست کے وقت ملحوظ ہوتے تھے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص کی ملاقات کے وقت جو اپنے کمالات و فضائل کی بنا پر عظیم المرتبت و رفیع القدر تھا ادب و احترام کے پیش نظر اس کے بالکل قریب نہیں بیٹھتا تھا بلکہ اس سے کچھ فاصلہ پر بیٹھتا تھا تو اب اس کی میت یا اس کی قبر کی زیارت کے وقت بھی وہ فاصلہ سے کھڑا رہے یا بیٹھے اور اگر اس کی زندگی میں بوقت ملاقات اس کے قریب بیٹھتا تھا کہ جب اس کی میت یا قبر کی زیارت کرے تو اس کے قریب ہی کھڑا ہو یا بیٹھے۔ جب کسی قبر کی زیارت کی جائے تو اس وقت سورت فاتحہ اور قل ہو اللہ احد تین مرتبہ پڑھے اور اس کا ثواب میت کو بخش کر اس کے لئے دعائے مغفرت کرے لیکن اتنی بات بہر صورت ملحوظ رہے کہ زیارت قبر کے وقت نہ تو قبر کو ہاتھ لگائے اور نہ بوسہ دے کیونکہ یہ نصاریٰ کی عادت ہے اس طرح قبر کو سجدہ کرنا قبر کے سامنے رکوع کرنا اور قبر کا طواف کرنا بھی انتہائی سخت گناہ ہے اور دعویٰ ایمان اسلام کے خلاف ہے ان باتوں سے اجتناب ضروری ہے۔
1759
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم كلما كان ليلتها من رسول الله صلى الله عليه و سلم يخرج من آخر الليل إلى البقيع فيقول : السلام عليكم دار قوم مؤمنين وأتاكم ما توعدون غدا مؤجلون وإنا إن شاء الله بكم لاحقون اللهم اغفر لأهل بقيع الغرقد . رواه مسلم
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ جس رات کو نبی کریم ﷺ کی باری میرے یہاں ہوتی تھی آپ ﷺ آخری شب میں اٹھ کر مدینہ کے قبرستان بقیع میں تشریف لے جاتے اور وہاں فرماتے دعا (السلام علیکم دار قوم مومنین واتاکم ما توعدون غدا موجلون وانا انشاء اللہ بکم لاحقون اللہم اغفر لاہل بقیع الغرقد) ، سلامتی ہو تم پر اے مومنین ! تمہارے پاس وہ چیز آئی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا یعنی ثواب و عذاب کل کو یعنی قیامت کے دن کو تمہیں ایک معین مدت تک مہلت دی گئی ہے اور یقیناً ہم بھی اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تم سے ملنے ہی والے ہیں۔ اے اللہ ! بقیع غرقد والوں کو بخش دے۔ (رواہ مسلم )

تشریح
مدینہ کی ایک جگہ کا نام بقیع ہے اس میں مدینہ والوں کی قبریں ہیں اسی قبرستان کو جنت البقیع بھی کہا جاتا ہے اس جگہ غرقد کے درخت بہت تھے۔ اس لئے اس کو دعائے مغفرت میں بقیع غرقد فرمایا گیا۔