Mishkaat Shareef
81. افلاس اور مہلت دینے کا بیان
مشكاة المصابيح
2931
Mishkaat Shareefانسانی زندگی میں کسی ایک حالت کو قرار و دوام نہیں ہے آج کچھ ہے کل کچھ یہ روزانہ کے مشاہدہ کی بات ہے انسان کی اقتصادی و مالی زندگی کو ہی دیکھ لیجئے جس طرح ایک مفلس اور قلاش شخص راتوں رات رحمت الٰہی کے نتیجہ میں مال و زر کے خزانوں کا مالک بن جاتا ہے اسی طرح بڑے بڑے کاروباری دیکھتے ہی دیکھ تے دیوالیہ ہوجاتے ہیں جو لوگ ہر وقت لاکھوں میں کھیلتے رہتے ہیں مال و زر ہی جن کا اوڑھنا بچھونا ہوتا ہے چشم وزدن میں وہ پائی پائی کے محتاج نظر آتے ہیں۔ یہی کائنات کا نظام ہے اور یہی تقدیر کا کھیل ہے حالات کو کسی ایک راستے پر برقرار رکھنا نہ کبھی کسی کے بس میں رہا ہے اور نہ کبھی کسی کے بس میں رہے گا۔ یہ سارے کھیل قدرت الٰہی کے پابند رہے ہیں اور ہمیشہ اسی طرح پابند رہیں گے لیکن بدلے ہوئے حالات کو متوارن بنانا اور متوازن بنانے میں مدد دینا انسان کے بس میں ہے جسے وہ اختیار کر کے ایک دوسرے کے دکھ درد کو بانٹ بھی سکتا ہے اور بدلے ہوئے حالات کو سنوارنے میں مدد بھی دے سکتا ہے چناچہ یہاں جو باب قائم کیا گیا ہے اس کے تحت نقل کی جانے والی احادیث کا یہی حاصل ہے کہ اگر کوئی شخص حالات کی تبدیلی کا شکار ہوجائے بایں طور کہ افلاس و تنگدستی اسے اپنی لپیٹ میں لے لے تو دوسرے انسانوں کا نہ صرف یہ فریضہ ہے کہ اس کے ساتھ اظہار ہمدردی کریں بلکہ اگر اس شخص پر کسی کا کوئی حق و مطالبہ ہو اور وہ مفلس ہوجانے کی وجہ سے اس کی ادائیگی سے وقتی طور پر عاجز ہو تو صاحب حق اسے اتنی مہلت دے دے کہ جب بھی اس کے حالات سدھریں وہ اس کا حق ادا کر دے۔
2932
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما رجل أفلس فأدرك رجل ماله بعينه فهو أحق به من غيره
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص مفلس ہوجائے اور وہ شخص (کہ جس نے اس کے ہاتھ اپنے مال بیچا تھا اس کے پاس اپنا مال بعینہ پائے تو وہ کسی دوسرے کے مقابلے میں اس مال کا زیادہ حق دار ہے۔
تشریح
اس ارشاد گرامی کو مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ زید نے بکر سے کوئی مال خریدا مگر اس کی قیمت ابھی ادا نہیں کر پایا تھا کہ مفلس ہوگیا اور حاکم و قاضی نے بھی اس کے مفلس و دیوالیہ ہوجانے کا فیصلہ کردیا اب بکر (یعنی بیچنے والے) نے دیکھا کہ زید کے پاس اس کا بیچا ہوا مال جوں کا توں موجود ہے یعنی نہ تو وہ ظاہری طور پر ضائع و ہلاک ہوا ہے اور نہ تصرفات شرعیہ مثلًا ہبہ ووقف کے ذریعہ معنوی طو پر ختم ہوا ہے تو اس صورت میں بکر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی کی ہوئی بیع کو فسخ کر دے اور زید سے اپنا مال واپس لے لے کیونکہ دوسرے قرض خواہوں کی بہ نسبت وہ مقدم ہے لہذا بجائے اس کے کہ وہ مال دوسرے قرض خواہ زید سے لیں بکر اس کے لینے کا زیادہ حق دار ہے۔ اور اگر زید نے مال کی خریداری کے وقت قیمت کا کچھ حصہ ادا کردیا ہو اور بقیہ حصہ ادا کرنے سے پہلے مفلس ودیوالیہ ہوگیا ہو تو اس صورت میں بکر اس مال کی اتنی ہی مقدار لے جو قیمت کے بقیہ حصہ کے بقدر ہو چناچہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک کا یہی مسلک ہے ان حضرات کی طرف سے اس حدیث کا یہی مطلب بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن حنفیہ کے نزدیک چونکہ اس صورت میں بیچنے والے کو نہ تو بیع فسخ کردینے کا اختیار ہے اور نہ وہ مال واپس لے لینے کا حق اسے پہنچتا ہے اس لئے حنفیہ اس حدیث کو عقد بالخیار پر محمول کرتے ہیں یعنی ان کے نزدیک اس حدیث کا تعلق اس صورت سے ہے جب کہ بیع اس شرط کے ساتھ ہوئی ہو کہ بیچنے والے کو فلاں مدت تک اس بیع کو فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا چناچہ بیع کے بعد اگر خریدار مفلس ودیوالیہ ہوجائے اور مدت خیار کے اندر بائع (بچنے والا) کو معلوم ہوگیا کہ خریدار مفلس و دیوالیہ ہوگیا ہے تو اب اس کے لئے زیادہ بہتر یہی ہے کہ بیع کو فسخ کر دے اور اپنا مال واپس لے لے۔
تشریح
اس ارشاد گرامی کو مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ زید نے بکر سے کوئی مال خریدا مگر اس کی قیمت ابھی ادا نہیں کر پایا تھا کہ مفلس ہوگیا اور حاکم و قاضی نے بھی اس کے مفلس و دیوالیہ ہوجانے کا فیصلہ کردیا اب بکر (یعنی بیچنے والے) نے دیکھا کہ زید کے پاس اس کا بیچا ہوا مال جوں کا توں موجود ہے یعنی نہ تو وہ ظاہری طور پر ضائع و ہلاک ہوا ہے اور نہ تصرفات شرعیہ مثلًا ہبہ ووقف کے ذریعہ معنوی طو پر ختم ہوا ہے تو اس صورت میں بکر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی کی ہوئی بیع کو فسخ کر دے اور زید سے اپنا مال واپس لے لے کیونکہ دوسرے قرض خواہوں کی بہ نسبت وہ مقدم ہے لہذا بجائے اس کے کہ وہ مال دوسرے قرض خواہ زید سے لیں بکر اس کے لینے کا زیادہ حق دار ہے۔ اور اگر زید نے مال کی خریداری کے وقت قیمت کا کچھ حصہ ادا کردیا ہو اور بقیہ حصہ ادا کرنے سے پہلے مفلس ودیوالیہ ہوگیا ہو تو اس صورت میں بکر اس مال کی اتنی ہی مقدار لے جو قیمت کے بقیہ حصہ کے بقدر ہو چناچہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک کا یہی مسلک ہے ان حضرات کی طرف سے اس حدیث کا یہی مطلب بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن حنفیہ کے نزدیک چونکہ اس صورت میں بیچنے والے کو نہ تو بیع فسخ کردینے کا اختیار ہے اور نہ وہ مال واپس لے لینے کا حق اسے پہنچتا ہے اس لئے حنفیہ اس حدیث کو عقد بالخیار پر محمول کرتے ہیں یعنی ان کے نزدیک اس حدیث کا تعلق اس صورت سے ہے جب کہ بیع اس شرط کے ساتھ ہوئی ہو کہ بیچنے والے کو فلاں مدت تک اس بیع کو فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا چناچہ بیع کے بعد اگر خریدار مفلس ودیوالیہ ہوجائے اور مدت خیار کے اندر بائع (بچنے والا) کو معلوم ہوگیا کہ خریدار مفلس و دیوالیہ ہوگیا ہے تو اب اس کے لئے زیادہ بہتر یہی ہے کہ بیع کو فسخ کر دے اور اپنا مال واپس لے لے۔
2933
Mishkaat Shareefوعن أبي سعيد قال : أصيب رجل في عهد النبي صلى الله عليه و سلم في ثمار ابتاعها فكثر دينه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تصدقوا عليه فتصدق الناس عليه فلم يبلغ ذلك وفاء دينه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لغرمائه خذوا ما وجدتم وليس لكم إلا ذلك . رواه مسلم
اور حضرت ابوسعید کہتے ہیں کہ رسول کریم کے زمانے میں ایک شخص پھلوں کے سخت نقصان میں مبتلا ہوگیا جو اس نے خریدے تھے اور اس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ قرضدار ہوگیا اس کی حالت دیکھ کر رسول کریم نے لوگوں سے فرمایا کہ صدقہ کے ذریعہ اس کی مدد کرو (تا کہ یہ قرض کے بوجھ سے ہلکا ہو) لوگوں نے صدقہ کے ذریعہ اس کی مدد کی مگر لوگوں کی مدد بھی اس کے قرض کی پوری ادائیگی کے لئے کافی نہ ہوسکی اس کے بعد آپ نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا کہ تمہیں اس سے جو کچھ بھی حاصل ہو بس وہ لے لو اس سے اس کے علاوہ اور کچھ تمہیں نہیں ملے گا۔
تشریح
اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ آنحضرت کے زمانے میں ایک شخص نے ایک پھل دار درخت خریدا اور درخت پر لگے ہوئے پھل ابھی اس کے تصرف میں نہیں آئے تھے سوء اتفاق سے ان پر آفت نازل ہوئی اور وہ سب جھڑ گئے ادھر اس نے اس کی قیمت بھی ادا نہیں کی تھی چناچہ جب بیچنے والے نے قیمت کا مطالبہ کیا تو اس نے لوگوں سے قرض لے کر وہ قیمت ادا کی اس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ قرض دار ہوگیا۔ آنحضرت نے جب اس کی پریشان حالی دیکھی تو لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کیا کہ وہ صدقہ و خیرات کے ذریعہ ہی اس کی مدد کریں تاکہ وہ قرض کے بار سے ہلکا ہوجائے۔ لوگوں نے اس کی مدد کی مگر ان کی مدد بھی اس کے قرض کی ادائیگی کے لئے کافی نہیں ہوسکی۔ لوگوں کی مدد سے جتنا قرض وہ ادا کرسکتا تھا اتنا ادا کردیا بقیہ قرض کی ادائیگی سے جب وہ بالکل ہیں عاجز ہوگیا تو آنحضرت نے قرض خواہوں سے وہ الفاظ ارشاد فرمائے جو حدیث کے آخر میں نقل کئے گئے ہیں۔ چنانچہ قرض خواہوں سے آنحضرت کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ جب اس شخص کا افلاس بالکل ظاہر ہوگیا ہے اور اس کی خستہ حالی عیاں ہوچکی ہے تو اب تمہارے لئے یہ قطعًا مناسب نہیں ہے کہ تم اسے پریشان کرو اسے ڈراؤ دھمکاؤ یا اسے قید وبند کی مصیبت میں مبتلا کرو بلکہ اس صورت میں تم لوگوں پر واجب ہے کہ اسے مہلت دے دو جب دیکھو کہ اس کے پاس ادائیگی قرض کا کچھ سامان فراہم ہوگیا ہے اس وقت مطالبہ کرنا اور اس سے اپنا قرض واپس لے لینا آپ کے ارشاد کا یہ مطلب قطعًا نہیں تھا کہ قرضدار کے ذمہ سے قرض خواہوں کا حق ہی سرے سے ساقط ہوگیا ہے بلکہ جیسا کہ ابھی بتایا گیا اس سے آپ کا مقصد صرف یہ تھا کہ قرض دار کو مہلت مل جائے۔
تشریح
اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ آنحضرت کے زمانے میں ایک شخص نے ایک پھل دار درخت خریدا اور درخت پر لگے ہوئے پھل ابھی اس کے تصرف میں نہیں آئے تھے سوء اتفاق سے ان پر آفت نازل ہوئی اور وہ سب جھڑ گئے ادھر اس نے اس کی قیمت بھی ادا نہیں کی تھی چناچہ جب بیچنے والے نے قیمت کا مطالبہ کیا تو اس نے لوگوں سے قرض لے کر وہ قیمت ادا کی اس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ قرض دار ہوگیا۔ آنحضرت نے جب اس کی پریشان حالی دیکھی تو لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کیا کہ وہ صدقہ و خیرات کے ذریعہ ہی اس کی مدد کریں تاکہ وہ قرض کے بار سے ہلکا ہوجائے۔ لوگوں نے اس کی مدد کی مگر ان کی مدد بھی اس کے قرض کی ادائیگی کے لئے کافی نہیں ہوسکی۔ لوگوں کی مدد سے جتنا قرض وہ ادا کرسکتا تھا اتنا ادا کردیا بقیہ قرض کی ادائیگی سے جب وہ بالکل ہیں عاجز ہوگیا تو آنحضرت نے قرض خواہوں سے وہ الفاظ ارشاد فرمائے جو حدیث کے آخر میں نقل کئے گئے ہیں۔ چنانچہ قرض خواہوں سے آنحضرت کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ جب اس شخص کا افلاس بالکل ظاہر ہوگیا ہے اور اس کی خستہ حالی عیاں ہوچکی ہے تو اب تمہارے لئے یہ قطعًا مناسب نہیں ہے کہ تم اسے پریشان کرو اسے ڈراؤ دھمکاؤ یا اسے قید وبند کی مصیبت میں مبتلا کرو بلکہ اس صورت میں تم لوگوں پر واجب ہے کہ اسے مہلت دے دو جب دیکھو کہ اس کے پاس ادائیگی قرض کا کچھ سامان فراہم ہوگیا ہے اس وقت مطالبہ کرنا اور اس سے اپنا قرض واپس لے لینا آپ کے ارشاد کا یہ مطلب قطعًا نہیں تھا کہ قرضدار کے ذمہ سے قرض خواہوں کا حق ہی سرے سے ساقط ہوگیا ہے بلکہ جیسا کہ ابھی بتایا گیا اس سے آپ کا مقصد صرف یہ تھا کہ قرض دار کو مہلت مل جائے۔
2934
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : كان رجل يدائن الناس فكان يقول لفتاه : إذا أتيت معسرا تجاوز عنه لعل الله أن يتجاوز عنا قال : فلقي الله فتجاوز عنه
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا ایک شخص تھا جو لوگوں سے قرض لین دین کا معاملہ کرتا تھا (یعنی لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا) اور اس نے اپنے کارندے سے یہ کہہ رکھا تھا کہ جب کسی تنگدست کے پاس (قرض وصول کرنے جاؤ) تو اس سے در گذر کرو شاید اللہ تعالیٰ ہم سے در گذر فرمائے۔ چناچہ آپ نے فرمایا کہ جب اس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی (یعنی اس کا انتقال ہو) تو اللہ تعالیٰ نے اس سے در گذر فرمایا (اور اس کے گناہوں پر مؤ اخذہ نہیں کیا) (٤) اور حضرت ابوقتادہ کہتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی سختیوں سے محفوظ رکھے تو اسے چاہئے کہ وہ مفلس و تنگدست سے اپنا قرض وصول کرنے میں تاخیر کرے یا اس کو معاف کر دے (یعنی اپنا پورا قرض یا جس قدر ممکن ہو معاف کردیے۔
تشریح
یوں تو فرض اعمال نفل اعمال سے ستر درجے زیادہ فضیلت کے حامل ہیں لیکن بعض مسائل و معاملات میں نفل اعمال فرض اعمال سے زیادہ فضیلت کے رکھتے ہیں انہیں میں سے ایک تو تنگدست و مفلس کو اپنا حق (مثلًا قرض وغیرہ) معاف کردینا ہے کہ یہ اگرچہ مستحب ہے لیکن مفلس و تنگدست کو قرض وغیرہ ادا کرنے میں مہلت دینے سے افضل ہے جو واجب ہے دوسرے سلام کرنے میں پہل کرنا سنت ہے لیکن یہ افضل ہے سلام کا جواب دینے سے جو فرض ہے تیسرے وقت سے پہلے وضو کرنا مستحب ہے لیکن یہ افضل ہے وقت شروع ہوجانے کے بعد وضو کرنے سے جو فرض ہے۔ (٥) اور حضرت ابوقتادہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ فرماتے تھے جو شخص اپنا مطالبہ وصول کرنے میں مفلس کو مہلت دے یا اس کو اپنا پورا مطالبہ یا اس کا کچھ حصہ معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی سختیوں سے نجات دے گا۔ (مسلم) ٦) اور حضرت ابوالیسر کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول کریم ﷺ فرماتے تھے جو شخص تنگدست کو مہلت دے یا اس کو معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے گا (یعنی قیامت کے دن اسے گرمی کی تپش اور اس دن کی سختیوں سے محفوظ رکھے گا (مسلم) تشریح امام احمد، ابن ماجہ اور حاکم نے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی نقل کیا ہے کہ جو شخص مفلس وتنگدست کو مہلت دے تو ادائیگی کا دن آنے تک اس کو ہر دن کے بدلے اس کے قرض کے برابر صدقہ کا ثواب ملتا ہے اور پھر جب ادائیگی کا دن آئے اور وہ پھر اسے مہلت دے دے اور اس کی ادائیگی کا دن آنے تک ہر دن کے بدلے اس کے قرض کے برابر صدقہ کا ثواب ملتا ہے اور پھر جب ادائیگی کا دن آئے اور وہ پھر اسے مہلت دے دے تو اس کو ہر دن کے بدلے اس کے قرض کی دگنی مقدار کے برابر صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔ اس روایت کو تمثیلی طور پر یوں سمجھئے کہ مثلًا ایک شخص نے کسی کو دو مہینے کے وعدے پر ایک سو روپے قرض دیئے اور دو مہینے کے بعد اس کی مفلسی و تنگدستی کو دیکھتے ہوئے اس نے ایک مہینے کی مہلت دیدی تو اسے پورے مہینے اس طرح کا ثواب ملتا رہے گا کہ گویا وہ ہر دن ایک سو روپیہ صدقہ و خیرات کرتا ہے اسی طرح ایک مہینے کی مدت گزر جانے کے بعد دوبارہ مہلت دینے میں ایسا ہی ثواب ملتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب تیسری مرتبہ مہلت دے گا تو اسے ہر دن ایسا ثواب ملے گا جیسے کہ وہ ہر دن دو سو روپے صدقہ و خیرات کرتا ہے۔
تشریح
یوں تو فرض اعمال نفل اعمال سے ستر درجے زیادہ فضیلت کے حامل ہیں لیکن بعض مسائل و معاملات میں نفل اعمال فرض اعمال سے زیادہ فضیلت کے رکھتے ہیں انہیں میں سے ایک تو تنگدست و مفلس کو اپنا حق (مثلًا قرض وغیرہ) معاف کردینا ہے کہ یہ اگرچہ مستحب ہے لیکن مفلس و تنگدست کو قرض وغیرہ ادا کرنے میں مہلت دینے سے افضل ہے جو واجب ہے دوسرے سلام کرنے میں پہل کرنا سنت ہے لیکن یہ افضل ہے سلام کا جواب دینے سے جو فرض ہے تیسرے وقت سے پہلے وضو کرنا مستحب ہے لیکن یہ افضل ہے وقت شروع ہوجانے کے بعد وضو کرنے سے جو فرض ہے۔ (٥) اور حضرت ابوقتادہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ فرماتے تھے جو شخص اپنا مطالبہ وصول کرنے میں مفلس کو مہلت دے یا اس کو اپنا پورا مطالبہ یا اس کا کچھ حصہ معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی سختیوں سے نجات دے گا۔ (مسلم) ٦) اور حضرت ابوالیسر کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول کریم ﷺ فرماتے تھے جو شخص تنگدست کو مہلت دے یا اس کو معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے گا (یعنی قیامت کے دن اسے گرمی کی تپش اور اس دن کی سختیوں سے محفوظ رکھے گا (مسلم) تشریح امام احمد، ابن ماجہ اور حاکم نے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی نقل کیا ہے کہ جو شخص مفلس وتنگدست کو مہلت دے تو ادائیگی کا دن آنے تک اس کو ہر دن کے بدلے اس کے قرض کے برابر صدقہ کا ثواب ملتا ہے اور پھر جب ادائیگی کا دن آئے اور وہ پھر اسے مہلت دے دے اور اس کی ادائیگی کا دن آنے تک ہر دن کے بدلے اس کے قرض کے برابر صدقہ کا ثواب ملتا ہے اور پھر جب ادائیگی کا دن آئے اور وہ پھر اسے مہلت دے دے تو اس کو ہر دن کے بدلے اس کے قرض کی دگنی مقدار کے برابر صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔ اس روایت کو تمثیلی طور پر یوں سمجھئے کہ مثلًا ایک شخص نے کسی کو دو مہینے کے وعدے پر ایک سو روپے قرض دیئے اور دو مہینے کے بعد اس کی مفلسی و تنگدستی کو دیکھتے ہوئے اس نے ایک مہینے کی مہلت دیدی تو اسے پورے مہینے اس طرح کا ثواب ملتا رہے گا کہ گویا وہ ہر دن ایک سو روپیہ صدقہ و خیرات کرتا ہے اسی طرح ایک مہینے کی مدت گزر جانے کے بعد دوبارہ مہلت دینے میں ایسا ہی ثواب ملتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب تیسری مرتبہ مہلت دے گا تو اسے ہر دن ایسا ثواب ملے گا جیسے کہ وہ ہر دن دو سو روپے صدقہ و خیرات کرتا ہے۔
2935
Mishkaat Shareefوعن أبي رافع قال : استسلف رسول الله صلى الله عليه و سلم بكرا فجاءته إبل من الصدقة قال : أبو رافع فأمرني أن أقضي الرجل بكره فقلت : لا أجد إلا جملا خيارا رباعيا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعطه إياه فإن خير الناس أحسنهم قضاء . رواه مسلم
اور حضرت أبورافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ نے ایک جوان اونٹ قرض لیا اور پھر جب آپ ﷺ کے پاس زکوٰۃ کے اونٹ آئے تو ابورافع کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس شخص کو کہ جس سے آپ ﷺ نے اونٹ قرض لیا تھا ایسا ہی ایک اونٹ دیدوں میں نے عرض کیا کہ مجھے ایسا ہی اونٹ کوئی نظر نہیں آ رہا ہے البتہ ایک اونٹ ہے جو اس کے اونٹ سے اچھا ہے اور ساتویں برس میں لگا ہے (لہذا میں اس کے اونٹ سے اچھا اونٹ کیسے دیدوں) آپ ﷺ نے فرمایا اسے اچھا ہی اونٹ دیدو کیونکہ لوگوں میں بہترین وہی شخص ہے جو ادائیگی قرض میں سب سے اچھا ہو ( مسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جانور کا قرض لینا جائز ہے جیسا کہ حضرت امام شافعی حضرت امام مالک اور اکثر علماء کا مسلک ہے لیکن حضرت امام ابوحنیفہ کے نزیدک یہ جائز نہیں ہے چناچہ وہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ سے واضح ہوا کہ جو چیز قرض لی ہے اس کی واپسی میں اس کی بہ نست اچھی چیز دینا مستحب بھی ہے اور عالی ہمتی بھی بشرطیکہ قرض لیتے وقت اس کی شرط نہ کی گئی ہو۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جانور کا قرض لینا جائز ہے جیسا کہ حضرت امام شافعی حضرت امام مالک اور اکثر علماء کا مسلک ہے لیکن حضرت امام ابوحنیفہ کے نزیدک یہ جائز نہیں ہے چناچہ وہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ سے واضح ہوا کہ جو چیز قرض لی ہے اس کی واپسی میں اس کی بہ نست اچھی چیز دینا مستحب بھی ہے اور عالی ہمتی بھی بشرطیکہ قرض لیتے وقت اس کی شرط نہ کی گئی ہو۔
2936
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة أن رجلا تقاضى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأغلظ له فهم أصحابه فقال : دعوه فإن لصاحب الحق مقالا واشتروا له بعيرا فأعطوه إياه قالوا : لا نجد إلا أفضل من سنه قال : اشتروه فأعطوه إياه فإن خيركم أحسنكم قضاء
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے اس اونٹ کا تقاضہ کیا (جو آپ ﷺ نے اس سے بطور قرض لیا تھا) اور تقاضہ بھی بڑی سخت کلامی کے ساتھ کیا آپ ﷺ کے صحابہ نے جب اس کو اس سخت کلامی اور آداب نبوت کے خلاف اس کی حرکت پر سزا دینی چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے کچھ نہ کہو کیونکہ جس کا حق ہے اسے کہنے کا اختیار ہے البتہ ایسا کرو کہ ایک اونٹ خرید کر اسے دیدو تاکہ اس کا مطالبہ ادا ہوجائے اور اسے پھر کچھ کہنے کا حق نہ رہے) صاحبہ نے عرض کیا کہ اس نے آپ ﷺ کو بطور قرض جو اونٹ دیا تھا اس کی عمر کا کوئی اونٹ نہیں مل رہا ہے بلکہ اس سے زیادہ عمر کا مل رہا ہے یعنی اس کا اونٹ چھوٹا اور کمتر تھا اور ہمیں جو اونٹ مل رہا ہے وہ اس کے اونٹ سے بڑا اور اچھا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جو اونٹ تمہیں مل رہا ہے اسی کو خرید لو (اگرچہ وہ اس کے اونٹ کی بہ نسبت بڑا اور اچھا ہے) اور اسے دیدو یاد رکھو تم میں بہتر وہ شخص ہے جو قرض ادا کرنے میں اچھا ہو ( بخاری ومسلم)
تشریح
آپ ﷺ سے اپنے قرض کا تقاضہ کرنے والا اور پھر تقاضہ میں سخت کلامی کرنیوالا کوئی کافر رہا ہوگا خواہ وہ یہودی ہو یا کوئی اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ شاید کوئی اجڈ گنوار و دیہاتی ہوگا جو مجلس نبوت اور مقام نبوت کے آداب سے مطلقًا بےبہرہ تھا جسے یہ سلیقہ بھی نہیں تھا کہ کس سے کس طرح بات کی جاتی ہے اس کے برعکس سرکار دو عالم ﷺ نے اس کی باتوں کو جس عالی ظرفی اور خوش اخلاقی کے ساتھ برداشت کیا وہ صرف نبوت ہی کا خاصہ ہوسکتا ہے۔ جس کا حق ہے اسے کہنے کا اختیار ہے، کے بارے میں ابن ملک فرماتے ہیں کہ یہاں حق سے مراد قرض ہے یعنی اگر کسی شخص کا کسی پر قرض ہو اور وہ قرض دار ادائیگی قرض میں تاخیر کرے تو قرض خواہ کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اس سے سختی کے ساتھ تقاضہ کرے اس پر اظہار ناراضگی کرے اور اگر وہ پھر بھی قرض ادا نہ کرے تو حاکم و عدالت کی طرف رجوع کرے۔
تشریح
آپ ﷺ سے اپنے قرض کا تقاضہ کرنے والا اور پھر تقاضہ میں سخت کلامی کرنیوالا کوئی کافر رہا ہوگا خواہ وہ یہودی ہو یا کوئی اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ شاید کوئی اجڈ گنوار و دیہاتی ہوگا جو مجلس نبوت اور مقام نبوت کے آداب سے مطلقًا بےبہرہ تھا جسے یہ سلیقہ بھی نہیں تھا کہ کس سے کس طرح بات کی جاتی ہے اس کے برعکس سرکار دو عالم ﷺ نے اس کی باتوں کو جس عالی ظرفی اور خوش اخلاقی کے ساتھ برداشت کیا وہ صرف نبوت ہی کا خاصہ ہوسکتا ہے۔ جس کا حق ہے اسے کہنے کا اختیار ہے، کے بارے میں ابن ملک فرماتے ہیں کہ یہاں حق سے مراد قرض ہے یعنی اگر کسی شخص کا کسی پر قرض ہو اور وہ قرض دار ادائیگی قرض میں تاخیر کرے تو قرض خواہ کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اس سے سختی کے ساتھ تقاضہ کرے اس پر اظہار ناراضگی کرے اور اگر وہ پھر بھی قرض ادا نہ کرے تو حاکم و عدالت کی طرف رجوع کرے۔
2937
Mishkaat Shareefوعنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : مطل الغني ظلم فإذا أتبع أحدكم على مليء فليتبع
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا صاحب استطاعت کا ادائیگی قرض میں تاخیر کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو صاحب استطاعت کے حوالہ کیا جائے تو اسے اس حوالہ کو قبول کرلینا چاہئے ( بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے پہلے جزء کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص کوئی چیز خریدے اور اس کی قیمت ادا کرنے کی استطاعت رکھنے کے باوجود قیمت ادا نہ کرے یا کسی کا قرض دار ہو اور ادائیگی قرض پر قادر ہونے کے باوجود (قرض ادا کرنے میں تاخیر کرے تو یہ ظلم ہے) بلکہ بعض علماء نے تو یہ لکھا ہے کہ یہ فسق ہے اور اس کی وجہ سے ایسے شخص کی گواہی رد ہوتی ہے اگرچہ یہ نادہندگی ایک ہی مرتبہ کیوں نہ ظاہر ہوئی ہو لیکن بعض دوسرے علماء کا قول یہ ہے کہ اس شخص کی گواہی قابل رد ہے جو صاحب استطاعت ہونیکے باوجود بار بار نادہندگی میں مبتلا ہو اور ادائیگی میں تاخیر کرنا اس کی عادت بن چکی ہو۔ حدیث کے دوسرے جزء اور جب تم سے کسی کو صاحب استطاعت کے حوالہ کیا جائے الخ۔ کا مطلب یہ ہے کہ مثلًا کسی شخص کا کسی پر قرض ہو اور وہ قرض دار ادائیگی قرض پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے کسی مالدار شخص سے یہ کہے کہ تم میرا قرض ادا کردینا تو قرض خواہ کو چاہئے کہ وہ قرضدار کی اس بات کو فورًا قبول کرلے تاکہ اس کا مال ضائع نہ ہو یہ حکم استحباب کے طور پر ہے لیکن بعض علماء کا قول ہے کہ یہ حکم بطریق وجوب ہے جب کہ کچھ علماء اس حکم کو بطریق اباحت کہتے ہیں
تشریح
حدیث کے پہلے جزء کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص کوئی چیز خریدے اور اس کی قیمت ادا کرنے کی استطاعت رکھنے کے باوجود قیمت ادا نہ کرے یا کسی کا قرض دار ہو اور ادائیگی قرض پر قادر ہونے کے باوجود (قرض ادا کرنے میں تاخیر کرے تو یہ ظلم ہے) بلکہ بعض علماء نے تو یہ لکھا ہے کہ یہ فسق ہے اور اس کی وجہ سے ایسے شخص کی گواہی رد ہوتی ہے اگرچہ یہ نادہندگی ایک ہی مرتبہ کیوں نہ ظاہر ہوئی ہو لیکن بعض دوسرے علماء کا قول یہ ہے کہ اس شخص کی گواہی قابل رد ہے جو صاحب استطاعت ہونیکے باوجود بار بار نادہندگی میں مبتلا ہو اور ادائیگی میں تاخیر کرنا اس کی عادت بن چکی ہو۔ حدیث کے دوسرے جزء اور جب تم سے کسی کو صاحب استطاعت کے حوالہ کیا جائے الخ۔ کا مطلب یہ ہے کہ مثلًا کسی شخص کا کسی پر قرض ہو اور وہ قرض دار ادائیگی قرض پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے کسی مالدار شخص سے یہ کہے کہ تم میرا قرض ادا کردینا تو قرض خواہ کو چاہئے کہ وہ قرضدار کی اس بات کو فورًا قبول کرلے تاکہ اس کا مال ضائع نہ ہو یہ حکم استحباب کے طور پر ہے لیکن بعض علماء کا قول ہے کہ یہ حکم بطریق وجوب ہے جب کہ کچھ علماء اس حکم کو بطریق اباحت کہتے ہیں
2938
Mishkaat Shareefوعن كعب بن مالك : أنه تقاضى ابن أبي حدرد دينا له عليه في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم في المسجد فارتفعت أصواتهما حتى سمعها رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو في بيته فخرج إليهما رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى كشف سجف حجرته ونادى كعب بن مالك قال : يا كعب قال : لبيك يا رسول الله فأشار بيده أن ضع الشطر من دينك قال كعب : قد فعلت يا رسول الله قال : قم فاقضه
اور حضرت کعب ابن مالک کے بارے میں منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانے میں (ایک دن) انہوں نے مسجد نبوی ﷺ میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کی واپسی کا تقاضہ کیا یہاں تک کہ جب دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں اور رسول کریم ﷺ نے جو اس وقت اپنے حجرہ مبارک میں تشریف فرما تھے ان دونوں کی آوازیں سنیں تو حجرہ سے باہر آنے کا ارادہ فرمایا چناچہ آپ ﷺ نے اپنے حجرہ کا پردہ ہٹایا اور کعب بن مالک کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کعب کعب بن مالک نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ حاضر ہوں آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے ان کی طرف اشارہ کیا کہ اپنے قرض کا نصف حصہ معاف کردو کعب نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے معاف کیا اس کے بعد آپ ﷺ نے ابن ابی حدرد سے فرمایا کہ اب اٹھ جاؤ اور باقی قرض ادا کردو (بخاری)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد میں کسی سے اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرنا جائز ہے نیز حقدار سے سفارش کرنا جھگڑنے والوں میں صلح صفائی کرانا اور کسی کی سفارش قبول کرنا بشرطیکہ اس سفارش کا تعلق کسی معصیت و برائی سے نہ ہو جائز ہے۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد میں کسی سے اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرنا جائز ہے نیز حقدار سے سفارش کرنا جھگڑنے والوں میں صلح صفائی کرانا اور کسی کی سفارش قبول کرنا بشرطیکہ اس سفارش کا تعلق کسی معصیت و برائی سے نہ ہو جائز ہے۔
2939
Mishkaat Shareefوعن سلمة بن الأكوع قال : كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ أتي بجنازة فقالوا : صل عليها فقال : هل عليه دين ؟ قالوا : لا فصلى عليها ثم أتي بجنازة أخرى فقال : هل عليه دين ؟ قالوا : نعم فقال : فهل ترك شيئا ؟ قالوا : ثلاثة دنانير فصلى عليها ثم أتي بالثالثة فقال : هل عليه دين ؟ قالوا : ثلاثة دنانير قال : هل ترك شيئا ؟ قالوا : لا قال : صلوا على صاحبكم قال أبو قتادة : صلى الله عليه و سلم عليه يا رسول الله وعلي دينه فصلى عليه . رواه البخاري
اور حضرت سلمہ بن اکوع کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول کریم ﷺ کی مجلس میں حاضر تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا، صحابہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ جنازہ کی نماز پڑھ لیجئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس پر قرض تو نہیں ہے صحابہ نے کہا کہ نہیں چناچہ آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس پر قرض تو نہیں ؟ عرض کیا گیا کہ ہاں ہے آپ ﷺ نے فرمایا یہ کچھ چھوڑ کر بھی مرا ہے یا نہیں صحابہ نے عرض کیا کہ تین دینار اس نے چھوڑے ہیں یہ سن کر آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی پھر ایک تیسرا جنازہ لایا گیا آپ ﷺ نے پوچھا کہ اس پر قرض تو نہیں ہے صحابہ نے عرض کیا کہ ہاں تین دینار اس پر قرض ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کچھ چھوڑ کر بھی مرا ہے یا نہیں عرض کیا گیا کہ کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ابوقتادہ نے جب یہ سنا تو کہا کہ یا رسول اللہ آپ ﷺ اس کی نماز جنازہ پڑھ لیجئے اس کا قرض میں ادا کر دوں گا تب آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی (بخاری)
تشریح
ہوسکتا ہے کہ تینوں جنازے ایک ہی دن اور ایک ہی مجلس میں لائے گئے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ الگ الگ دن اور الگ الگ مجلس میں یہ جنازے لائے گئے ہوں۔ دوسرے شخص پر جو فرض تھا اس کی مقدار انہیں تین دینار کے برابر رہی ہوگی جو وہ چھوڑ کر مرا تھا اس لئے جب آپ ﷺ کو یہ معلوم ہوگیا کہ اس شخص پر جتنا قرض ہے اس کی ادائیگی کے بقدر اثاثہ چھوڑ کر مرا ہے تو آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھ لی۔ تیسرا چونکہ اپنے قرض کی ادائیگی کے بقدر مال چھوڑ کر نہیں مرا تھا اس لئے آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کردیا اس انکار کی وجہ یا تو یہ تھی کہ اس سے لوگوں کو عبرت حاصل ہو اور وہ قرض سے پرہیز کریں اور اگر بدرجہ مجبوری قرض لیں تو اس کی ادائیگی میں تاخیر و تقصیر سے باز رہیں یا یہ کہ آنحضرت ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھنا اس لئے مناسب نہیں سمجھا کہ میں اس کے لئے دعا کروں اور دعا قبول نہ ہو کیونکہ اس پر لوگوں کا حق تھا جس سے بری الذمہ ہوئے بغیر وہ مرگیا تھا۔ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ میت کی طرف سے ضامن ہونا جائز ہے خواہ میت نے ادائیگی قرض کے لئے مال چھوڑا ہو یا نہ چھوڑا ہو چناچہ حضرت امام شافعی اور اکثر علماء کا یہی مسلک ہے بخلاف حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے۔ بعض حنفی علماء کہتے ہیں کہ حضرت امام مالک حضرت امام شافعی حضرت امام احمد اور حنفیہ میں سے حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد نے اس حدیث سے اس بات کا استدلال کیا ہے کہ اس میت کی طرف سے کفالت جائز ہے جس نے کچھ بھی مال نہ چھوڑا ہو اور اس پر قرض ہو یہ حضرات کہتے ہیں کہ اگر میت کی طرف سے کفالت جائز نہ ہوتی تو آنحضرت ﷺ اس تیسرے جنازہ کی نماز نہ پڑھتے۔ لیکن حضرت امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ مفلس میت کی طرف سے کفالت صحیح نہیں ہے کیونکہ مفلس میت کی طرف سے کفالت دراصل دین ساقط کی کفالت ہے اور یہ بالکل صاف مسئلہ ہے کہ دین ساقط کی کفالت باطل ہے۔ اب رہی یہ بات کہ حضرت ابوقتادہ نے میت کی طرف سے اس کے قرض کی کفالت کی اور آنحضرت ﷺ نے ابوقتادہ کی کفالت کو تسلیم کر کے اس کی نماز جنازہ پڑھ لی تو اس کے بارے میں امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ سے صرف یہی ثابت نہیں ہوتا کہ ابوقتادہ نے اس شخص کی زندگی ہی میں اس کی طرف سے کفالت کرلی ہوگی اس موقع پر تو انہوں نے صرف آپ ﷺ کے سامنے اس بات کا اقرار و اظہار کیا کہ میں اس کی کفالت پہلے ہی کرچکا ہوں اب میں اس کے قرض کا ذمہ دار ہوں چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کے اس اقرار و اظہار پر نماز جنازہ پڑھی۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ابوقتادہ نے اس وقت میت کی طرف سے کفالت کی نہیں تھی بلکہ ازراہ احسان وتبرع یہ وعدہ کیا تھا کہ میں اس کا قرض ادا کر دوں گا۔
تشریح
ہوسکتا ہے کہ تینوں جنازے ایک ہی دن اور ایک ہی مجلس میں لائے گئے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ الگ الگ دن اور الگ الگ مجلس میں یہ جنازے لائے گئے ہوں۔ دوسرے شخص پر جو فرض تھا اس کی مقدار انہیں تین دینار کے برابر رہی ہوگی جو وہ چھوڑ کر مرا تھا اس لئے جب آپ ﷺ کو یہ معلوم ہوگیا کہ اس شخص پر جتنا قرض ہے اس کی ادائیگی کے بقدر اثاثہ چھوڑ کر مرا ہے تو آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھ لی۔ تیسرا چونکہ اپنے قرض کی ادائیگی کے بقدر مال چھوڑ کر نہیں مرا تھا اس لئے آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کردیا اس انکار کی وجہ یا تو یہ تھی کہ اس سے لوگوں کو عبرت حاصل ہو اور وہ قرض سے پرہیز کریں اور اگر بدرجہ مجبوری قرض لیں تو اس کی ادائیگی میں تاخیر و تقصیر سے باز رہیں یا یہ کہ آنحضرت ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھنا اس لئے مناسب نہیں سمجھا کہ میں اس کے لئے دعا کروں اور دعا قبول نہ ہو کیونکہ اس پر لوگوں کا حق تھا جس سے بری الذمہ ہوئے بغیر وہ مرگیا تھا۔ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ میت کی طرف سے ضامن ہونا جائز ہے خواہ میت نے ادائیگی قرض کے لئے مال چھوڑا ہو یا نہ چھوڑا ہو چناچہ حضرت امام شافعی اور اکثر علماء کا یہی مسلک ہے بخلاف حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے۔ بعض حنفی علماء کہتے ہیں کہ حضرت امام مالک حضرت امام شافعی حضرت امام احمد اور حنفیہ میں سے حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد نے اس حدیث سے اس بات کا استدلال کیا ہے کہ اس میت کی طرف سے کفالت جائز ہے جس نے کچھ بھی مال نہ چھوڑا ہو اور اس پر قرض ہو یہ حضرات کہتے ہیں کہ اگر میت کی طرف سے کفالت جائز نہ ہوتی تو آنحضرت ﷺ اس تیسرے جنازہ کی نماز نہ پڑھتے۔ لیکن حضرت امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ مفلس میت کی طرف سے کفالت صحیح نہیں ہے کیونکہ مفلس میت کی طرف سے کفالت دراصل دین ساقط کی کفالت ہے اور یہ بالکل صاف مسئلہ ہے کہ دین ساقط کی کفالت باطل ہے۔ اب رہی یہ بات کہ حضرت ابوقتادہ نے میت کی طرف سے اس کے قرض کی کفالت کی اور آنحضرت ﷺ نے ابوقتادہ کی کفالت کو تسلیم کر کے اس کی نماز جنازہ پڑھ لی تو اس کے بارے میں امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ سے صرف یہی ثابت نہیں ہوتا کہ ابوقتادہ نے اس شخص کی زندگی ہی میں اس کی طرف سے کفالت کرلی ہوگی اس موقع پر تو انہوں نے صرف آپ ﷺ کے سامنے اس بات کا اقرار و اظہار کیا کہ میں اس کی کفالت پہلے ہی کرچکا ہوں اب میں اس کے قرض کا ذمہ دار ہوں چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کے اس اقرار و اظہار پر نماز جنازہ پڑھی۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ابوقتادہ نے اس وقت میت کی طرف سے کفالت کی نہیں تھی بلکہ ازراہ احسان وتبرع یہ وعدہ کیا تھا کہ میں اس کا قرض ادا کر دوں گا۔
2940
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أخذ أموال الناس يريد أداءها أدى الله عنه ومن أخذ يريد إتلافها أتلفه الله عليه . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کا مال لے اور اس کے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو (یعنی کسی ضرورت و احتیاج ہی کی بناء پر قرض لے اور قرض کی ادائیگی کا ارادہ بھی رکھتا ہو اور اس کو ادا کرنے کی کوشش بھی کرتا ہو) تو اللہ تعالیٰ اس سے وہ مال ادا کرا دیتا ہے (یعنی قرض کو ادا کرنے کی نیت رکھنے والے کی اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے بایں طور کہ یا تو دنیا میں قرض ادا کرنے کی استطاعت دے دیتا ہے یا آخرت میں حقدار کو راضی کردیتا ہے) اور جو شخص لوگوں کا مال لے اور ضائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہو (یعنی احتیاج و ضرورت کے بغیر کسی سے قرض لے اور پھر اس قرض کی ادائیگی کی نیت بھی نہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے مال کو ضائع کردیتا ہے ( یعنی جو شخص کسی سے قرض لے اور اس قرض کو نہ ادا کرے اور نہ ادا کرنے کی نیت رکھے تو اللہ تعالیٰ نہ صرف یہ کہ ادائیگی قرض پر اس کی مدد نہیں کرتا اور اس کے رزق میں وسعت وفراخی عطاء نہیں کرتا بلکہ اس کا مال تلف وضائع بھی کردیتا ہے کیونکہ وہ ایک مسلمان کا مال ضائع کرنے کی نیت رکھتا ہے ( بخاری)