Mishkaat Shareef
162. جنگ کرنے کا بیان
مشكاة المصابيح
5314
Mishkaat Shareefملاحم، ملحمۃ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں معرکہ اور گھمسان کی جنگ کا موقع۔ اور اصل کے اعتبار سے یہ لفظ یا تو لحم سے نکلا ہے جو گوشت کے معنی میں آتا ہے۔ یا پھر لحمۃ سے مشتق ہے جو کپڑے (یعنی بانے) کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اگر مادہ اشتقاق لحم کو قرار دیا جائے تو قتل و قتال یا موقع قتال کو ملحمۃ سے تعبیر کرنا اس سبب سے ہوگا کہ قتل و قتال یا میدان جنگ میں مقتولین کے گوشت اور لوتھڑوں ہی کی کثرت نظر آتی ہے اور اگر یہ مانا جائے کہ ملحمۃ کا لفظ لحمہ سے نکلا ہے تو پھر یہ کہا جائے گا کہ کسی بھی جنگ ومعر کہ آرائی یا میدان جنگ میں چونکہ لوگ آپس میں اس طرح گتھم گتھا ہوتے ہیں جس طرح کپڑے کا بانا اپنے تانے کے ساتھ گتھا ہوا ہوتا ہے اس لئے قتل و قتال اور موقع قتال کو ملحمہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لیکن پہلی بات یعنی ملحمہ کا لحم سے مشتق ہونا زیادہ مناسب اور موزوں ہے، نیز ملحمہ کا لفظ لڑائی اور بڑے حادثے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور صراح میں لکھا ہے کہ ملحمہ کے معنی ہیں فتنہ اور بڑی جنگ۔
5315
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قا ل لا تقوم الساعة حتى تقتتل فئتان عظيمتان تكون بينهما مقتلة عظيمة دعواهما واحدة وحتى يبعث دجالون كذابون قريب من ثلاثين كلهم يزعم أنه رسول الله وحتى يقبض العلم وتكثر الزلازل ويتقارب الزمان ويظهر الفتن ويكثر الهرج وهو القتل وحتى يكثر فيكم المال فيفيض حتى يهم رب المال من يقبل صدقته وحتى يعرضه فيقول الذي يعرضه عليه لا أرب لي به وحتى يتطاول الناس في البنيان وحتى يمر الرجل بقبر الرجل فيقول يا ليتني مكانه وحتى تطلع الشمس من مغربها فإذا طلعت ورآها الناس آمنوا أجمعون فذلك حين ( لا ينفع نفسا إيمانها لم تكن آمنت من قبل أو كسبت في إيمانها خيرا ) ولتقومن الساعة وقد نشر الرجلان ثوبهما بينهما فلا يتبايعانه ولا يطويانه ولتقومن الساعة وقد انصرف الرجل بلبن لقحته فلا يطعمه ولتقومن الساعة وهو يليط حوضه فلا يسقي فيه ولتقومن الساعة وقد رفع أكلته إلى فيه فلا يطعمها
حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دو بڑے گروہ آپس میں نہ لڑیں گے، ان دونوں گروہوں کے درمیان زبردست قتل و قتال ہوگا۔ اور دونوں کا ایک ہی دعویٰ ہوگا اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک بڑے زبردست مکار، فریبی اور فسادی لوگ پیدا نہ ہوجائیں گے جو اللہ اور رسول ﷺ پر جھوٹ بولیں گے ان کی تعداد تیس کے قریب ہوگی اور ان میں سے ہر ایک کا یہ دعویٰ ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک علم نہ اٹھا لیا جائے گا اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زلزلوں کی کثرت نہ ہوجائے گی، زمانہ قریب نہ ہوجائے گا فتنوں کا ظہور نہیں ہونے لگے گا اور ہرج یعنی قتل و قتال اور لوٹ مار کے واقعات میں اضافہ نہ ہوجائے گا اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ تمہارے پاس مال و دولت کی اتنی کثرت نہیں ہوجائے گی کہ مالدار شخص خیرات لینے والے کی وجہ سے قلق اور پریشانی میں مبتلا ہوجائے، یہاں تک کہ وہ مالدار، جس شخص کو صدقہ و خیرات دینے والا سمجھ کر اس کے سامنے صدقہ و خیرات کا مال پیش کرے گا، وہ غنائے قلبی کے سبب یا خود مالدار ہونے کی وجہ سے یہ کہے گا کہ مجھے تمہارے اس صدقہ خیرات کے مال کی ضرورت و حاجت نہیں ہے۔ اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ لوگ وسیع اور لمبی چوڑی عمارتوں کے بنانے پر فخر نہ کرنے لگیں گے اور جب تک کہ آدمی کسی قبر کے پاس سے گزرتا ہوا یہ نہ کہنے لگے کہ کاش میں اس کی جگہ ہوتا اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں گی جب کہ تک کہ آفتاب مغرب کی طرف سے طلوع نہ ہوگا۔ اور لوگ اس کی طرف دیکھیں تو سب ایمان لے آئیں گے اور آخرت کا امر ظاہر ہوجائے گا پس یہ وقت وہ ہوگا جب کسی بھی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا نفع نہ دے گا جس نے اس دن سے پہلے ایمان قبول نہیں کیا ہوگا اور نہ کسی شخص کو اس وقت اپنے ایمان کی حالت میں نیک کام کرنا فائدہ پہنچائے گا اگر اس نے اس دن سے پہلے نیک کام نہیں کیا ہوگا۔ اور اس میں شک نہیں کہ قیامت اس طرح قائم ہوگی یعنی پہلا صور کہ جو قیامت کی ابتداء ہوگا اس طرح اچانک پھونکا جائے گا کہ دو شخصوں نے اپنا کپڑا خریدو فروخت کے لئے کھول رکھا ہوگا اور وہ نہ اس کی خرید وفروخرت کرچکے ہوں گے اور نہ اس کو لپیٹ کر رکھ سکے ہوں گے کہ اسی حالت میں قیامت آجائے گی۔ اور بلاشبہ قیامت اس حال میں قائم ہوگی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کے دودھ کے ساتھ واپس آیا ہوگا یعنی اونٹنی کا دودھ لے کر اپنے گھر آیا ہوگا اور اس دودھ کو پینے نہ پایا ہوگا کہ قیامت آجائے گی اور بلاشبہ قیامت اس طرح قائم ہوگی کہ ایک شخص اپنے حوض کو لیپتا اور پوتتا ہوگا یعنی اپنے جانوروں کو پانی پلانے کے لئے کوئی کنڈ وغیرہ بناتا یا اس کو درست کرتا ہوگا اور وہ اپنے جانوروں کو اس حوض سے پانی نہ پلانے پایا ہوگا کہ قیامت آجائے گی اور بلاشبہ قیامت اس طرح قائم ہوگی کہ ایک شخص نے منہ میں رکھنے کے لئے لقمہ اٹھایا ہوگا اور وہ اس لقمہ کو کھانے نہ پایا ہوگا کہ قیامت آجائے گی۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اور دونوں کا ایک ہی دعویٰ ہوگا کا مطلب یہ ہے کہ آپس میں لڑنے والے وہ دونوں گروہ دین اسلام کا دعویٰ رکھنے والے ہوں گے اور ان دونوں گروہوں سے تعلق رکھنے والا ہر شخص مسلمان ہوگا یا یہ کہ وہ دونوں گروہ جو مسلمان ہوں گے حق پر دعویٰ کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہ گمان عقیدہ رکھے گا کہ دین و دیانت اور اصول کے اعتبار سے بالکل صحیح راستہ وہی اختیار کئے ہوئے ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ اس ارشاد گرامی میں جن دو گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے ان سے حضرت علی (رض) اور حضرت امیر معاویہ (رض) کے تابعدار ساتھی مراد ہیں۔ جیسا کہ حضرت علی (رض) نے حضرت امیر معاویہ (رض) کے بارے میں فرمایا تھا کہ اخواننا بغوا علینا (یعنی وہ لوگ ہمارے بھائی ہیں جنہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کردی ہے) اسی طرح ایک روایت میں یہ بھی منقول ہے کہ اس زمانہ میں جب کہ حضرت علی (رض) اور حضرت امیر معاویہ (رض) کے لشکر ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما تھے اور حضرت علی (رض) کے لشکر کا ایک شخص حضرت امیر معاویہ (رض) کے ایک آدمی کو قیدی بنا کر حضرت علی (رض) کی خدمت میں لایا، ایک دوسرے شخص نے اس قیدی کو دیکھ کر اس کی حالت پر تاسف کا اظہار کیا اور کہنے لگا کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ مسلمان پختہ اسلام کا حامل تھا۔ حضرت علی (رض) نے یہ سنا تو ناگوار کے ساتھ فرمایا کہ تم یہ کیا کہہ رہے ہو ؟ یہ شخص تو اب بھی مسلمان ہے۔ پس یہ حدیث خوارج کے قول کو باطل ثابت کرتی ہے جو کہتے ہیں کہ دونوں جماعتیں یعنی حضرت علی (رض) کے تابعدار بھی اور حضرت امیر معاویہ (رض) کے تابعدار بھی کافر ہیں۔ اسی طرح اس حدیث کے ذریعے روافض کے اس قول کا باطل ہونا ثابت ہوجاتا ہے کہ حضرت علی (رض) کے مخالف کافر ہیں۔ ان کی تعداد تیس کے قریب ہوگی اس طرح کی ایک حدیث گزشتہ باب میں گزری ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی تعداد تیس ہوگی اور یہاں ان کی تعداد تیس کے قریب فرمائی ہے تو ہوسکتا ہے کہ پہلی حدیث میں آپ ﷺ نے متعین طور پر ذکر تو تیس کی تعداد کا فرمایا لیکن مراد یہی ہو کہ ان کی تعداد تیس کے قریب ہوگی یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ پیچھے جو حدیث گزری ہے وہ یہاں نقل کی جانے والی حدیث کے بعد کے زمانے کی ہے۔ گویا اس بارے میں پہلے آپ ﷺ کے پاس جو وحی آئی تھی اور اس سے بطریق اجمال وابہام جو بات آپ ﷺ کو معلوم ہوئی وہ آپ ﷺ نے بیان فرما دی کہ ان کی تعداد تیس کے قریب ہوگی لیکن پھر بعد میں دوسری وحی کے ذریعے اس تعداد کو مقید و متعین فرمایا دیا گیا۔ چناچہ اس وحی کے آنے کے بعد آپ ﷺ نے جو حدیث ارشاد فرمائی اس میں فرمایا کہ ان کی تعداد تیس ہوگی۔ اسی طرح تیس کی تعداد والی یہ حدیث اس روایت کے منافی نہیں ہے جس کو طبرانی نے حضرت ابن عمرو (رض) سے نقل کیا کہ لاتقوم الساعۃ حتی یخرج سبعون کذابا۔ کیونکہ حضرت ابن عمرو کی روایت کا مقصد محض ان جھوٹوں کی کثرت کو ظاہر کرنا ہے، ان کی کسی خاص تعداد کا بیان نہیں۔ یا یہ کہ ستر میں سے تیس تو وہ ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے اور باقی جھوٹے وہ ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ نہیں کریں گے اور ایک احتمال یہ بھی ہے کہ ستر کی جو تعداد ذکر فرمائی گئی ہے وہ تیس کے علاوہ اور اس طرح سب کی مجموعی تعداد سو مراد ہو۔ جب تک علم نہ اٹھا لیا جائے گا میں علم سے مراد وہ خاص علم ہے جو شریعت میں نفع دینے والا علم کہلاتا ہے اور وہ قرآن و حدیث اور ان کے متعلقات کا علم ہے اور جس کو دین کا علم بھی کہا جاسکتا ہے، نیز علم کے اٹھ جانے سے مراد اہل سنت والجماعت کے علماء کا اس دنیا سے رخصت ہوجانا ہے۔ چناچہ جب علم کے حامل اور علم پہنچانے والے ہی اس دنیا سے اٹھ جائیں گے تو گویا علم ہی اس دنیا سے اٹھ جائے گا۔ ، پس آخری زمانہ کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ اس وقت مخلص وبا عمل اور حقیقی عالم تو رخصت ہوجائیں گے اور دنیا میں جاہل وبے علم اور بدعتی لوگوں کی کثرت ہوجائے گی۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ ایک عالم کی موت عالم کی موت ہے۔ جب تک کہ زلزلوں کی کثرت نہ ہوجائے گی میں زلزلوں سے مراد یا تو حسی یعنی واقعی زلزلے ہیں کہ زمین کا ہلنا اور بھونچال کا آنا کثرت سے ہوجائے گا یا یہاں زلزلے کے لغوی معنی مراد ہیں کہ طرح طرح کی آفتیں وبلائیں نازل ہوں گی۔ اور نت نئے حادثات انسان، جان ومال کو نقصان پہنچانے لگیں گے۔ جب تک زمانہ قریب نہ ہوجائے گا سے حضرت امام مہدی کے مبارک زمانہ کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے چونکہ اس وقت تمام روئے زمین میں امن وامان اور خوشی ومسرت کا گہوارہ بن جائے گا اور لوگوں کی زندگی نہایت اطمینان و سکون اور سرور و شادمانی کے ساتھ گزرے گی اس لئے وقت کی رفتار تیز تر معلوم ہوگی اور زمانہ بہت مختصر معلوم ہونے لگے گا جیسا کہ عیش و راحت کا زمانہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو بہت مختصر معلوم ہوتا ہے اور مصیبت و سختی کا زمانہ کتنا ہی مختصر کیوں ہو نہ بہت طویل معلوم ہوتا ہے۔ ویکثر الہرج وہو القتل میں وہو القتل کے الفاظ کسی راوی کے ہیں جس کے ذریعے انہوں نے لفظ ہرج کی وضاحت کی ہے کہ اس لفظ سے مراد قتل و قتال کا واقع ہونا ہے جو فتنے کے سبب وجود میں آئے گا۔ حتی یہم رب المال کے بارے میں کئی اقوال ہیں ایک تو یہ کہ لفظ یہم کو حرف یا کے پیش اور ہ کے زیر کے ساتھ پڑھا جائے اور رب کو یہم کا مفعول ہونے کی بنا پر منصوب قرار دیا جائے، اس صورت میں یہم کا فاعل لفظ فقدان کو قرار دیں گے۔ من یقبل الصدقت کا مضاف محذوف ہے۔ یہ قول زیادہ مشہور ہے اور اس کے مطابق پوری عبارت کے معنی یہ ہوں گے کہ اس وقت جب کہ قیامت کا زمانہ قریب ہوگا لوگوں کے پاس مال و دولت اور روپیہ پیسہ کی اس طرح فراوانی اور کثرت ہوجائے گی کہ صدقہ و خیرات کا مال لینے والا، صدقہ و خیرات کرنے والے کو ڈھونڈھے نہیں ملیں گے۔ یہاں تک کہ اس شخص کا ڈھونڈھنا سخت پریشانی اور قلق میں مبتلا کرے گا جو صدقہ و خیرات کے مال کو قبول کرلے یعنی مالدار شخص کسی مفلس و فقیر شخص ڈھونڈھتا پھرے گا، تاکہ زکوٰۃ و صدقہ کا مال اسے دے سکے مگر پورے معاشرہ میں ضرورت مند و محتاج لوگوں کی کمی کے باعث مشکل ہی سے کوئی فقیر ومفلس اس کو مل پائے گا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہم کو لفظ ہم (بمعنی قصد و ارادہ) سے مشتق قرار دے کر حرف ی کو زبر کے ساتھ اور ہ کو پیش کے ساتھ پڑھا جائے نیز رب کو مرفوع قرار دیا جائے اس صورت میں رب المال، یہم کا فاعل ہوگا اور من یقبل کا مفعول اس طرح عبارت کے معنی یہ ہوں گے کہ اس وقت جب کہ قیامت کا زمانہ قریب ہوگا تمہارے پاس مال و دولت کی بہت زیادتی ہوجائے گی یہاں تک کہ ایک مالدار آدمی کسی ایسے شخص کی تلاش کا قصد کرے گا اور اس کو بہت ڈھونڈے گا جو اس کے صدقہ و خیرات کا مال لے لے۔ اور تیسرا قول یہ ہے کہ لفظ یہم فعل متعدی ہے جس کے معنی غمگین کرنے کے آتے ہیں اس صورت میں حرف ی کو زبر کے ساتھ اور ہ کے پیش کے ساتھ پڑھا جائے اور رب کو منصوب قرار دیا جائے اس طرح اس عبارت کے معنی یہ ہوں گے کہ کسی ایسے فقیر ومفلس کا پایا جانا کہ جو صدقہ و خیرات کا مال قبول کرے، مالدار شخص کو غمگین کرے گا۔ جب تک کہ عمارتوں کے بنانے پر فخر نہ کرنے لگیں یعنی لوگ محض رہائشی ضروریات کی تکمیل کے لئے یا کسی نیک مقصد کی خاطر لمبی چوڑی عمارتیں نہیں بنائیں گے بلکہ وہ فلک بوس اور محل نما عمارتیں محض اپنی شان و شوکت اور اپنی امارت کو ظاہر کرنے اور فخر ومباہات کی خاطر بنائیں گے جیسا کہ اس زمانہ میں ہو رہا ہے کہ مالدار اور رئیس لوگ بڑے بڑے مکانات بنانا فخر کی بات سمجھتے ہیں اور بڑی بڑی بلڈنگیں کھڑی کر کے اپنی جھوٹی شان و شوکت ظاہر کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اس مقصد کے لئے عبادت گاہوں اور رفاہی عمارتوں اور قبرستانوں تک کو مسمار اور زمین دوز کرنے سے گریز نہیں کرتے اور ان کی جگہ پر اپنی عشرت گاہیں، سیر و تفریح کے مرکز اور باغ باغیچے بناتے ہیں۔ اور جب تک آدمی کسی قبر کے پاس سے گزرتا ہوا الخ کا مطلب یہ ہے کہ یا تو دینی معاملات میں غم وفکر کی کثرت کی وجہ سے یا آفات اور بلاؤں کی زیادتی کی وجہ سے، قبروں کو دیکھ کر احساس دل اور آخرت میں یقین رکھنے والے لوگ یہ کہنا شروع کردیں گے کہ کاش ہم اس دنیا میں نہ ہوتے اور ان قبروں میں پڑے ہوتے تاکہ ہمیں ان آفات اور بلاؤں کو دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ جب تک کہ آفتاب مغرب کی طرف سے طلوع نہ ہوگا اس بات (کہ سورج مغرب کی طرف سے نکلے گا) کی وضاحت انشاء اللہ آگے باب العلامات بین یدی الساعۃ میں ذکر ہوگی، اس موقع پر تو اتنا بتادینا کافی ہے کہ جس دن آفتاب مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا اس دن سے توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا، اس کے بعد سے کسی کی بھی توبہ قبول نہیں ہوگی جیسا کہ خود حدیث میں فرمایا گیا ہے۔ اس وقت اس کا ایمان لانا نفع نہ دے گا الخ بعض حضرات نے اس عبارت کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ آفتاب جب مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا تو اس وقت توبہ کا دروزہ بند ہوجائے گا پس اس وقت یا اس کے بعد کسی شخص کا ایمان لانا کہ جو اس دن سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا اور کسی شخص کا نیکی کرنا کہ جس نے اس دن سے پہلے نیکی نہیں کی تھی، کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا واضح رہے کہ یہاں نیکی سے مراد توبہ ہے، یعنی جس طرح اس دن اس شخص کا ایمان لانا فائدہ مند نہیں ہوگا اس طرح اس دن اس کا گناہوں سے توبہ کرنا بھی فائدہ مند نہیں ہوگا اس سے معلوم ہوا کہ آیت (او کسبت فی ایمانہا خیرا) میں لفظ او تنویع کے لئے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے گویا یہ فرمایا کہ اس دن نہ تو شرک سے توبہ کرنا کار آمد ہوگا اور نہ گناہوں سے توبہ کرنا کچھ فائدہ پہنچائے گا۔ کہ دو شخصوں نے اپنا کپڑا کھول رکھا ہوگا میں ان دونوں کی طرف کپڑے کی اضافت اس اعتبار سے ہے کہ ان میں سے ایک شخص یعنی فروخت کرنے والا تو اس کپڑے کے مالک ہی ہوتا اور جو دوسرا شخص یعنی خریدار ہوگا وہ چونکہ اس کپڑے کا طالب اور لینے والا ہوگا لہٰذا اس اعتبار سے کپڑے کی اضافت اس کی طرف بھی کردی گئی ہے۔ حدیث کے آخری اجزاء کا ماحص گویا یہ واضح کرنا ہے کہ قیامت اچانک آئے گی، تمام لوگ اپنے کاروبار میں مشغول ومنہمک ہوں گے کہ یکایک قیامت کا پنجہ سب کو آدبوچے گا، کسی کو اتنی مہلت بھی نہیں ملے گی کہ اس نے کھانے کا جو لقمہ ہاتھ میں رکھ لیا ہے اس کو منہ ہی میں رکھ لے۔ واضح رہے کہ قیامت کے اچانک آنے سے مراد پہلے صورت کا اچانک پھونکا جانا ہے، جس کی آواز سے سب لوگ مرجائیں گے، لیکن اس سے پہلے قیامت کی تمام علامتیں دیکھیں گے۔
تشریح
اور دونوں کا ایک ہی دعویٰ ہوگا کا مطلب یہ ہے کہ آپس میں لڑنے والے وہ دونوں گروہ دین اسلام کا دعویٰ رکھنے والے ہوں گے اور ان دونوں گروہوں سے تعلق رکھنے والا ہر شخص مسلمان ہوگا یا یہ کہ وہ دونوں گروہ جو مسلمان ہوں گے حق پر دعویٰ کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہ گمان عقیدہ رکھے گا کہ دین و دیانت اور اصول کے اعتبار سے بالکل صحیح راستہ وہی اختیار کئے ہوئے ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ اس ارشاد گرامی میں جن دو گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے ان سے حضرت علی (رض) اور حضرت امیر معاویہ (رض) کے تابعدار ساتھی مراد ہیں۔ جیسا کہ حضرت علی (رض) نے حضرت امیر معاویہ (رض) کے بارے میں فرمایا تھا کہ اخواننا بغوا علینا (یعنی وہ لوگ ہمارے بھائی ہیں جنہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کردی ہے) اسی طرح ایک روایت میں یہ بھی منقول ہے کہ اس زمانہ میں جب کہ حضرت علی (رض) اور حضرت امیر معاویہ (رض) کے لشکر ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما تھے اور حضرت علی (رض) کے لشکر کا ایک شخص حضرت امیر معاویہ (رض) کے ایک آدمی کو قیدی بنا کر حضرت علی (رض) کی خدمت میں لایا، ایک دوسرے شخص نے اس قیدی کو دیکھ کر اس کی حالت پر تاسف کا اظہار کیا اور کہنے لگا کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ مسلمان پختہ اسلام کا حامل تھا۔ حضرت علی (رض) نے یہ سنا تو ناگوار کے ساتھ فرمایا کہ تم یہ کیا کہہ رہے ہو ؟ یہ شخص تو اب بھی مسلمان ہے۔ پس یہ حدیث خوارج کے قول کو باطل ثابت کرتی ہے جو کہتے ہیں کہ دونوں جماعتیں یعنی حضرت علی (رض) کے تابعدار بھی اور حضرت امیر معاویہ (رض) کے تابعدار بھی کافر ہیں۔ اسی طرح اس حدیث کے ذریعے روافض کے اس قول کا باطل ہونا ثابت ہوجاتا ہے کہ حضرت علی (رض) کے مخالف کافر ہیں۔ ان کی تعداد تیس کے قریب ہوگی اس طرح کی ایک حدیث گزشتہ باب میں گزری ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی تعداد تیس ہوگی اور یہاں ان کی تعداد تیس کے قریب فرمائی ہے تو ہوسکتا ہے کہ پہلی حدیث میں آپ ﷺ نے متعین طور پر ذکر تو تیس کی تعداد کا فرمایا لیکن مراد یہی ہو کہ ان کی تعداد تیس کے قریب ہوگی یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ پیچھے جو حدیث گزری ہے وہ یہاں نقل کی جانے والی حدیث کے بعد کے زمانے کی ہے۔ گویا اس بارے میں پہلے آپ ﷺ کے پاس جو وحی آئی تھی اور اس سے بطریق اجمال وابہام جو بات آپ ﷺ کو معلوم ہوئی وہ آپ ﷺ نے بیان فرما دی کہ ان کی تعداد تیس کے قریب ہوگی لیکن پھر بعد میں دوسری وحی کے ذریعے اس تعداد کو مقید و متعین فرمایا دیا گیا۔ چناچہ اس وحی کے آنے کے بعد آپ ﷺ نے جو حدیث ارشاد فرمائی اس میں فرمایا کہ ان کی تعداد تیس ہوگی۔ اسی طرح تیس کی تعداد والی یہ حدیث اس روایت کے منافی نہیں ہے جس کو طبرانی نے حضرت ابن عمرو (رض) سے نقل کیا کہ لاتقوم الساعۃ حتی یخرج سبعون کذابا۔ کیونکہ حضرت ابن عمرو کی روایت کا مقصد محض ان جھوٹوں کی کثرت کو ظاہر کرنا ہے، ان کی کسی خاص تعداد کا بیان نہیں۔ یا یہ کہ ستر میں سے تیس تو وہ ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے اور باقی جھوٹے وہ ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ نہیں کریں گے اور ایک احتمال یہ بھی ہے کہ ستر کی جو تعداد ذکر فرمائی گئی ہے وہ تیس کے علاوہ اور اس طرح سب کی مجموعی تعداد سو مراد ہو۔ جب تک علم نہ اٹھا لیا جائے گا میں علم سے مراد وہ خاص علم ہے جو شریعت میں نفع دینے والا علم کہلاتا ہے اور وہ قرآن و حدیث اور ان کے متعلقات کا علم ہے اور جس کو دین کا علم بھی کہا جاسکتا ہے، نیز علم کے اٹھ جانے سے مراد اہل سنت والجماعت کے علماء کا اس دنیا سے رخصت ہوجانا ہے۔ چناچہ جب علم کے حامل اور علم پہنچانے والے ہی اس دنیا سے اٹھ جائیں گے تو گویا علم ہی اس دنیا سے اٹھ جائے گا۔ ، پس آخری زمانہ کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ اس وقت مخلص وبا عمل اور حقیقی عالم تو رخصت ہوجائیں گے اور دنیا میں جاہل وبے علم اور بدعتی لوگوں کی کثرت ہوجائے گی۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ ایک عالم کی موت عالم کی موت ہے۔ جب تک کہ زلزلوں کی کثرت نہ ہوجائے گی میں زلزلوں سے مراد یا تو حسی یعنی واقعی زلزلے ہیں کہ زمین کا ہلنا اور بھونچال کا آنا کثرت سے ہوجائے گا یا یہاں زلزلے کے لغوی معنی مراد ہیں کہ طرح طرح کی آفتیں وبلائیں نازل ہوں گی۔ اور نت نئے حادثات انسان، جان ومال کو نقصان پہنچانے لگیں گے۔ جب تک زمانہ قریب نہ ہوجائے گا سے حضرت امام مہدی کے مبارک زمانہ کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے چونکہ اس وقت تمام روئے زمین میں امن وامان اور خوشی ومسرت کا گہوارہ بن جائے گا اور لوگوں کی زندگی نہایت اطمینان و سکون اور سرور و شادمانی کے ساتھ گزرے گی اس لئے وقت کی رفتار تیز تر معلوم ہوگی اور زمانہ بہت مختصر معلوم ہونے لگے گا جیسا کہ عیش و راحت کا زمانہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو بہت مختصر معلوم ہوتا ہے اور مصیبت و سختی کا زمانہ کتنا ہی مختصر کیوں ہو نہ بہت طویل معلوم ہوتا ہے۔ ویکثر الہرج وہو القتل میں وہو القتل کے الفاظ کسی راوی کے ہیں جس کے ذریعے انہوں نے لفظ ہرج کی وضاحت کی ہے کہ اس لفظ سے مراد قتل و قتال کا واقع ہونا ہے جو فتنے کے سبب وجود میں آئے گا۔ حتی یہم رب المال کے بارے میں کئی اقوال ہیں ایک تو یہ کہ لفظ یہم کو حرف یا کے پیش اور ہ کے زیر کے ساتھ پڑھا جائے اور رب کو یہم کا مفعول ہونے کی بنا پر منصوب قرار دیا جائے، اس صورت میں یہم کا فاعل لفظ فقدان کو قرار دیں گے۔ من یقبل الصدقت کا مضاف محذوف ہے۔ یہ قول زیادہ مشہور ہے اور اس کے مطابق پوری عبارت کے معنی یہ ہوں گے کہ اس وقت جب کہ قیامت کا زمانہ قریب ہوگا لوگوں کے پاس مال و دولت اور روپیہ پیسہ کی اس طرح فراوانی اور کثرت ہوجائے گی کہ صدقہ و خیرات کا مال لینے والا، صدقہ و خیرات کرنے والے کو ڈھونڈھے نہیں ملیں گے۔ یہاں تک کہ اس شخص کا ڈھونڈھنا سخت پریشانی اور قلق میں مبتلا کرے گا جو صدقہ و خیرات کے مال کو قبول کرلے یعنی مالدار شخص کسی مفلس و فقیر شخص ڈھونڈھتا پھرے گا، تاکہ زکوٰۃ و صدقہ کا مال اسے دے سکے مگر پورے معاشرہ میں ضرورت مند و محتاج لوگوں کی کمی کے باعث مشکل ہی سے کوئی فقیر ومفلس اس کو مل پائے گا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہم کو لفظ ہم (بمعنی قصد و ارادہ) سے مشتق قرار دے کر حرف ی کو زبر کے ساتھ اور ہ کو پیش کے ساتھ پڑھا جائے نیز رب کو مرفوع قرار دیا جائے اس صورت میں رب المال، یہم کا فاعل ہوگا اور من یقبل کا مفعول اس طرح عبارت کے معنی یہ ہوں گے کہ اس وقت جب کہ قیامت کا زمانہ قریب ہوگا تمہارے پاس مال و دولت کی بہت زیادتی ہوجائے گی یہاں تک کہ ایک مالدار آدمی کسی ایسے شخص کی تلاش کا قصد کرے گا اور اس کو بہت ڈھونڈے گا جو اس کے صدقہ و خیرات کا مال لے لے۔ اور تیسرا قول یہ ہے کہ لفظ یہم فعل متعدی ہے جس کے معنی غمگین کرنے کے آتے ہیں اس صورت میں حرف ی کو زبر کے ساتھ اور ہ کے پیش کے ساتھ پڑھا جائے اور رب کو منصوب قرار دیا جائے اس طرح اس عبارت کے معنی یہ ہوں گے کہ کسی ایسے فقیر ومفلس کا پایا جانا کہ جو صدقہ و خیرات کا مال قبول کرے، مالدار شخص کو غمگین کرے گا۔ جب تک کہ عمارتوں کے بنانے پر فخر نہ کرنے لگیں یعنی لوگ محض رہائشی ضروریات کی تکمیل کے لئے یا کسی نیک مقصد کی خاطر لمبی چوڑی عمارتیں نہیں بنائیں گے بلکہ وہ فلک بوس اور محل نما عمارتیں محض اپنی شان و شوکت اور اپنی امارت کو ظاہر کرنے اور فخر ومباہات کی خاطر بنائیں گے جیسا کہ اس زمانہ میں ہو رہا ہے کہ مالدار اور رئیس لوگ بڑے بڑے مکانات بنانا فخر کی بات سمجھتے ہیں اور بڑی بڑی بلڈنگیں کھڑی کر کے اپنی جھوٹی شان و شوکت ظاہر کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اس مقصد کے لئے عبادت گاہوں اور رفاہی عمارتوں اور قبرستانوں تک کو مسمار اور زمین دوز کرنے سے گریز نہیں کرتے اور ان کی جگہ پر اپنی عشرت گاہیں، سیر و تفریح کے مرکز اور باغ باغیچے بناتے ہیں۔ اور جب تک آدمی کسی قبر کے پاس سے گزرتا ہوا الخ کا مطلب یہ ہے کہ یا تو دینی معاملات میں غم وفکر کی کثرت کی وجہ سے یا آفات اور بلاؤں کی زیادتی کی وجہ سے، قبروں کو دیکھ کر احساس دل اور آخرت میں یقین رکھنے والے لوگ یہ کہنا شروع کردیں گے کہ کاش ہم اس دنیا میں نہ ہوتے اور ان قبروں میں پڑے ہوتے تاکہ ہمیں ان آفات اور بلاؤں کو دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ جب تک کہ آفتاب مغرب کی طرف سے طلوع نہ ہوگا اس بات (کہ سورج مغرب کی طرف سے نکلے گا) کی وضاحت انشاء اللہ آگے باب العلامات بین یدی الساعۃ میں ذکر ہوگی، اس موقع پر تو اتنا بتادینا کافی ہے کہ جس دن آفتاب مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا اس دن سے توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا، اس کے بعد سے کسی کی بھی توبہ قبول نہیں ہوگی جیسا کہ خود حدیث میں فرمایا گیا ہے۔ اس وقت اس کا ایمان لانا نفع نہ دے گا الخ بعض حضرات نے اس عبارت کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ آفتاب جب مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا تو اس وقت توبہ کا دروزہ بند ہوجائے گا پس اس وقت یا اس کے بعد کسی شخص کا ایمان لانا کہ جو اس دن سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا اور کسی شخص کا نیکی کرنا کہ جس نے اس دن سے پہلے نیکی نہیں کی تھی، کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا واضح رہے کہ یہاں نیکی سے مراد توبہ ہے، یعنی جس طرح اس دن اس شخص کا ایمان لانا فائدہ مند نہیں ہوگا اس طرح اس دن اس کا گناہوں سے توبہ کرنا بھی فائدہ مند نہیں ہوگا اس سے معلوم ہوا کہ آیت (او کسبت فی ایمانہا خیرا) میں لفظ او تنویع کے لئے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے گویا یہ فرمایا کہ اس دن نہ تو شرک سے توبہ کرنا کار آمد ہوگا اور نہ گناہوں سے توبہ کرنا کچھ فائدہ پہنچائے گا۔ کہ دو شخصوں نے اپنا کپڑا کھول رکھا ہوگا میں ان دونوں کی طرف کپڑے کی اضافت اس اعتبار سے ہے کہ ان میں سے ایک شخص یعنی فروخت کرنے والا تو اس کپڑے کے مالک ہی ہوتا اور جو دوسرا شخص یعنی خریدار ہوگا وہ چونکہ اس کپڑے کا طالب اور لینے والا ہوگا لہٰذا اس اعتبار سے کپڑے کی اضافت اس کی طرف بھی کردی گئی ہے۔ حدیث کے آخری اجزاء کا ماحص گویا یہ واضح کرنا ہے کہ قیامت اچانک آئے گی، تمام لوگ اپنے کاروبار میں مشغول ومنہمک ہوں گے کہ یکایک قیامت کا پنجہ سب کو آدبوچے گا، کسی کو اتنی مہلت بھی نہیں ملے گی کہ اس نے کھانے کا جو لقمہ ہاتھ میں رکھ لیا ہے اس کو منہ ہی میں رکھ لے۔ واضح رہے کہ قیامت کے اچانک آنے سے مراد پہلے صورت کا اچانک پھونکا جانا ہے، جس کی آواز سے سب لوگ مرجائیں گے، لیکن اس سے پہلے قیامت کی تمام علامتیں دیکھیں گے۔
5316
Mishkaat Shareefوعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما نعالهم الشعر وحتى تقاتلوا الترك صغار الأعين حمر الوجوه ذلف الأنوف كأن وجوههم المجان المطرقة
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ قیامت اس دن تک نہیں آئے گی جب تک تم اس قوم سے جنگ نہ کرلو گے جن کی پاپوشیں بالدار چمڑے کی ہوں گی اور جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کرلو گے جن کی آنکھیں چھوٹی، چہرے سرخ اور ناکیں بیٹھی ہوئی ہوں گی، گویا ان کے منہ چمڑے کی تہ بہ تہ ڈھال کی طرح ہوں گے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
ترکوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا سلسلہ نسب یافث بن نوح سے چلا جاتا تھا ان لوگوں کے مورث اعلیٰ کا نام ترک تھا اس سے پوری قوم کو ترک کہا جانے لگا یہ وہی قوم ہے جس کو مگولین یا تاتاری بھی کہا جاتا ہے۔ ، مجان (میم کے زبر اور نون کے تشدید کے ساتھ) اصل میں مجن (میم کے زیر کے ساتھ) کی جمع ہے جس کے معنی سپر ڈھال کے ہیں اس قوم کے لوگوں کے منہ کو ڈھال کے ساتھ تشبیہ اس اعتبار سے دی گئی ہے کہ ان کے چہرے پھیلے ہوئے ہوتے ہیں، نیز ان کے چہرے چونکہ گولائی کے ساتھ پھیلے ہوئے اور گوشت سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اس لئے گویا ان کے چہرے کی گولائی اور گوشت سے بھرے ہوئے ہونے کو مطرقہ یعنی اس ڈھال کے ساتھ تشبیہ دی جو تہ دار چمڑے کی بنی ہوئی ہوتی ہے۔
تشریح
ترکوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا سلسلہ نسب یافث بن نوح سے چلا جاتا تھا ان لوگوں کے مورث اعلیٰ کا نام ترک تھا اس سے پوری قوم کو ترک کہا جانے لگا یہ وہی قوم ہے جس کو مگولین یا تاتاری بھی کہا جاتا ہے۔ ، مجان (میم کے زبر اور نون کے تشدید کے ساتھ) اصل میں مجن (میم کے زیر کے ساتھ) کی جمع ہے جس کے معنی سپر ڈھال کے ہیں اس قوم کے لوگوں کے منہ کو ڈھال کے ساتھ تشبیہ اس اعتبار سے دی گئی ہے کہ ان کے چہرے پھیلے ہوئے ہوتے ہیں، نیز ان کے چہرے چونکہ گولائی کے ساتھ پھیلے ہوئے اور گوشت سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اس لئے گویا ان کے چہرے کی گولائی اور گوشت سے بھرے ہوئے ہونے کو مطرقہ یعنی اس ڈھال کے ساتھ تشبیہ دی جو تہ دار چمڑے کی بنی ہوئی ہوتی ہے۔
5317
Mishkaat Shareefوعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا خوزا وكرمان من الأعاجم حمر الوجوه فطس الأنوف صغار الأعين وجوههم المجان المطرقة نعالهم الشعر رواه البخاري . وفي راوية له وعن عمرو بن تغلب عراض الوجوه
حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ تم خوز اور کرمان کے لوگوں سے جو کہ اہل عجم میں سے ہیں، جنگ نہ کرلو گے، ان لوگوں کے چہرے سرخ، ناک بیٹھی ہوئی اور آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور چہرے اس طرح کے ہوں گے جیسے تہ بہ تہ چمڑے کی ڈھال ہوتی ہے اور ان کی پاپوشیں بالدار چمڑے کی ہوں گی۔ (بخاری) اور بخاری کی ایک اور روایت میں جو عمرو بن تغلب سے منقول ہے ان کے چہرے سرخ ہوں گے کے بجائے یہ الفاظ ہیں کہ ان کے چہرے چوڑے چکلے ہوں گے۔
تشریح
خوز اس قوم کا نام ہے جو خوزستان میں رہتی ہے اور کرمان ایک مشہور شہر کا نام ہے جو فارس ایران میں واقع ہے۔
تشریح
خوز اس قوم کا نام ہے جو خوزستان میں رہتی ہے اور کرمان ایک مشہور شہر کا نام ہے جو فارس ایران میں واقع ہے۔
5318
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تقوم الساعة حتى يقاتل المسلمون اليهود فيقتلهم المسلمون حتى يختبئ اليهودي من وراء الحجر والشجر فيقول الحجر والشجر يا مسلم يا عبد الله هذا يهودي خلفي فتعال فاقتله إلا الغرقد فإنه من شجر اليهود
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے نہ لڑ لیں گے چناچہ اس لڑائی میں مسلمان یہودیوں کو بڑی مار ماریں گے یعنی ان پر غالب آجائیں گے یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپتا پھرے گا اور وہ پتھر درخت یہ کہے گا کہ اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، ادھر آ میرے پیچھے یہودی چھپا بیٹھا ہے اس کو مار ڈال، مگر غرقد ایسا نہ کہے گا کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔ (مسلم)
تشریح
غرقد ایک درخت کا نام ہے جو خاردار جھاڑی کی صورت میں ہوتا ہے، مدینہ کا قبرستان جنت البقیع کا اصل نام بقیع الغرقد اسی لئے ہے کہ جس جگہ یہ قبرستان ہے پہلے وہ غرقد کی جھاڑیوں کا خطہ تھا۔ حاصل یہ کہ جب مسلمان، یہودیوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ کریں گے اور ان پر غلبہ پالیں گے تو اس وقت ایک ایک یہودی درختوں اور پتھروں کے پیچھے چھپتا پھرے گا تاکہ مسلمانوں کی مار سے بچ جائے مگر جس درخت یا پتھر کے پیچھے کوئی یہودی چھپا ہوگا وہ پکار کر مسلمانوں سے کہے گا کہ ادھر آ کر دیکھو، میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے اس کا کام تمام کردو، البتہ اس وقت غرقد ایسا درخت ہوگا جو دوسرے درختوں کے برخلاف اپنے پیچھے چھپے ہوئے یہودی کو ظاہر نہیں کرے گا بلکہ اس کو پناہ دے گا اور مسلمانوں کو اس کا پتہ نہیں بتائے گا۔ رہی یہ بات کہ دوسرے درختوں کے برخلاف غرقد کا رویہ ایسا کیوں ہوگا تو ہوسکتا ہے کہ غرقد کو یہودیوں کے ساتھ کوئی خاص نسبت وتعلق ہوگا جس کی حقیقت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اس حدیث میں یہودیوں کے عبرت ناک حشر کی جو پیش گوئی فرمائی ہے آخر زمانے میں دجال کے ظاہر ہونے کے بعد پوری ہوگی، اس وقت یہودی دجال کے تابع اور فرمانبردار ہونے کی حیثیت سے اور اس کی مدد کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف جنگ کریں گے لیکن مسلمان اپنے اللہ کی مدد کے ساتھ یہودیوں کے فتنہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیں گے۔
تشریح
غرقد ایک درخت کا نام ہے جو خاردار جھاڑی کی صورت میں ہوتا ہے، مدینہ کا قبرستان جنت البقیع کا اصل نام بقیع الغرقد اسی لئے ہے کہ جس جگہ یہ قبرستان ہے پہلے وہ غرقد کی جھاڑیوں کا خطہ تھا۔ حاصل یہ کہ جب مسلمان، یہودیوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ کریں گے اور ان پر غلبہ پالیں گے تو اس وقت ایک ایک یہودی درختوں اور پتھروں کے پیچھے چھپتا پھرے گا تاکہ مسلمانوں کی مار سے بچ جائے مگر جس درخت یا پتھر کے پیچھے کوئی یہودی چھپا ہوگا وہ پکار کر مسلمانوں سے کہے گا کہ ادھر آ کر دیکھو، میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے اس کا کام تمام کردو، البتہ اس وقت غرقد ایسا درخت ہوگا جو دوسرے درختوں کے برخلاف اپنے پیچھے چھپے ہوئے یہودی کو ظاہر نہیں کرے گا بلکہ اس کو پناہ دے گا اور مسلمانوں کو اس کا پتہ نہیں بتائے گا۔ رہی یہ بات کہ دوسرے درختوں کے برخلاف غرقد کا رویہ ایسا کیوں ہوگا تو ہوسکتا ہے کہ غرقد کو یہودیوں کے ساتھ کوئی خاص نسبت وتعلق ہوگا جس کی حقیقت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اس حدیث میں یہودیوں کے عبرت ناک حشر کی جو پیش گوئی فرمائی ہے آخر زمانے میں دجال کے ظاہر ہونے کے بعد پوری ہوگی، اس وقت یہودی دجال کے تابع اور فرمانبردار ہونے کی حیثیت سے اور اس کی مدد کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف جنگ کریں گے لیکن مسلمان اپنے اللہ کی مدد کے ساتھ یہودیوں کے فتنہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیں گے۔
5319
Mishkaat Shareefوعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تقوم الساعة حتى يخرج رجل من قحطان يسوق الناس بعصاه
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ قحطان میں سے ایک شخص پیدا نہ ہو لے گا جو لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے گا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
قحطان اس قوم کو کہا جاتا ہے جو اس زمانہ میں یمن سے عمان تک کے علاقے میں آباد تھی، یہ قوم دراصل ارفخشد بن سام بن نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے اس شاخ کی نسل ہے جس کے مورث قحطان تھے۔ چناچہ اس نسل کے لوگوں کو قحطان کہا جاتا ہے یمن کے لوگ اسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے گا سے مراد اس شخص کا مکمل تسلط و اقتدار ہے کہ لوگ اس کی اطاعت و پیروی کریں گے۔ اس کو متفقہ طور پر اپنا سردار مانین گے اور وہ شخص جابرانہ تسلط و تسخیر کے ذریعے ان لوگوں کو اس طرح اپنے قابو میں رکھے گا کہ کوئی بھی آدمی اس کی اطاعت سے انحراف کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ اور ایک احتمال یہ ہے کہ یہاں ہانکنے سے مراد حقیقی طور پر ہانکنا ہو یعنی وہ جن لوگوں پر غلبہ پالے گا ان کو اپنے عصاء کے ذریعے اس طرح ہانکتا پھرے گا، جس طرح کوئی گلہ بان اپنے جانوروں کو ہانکا کرتا ہے، نیز بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں حدیث میں جس قحطانی شخص کا ذکر کیا گیا ہے وہ شاید وہی شخص ہو جس کو اگلی حدیث میں جہجاہ کہہ کر ذکر کیا گیا ہے۔
تشریح
قحطان اس قوم کو کہا جاتا ہے جو اس زمانہ میں یمن سے عمان تک کے علاقے میں آباد تھی، یہ قوم دراصل ارفخشد بن سام بن نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے اس شاخ کی نسل ہے جس کے مورث قحطان تھے۔ چناچہ اس نسل کے لوگوں کو قحطان کہا جاتا ہے یمن کے لوگ اسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے گا سے مراد اس شخص کا مکمل تسلط و اقتدار ہے کہ لوگ اس کی اطاعت و پیروی کریں گے۔ اس کو متفقہ طور پر اپنا سردار مانین گے اور وہ شخص جابرانہ تسلط و تسخیر کے ذریعے ان لوگوں کو اس طرح اپنے قابو میں رکھے گا کہ کوئی بھی آدمی اس کی اطاعت سے انحراف کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ اور ایک احتمال یہ ہے کہ یہاں ہانکنے سے مراد حقیقی طور پر ہانکنا ہو یعنی وہ جن لوگوں پر غلبہ پالے گا ان کو اپنے عصاء کے ذریعے اس طرح ہانکتا پھرے گا، جس طرح کوئی گلہ بان اپنے جانوروں کو ہانکا کرتا ہے، نیز بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں حدیث میں جس قحطانی شخص کا ذکر کیا گیا ہے وہ شاید وہی شخص ہو جس کو اگلی حدیث میں جہجاہ کہہ کر ذکر کیا گیا ہے۔
5320
Mishkaat Shareefوعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تذهب الأيام والليالي حتى يملك رجل يقال له الجهجاه . وفي رواية حتى يملك رجل من الموالي يقال له الجهجاه . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ دن و رات اس وقت تک تمام نہیں ہوں گے (یعنی اس وقت تک زمانہ کا اختتام نہیں ہوگا اور قیامت نہیں آئے گی) جب تک کہ وہ شخص مالک نہ ہوجائے گا یعنی لوگوں پر اقتدار و تسلط نہ پالے گا جس کو جہجاہ کہا جائے گا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جب تک موالی میں سے ایک شخص مالک ہوجائے گا یعنی لوگوں پر اقتدار و تسلط نہ پالے گا جس کو جہجاہ کہا جائے گا۔ (مسلم)
تشریح
موالی مولیٰ کی جمع ہے جس کے معنی غلام کے ہیں۔ لفظ جہجاہ بعض نسخوں میں تو دو ہ کے ساتھ منقول ہے اور بعض نسخوں میں آخری ہ کے بغیر یعن جہجا منقول ہے۔
تشریح
موالی مولیٰ کی جمع ہے جس کے معنی غلام کے ہیں۔ لفظ جہجاہ بعض نسخوں میں تو دو ہ کے ساتھ منقول ہے اور بعض نسخوں میں آخری ہ کے بغیر یعن جہجا منقول ہے۔
5321
Mishkaat Shareefوعن جابر بن سمرة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لتفتحن عصابة من المسلمين كنز آل كسرى الذي في الأبيض . رواه مسلم . (
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بلا شبہ مسلمانوں کی ایک جماعت آل کسریٰ کے خزانہ کو برآمد کرلے گی جو سفید محل میں ہے۔ (مسلم)
تشریح
آل کسری میں آل لفظ زائد ہے یا اس لفظ سے کسریٰ کے لواحقین، خاندان اور رعایا کے لوگ مراد ہیں۔ لفظ کسری اصل میں خسرو کا معرب ہے اس زمانے میں فارس ایران کے بادشاہ کا لقب خسرو یا کسری ہوتا تھا جیسا کہ روم کے بادشاہ کو قیصر، چین کے بادشاہ کو خاقان، مصر کے بادشاہ کو فرعون، یمن کے بادشاہ کو قیل اور حبش کے بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا تھا۔ ابیض ایک محل کا نام ہے جو مدائن میں واقع تھا اور جس کو اہل فارس سفید کو شک کہا کرتے تھے، اس شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہونے کے بعد اس محل کی جگہ ایک مسجد جو اب بھی ہے۔ نیز حضور ﷺ کسریٰ کے خزانہ کے برآمد ہونے کے بارے میں پیشین گوئی فرمائی تھی وہ حضرت عمر (رض) کے زمانہ خلافت میں پوری ہوئی اور فاتح مسلمانوں نے اس خزانے کو نکالا۔
تشریح
آل کسری میں آل لفظ زائد ہے یا اس لفظ سے کسریٰ کے لواحقین، خاندان اور رعایا کے لوگ مراد ہیں۔ لفظ کسری اصل میں خسرو کا معرب ہے اس زمانے میں فارس ایران کے بادشاہ کا لقب خسرو یا کسری ہوتا تھا جیسا کہ روم کے بادشاہ کو قیصر، چین کے بادشاہ کو خاقان، مصر کے بادشاہ کو فرعون، یمن کے بادشاہ کو قیل اور حبش کے بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا تھا۔ ابیض ایک محل کا نام ہے جو مدائن میں واقع تھا اور جس کو اہل فارس سفید کو شک کہا کرتے تھے، اس شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہونے کے بعد اس محل کی جگہ ایک مسجد جو اب بھی ہے۔ نیز حضور ﷺ کسریٰ کے خزانہ کے برآمد ہونے کے بارے میں پیشین گوئی فرمائی تھی وہ حضرت عمر (رض) کے زمانہ خلافت میں پوری ہوئی اور فاتح مسلمانوں نے اس خزانے کو نکالا۔
5322
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم هلك كسرى فلا يكون كسرى بعده وقيصر ليهلكن ثم لا يكون قيصر بعده ولتقسمن كنوزهما في سبيل الله وسمى الحرب خدعة
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کسریٰ ہلاک ہوگیا، اس کسری کے بعد اور کوئی کسری نہیں ہوگا اور یقینا قیصر یعنی روم کا بادشاہ بھی ہلاک ہوگا جس کے بعد کوئی اور قیصر نہیں ہوگا، نیز ان دونوں بادشاہوں کے خزانے اللہ کی راہ میں تقسیم کئے جائیں گے۔ اور آنحضرت ﷺ نے جنگ کا نام دھوکہ اور فریب رکھا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
کسریٰ ہلاک ہوگیا یہ جملہ خبریہ ہے، جس سے یہ مفہوم مراد ہے کہ عنقریب کسریٰ کا ملک تباہ وپامال ہوجائے گا۔ اس بات کو ادا کرنے کے لئے ماضی کا صیغہ اس اعتبار سے استعمال فرمایا گیا ہے کہ اس بات کا وقوع پذیر ہونا ایک یقینی امر تھا یا ماضی کا صیغہ استعمال فرمانا دعا اور نیک فالی کے طور پر تھا۔ کوئی اور کسریٰ نہیں ہوگا یعنی آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں جو کسریٰ تھا اس کے بارے میں آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ بس یہ آخری کسریٰ ہے اس کے بعد کسی اور کو کسریٰ بننا نصیب نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ بات اس وقت فرمائی تھی جب آپ ﷺ کو معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے دعوت اسلام پر مشتمل اپنا جو مکتوب گرامی کسریٰ کو ایک قاصد کے ذریعے بھیجا تھا اس کو اس کسریٰ نے از راہ نخوت پھاڑ کر ریزہ ریزہ کردیا۔ وسمی الحرب خدعۃ (اور آنحضرت ﷺ نے جنگ کا نام دھوکہ اور فریب رکھا) یہ جملہ قال رسول اللہ ﷺ الخ پر عطف ہے یعنی راوی نے حضور ﷺ کا ارشاد گرامی نقل کرنے کے بعد یہ کہا کہ وسمی الحرب خدعۃ حاصل یہ کہ جب حضور ﷺ نے یہ بشارت بیان فرمائی کہ مسلمانوں کو قیصر وکسریٰ کے ملکوں پر فتح حاصل ہوجائے گی اور وہ ان کے اموال و جائیداد اور خزانوں پر قبضہ و تسلط پالیں گے تو سب کے ذہن میں یہی بات آئی ہوگی کہ یہ چیزیں جنگ کے بغیر حاصل نہیں ہوں گی اور جنگ ایسی چیز ہے جو زیادہ تر دھوکہ اور فریب کی محتاج ہوتی ہے، اس لئے آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو آگاہ فرمایا کہ جنگ کے موقع پر اس وہم میں نہ پڑجانا کہ جنگی دھوکہ اور فریب عہد شکنی اور خیانت اور بددیانتی کی قسم سے ہے، بلکہ اس حقیقت کو ذہن میں رکھنا کہ دشمنوں کے ساتھ برسر جنگ ہونے کی صورت میں حکمت عملی کے طور پر ایسے فریب اور حیلوں کو اختیار کرنا ضروری ہوجاتا ہے جو جنگ کے جیتنے اور طاقت ومدد حاصل کرنے میں بڑا دخل رکھتے ہیں۔ مثلا دشمن پر رعب ڈالنے کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کے ذہن پر اپنی طاقت کی زیادتی اور اسلحہ جات کی برتری کا سکہ جما دیا جائے اس مقصد کے لئے فرضی کار روائیوں اور جھوٹے سچے بیانات کا سہارا لیا جاسکتا ہے، یا میدان جنت میں دشمن کی آنکھ میں دھول جھونکنے کے لئے میدان سے ہٹ جانا اور پیچھے لوٹ آنا تاکہ دشمن یہ سمجھے کہ مقابل لڑنے کی تاب نہ رکھنے کی وجہ سے میدان چھوڑ کر بھاگ گیا ہے اور جب دشمن اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کر غافل ہوجائے تو کسی طرف سے اچانک اس پر ٹوٹ پڑنا یہ اور اس طرح کی دوسری کاروائیاں ایسے حیلے ہیں جن کو جنگی حکمت عملی کے طور پر اختیار کرنے کی اجازت ہے لیکن واضح رہے کہ عہد شکنی کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہے جو عہد و اقرار ہوجائے اس پر عمل کرنا بہر صورت ضروری ہے کسی معاہدہ کو توڑنا ہرگز درست نہیں۔ لفظ خدعۃ اگرچہ خ کے پیش کے ساتھ نقل کیا ہے اور زبر کے ساتھ بھی، اس طرح دال کے جزم اور پیش کے ساتھ بھی نقل کیا جاتا ہے اور زبر کے ساتھ بھی، لیکن یہ لفظ خ کے زبر اور دال کے جزم کے ساتھ زیادہ فصیح ہے۔
تشریح
کسریٰ ہلاک ہوگیا یہ جملہ خبریہ ہے، جس سے یہ مفہوم مراد ہے کہ عنقریب کسریٰ کا ملک تباہ وپامال ہوجائے گا۔ اس بات کو ادا کرنے کے لئے ماضی کا صیغہ اس اعتبار سے استعمال فرمایا گیا ہے کہ اس بات کا وقوع پذیر ہونا ایک یقینی امر تھا یا ماضی کا صیغہ استعمال فرمانا دعا اور نیک فالی کے طور پر تھا۔ کوئی اور کسریٰ نہیں ہوگا یعنی آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں جو کسریٰ تھا اس کے بارے میں آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ بس یہ آخری کسریٰ ہے اس کے بعد کسی اور کو کسریٰ بننا نصیب نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ بات اس وقت فرمائی تھی جب آپ ﷺ کو معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے دعوت اسلام پر مشتمل اپنا جو مکتوب گرامی کسریٰ کو ایک قاصد کے ذریعے بھیجا تھا اس کو اس کسریٰ نے از راہ نخوت پھاڑ کر ریزہ ریزہ کردیا۔ وسمی الحرب خدعۃ (اور آنحضرت ﷺ نے جنگ کا نام دھوکہ اور فریب رکھا) یہ جملہ قال رسول اللہ ﷺ الخ پر عطف ہے یعنی راوی نے حضور ﷺ کا ارشاد گرامی نقل کرنے کے بعد یہ کہا کہ وسمی الحرب خدعۃ حاصل یہ کہ جب حضور ﷺ نے یہ بشارت بیان فرمائی کہ مسلمانوں کو قیصر وکسریٰ کے ملکوں پر فتح حاصل ہوجائے گی اور وہ ان کے اموال و جائیداد اور خزانوں پر قبضہ و تسلط پالیں گے تو سب کے ذہن میں یہی بات آئی ہوگی کہ یہ چیزیں جنگ کے بغیر حاصل نہیں ہوں گی اور جنگ ایسی چیز ہے جو زیادہ تر دھوکہ اور فریب کی محتاج ہوتی ہے، اس لئے آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو آگاہ فرمایا کہ جنگ کے موقع پر اس وہم میں نہ پڑجانا کہ جنگی دھوکہ اور فریب عہد شکنی اور خیانت اور بددیانتی کی قسم سے ہے، بلکہ اس حقیقت کو ذہن میں رکھنا کہ دشمنوں کے ساتھ برسر جنگ ہونے کی صورت میں حکمت عملی کے طور پر ایسے فریب اور حیلوں کو اختیار کرنا ضروری ہوجاتا ہے جو جنگ کے جیتنے اور طاقت ومدد حاصل کرنے میں بڑا دخل رکھتے ہیں۔ مثلا دشمن پر رعب ڈالنے کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کے ذہن پر اپنی طاقت کی زیادتی اور اسلحہ جات کی برتری کا سکہ جما دیا جائے اس مقصد کے لئے فرضی کار روائیوں اور جھوٹے سچے بیانات کا سہارا لیا جاسکتا ہے، یا میدان جنت میں دشمن کی آنکھ میں دھول جھونکنے کے لئے میدان سے ہٹ جانا اور پیچھے لوٹ آنا تاکہ دشمن یہ سمجھے کہ مقابل لڑنے کی تاب نہ رکھنے کی وجہ سے میدان چھوڑ کر بھاگ گیا ہے اور جب دشمن اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کر غافل ہوجائے تو کسی طرف سے اچانک اس پر ٹوٹ پڑنا یہ اور اس طرح کی دوسری کاروائیاں ایسے حیلے ہیں جن کو جنگی حکمت عملی کے طور پر اختیار کرنے کی اجازت ہے لیکن واضح رہے کہ عہد شکنی کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہے جو عہد و اقرار ہوجائے اس پر عمل کرنا بہر صورت ضروری ہے کسی معاہدہ کو توڑنا ہرگز درست نہیں۔ لفظ خدعۃ اگرچہ خ کے پیش کے ساتھ نقل کیا ہے اور زبر کے ساتھ بھی، اس طرح دال کے جزم اور پیش کے ساتھ بھی نقل کیا جاتا ہے اور زبر کے ساتھ بھی، لیکن یہ لفظ خ کے زبر اور دال کے جزم کے ساتھ زیادہ فصیح ہے۔
5323
Mishkaat Shareefوعن نافع بن عتبة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تغزون جزيرة العرب فيفتحها الله ثم فارس فيفتحها الله ثم تغزون الروم فيفتحها الله ثم تغزون الدجال فيفتحه الله . رواه مسلم
حضرت نافع بن عتبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ تم لوگ میرے بعد جزیرۃ العرب سے جنگ کرو گے اور اللہ تعالیٰ اس کو تمہارے ہاتھوں فتح کرائے گا پھر تم فارس کی مملکت سے جنگ کرو گے اور اللہ تعالیٰ اس کو تمہارے ہاتھوں فتح کرائے گا پھر تم روم کی مملکت سے جنگ کرو گے اور اللہ تعالیٰ اس کو تمہارے ہاتھوں فتح کرائے اور پھر آخری زمانہ میں تم دجال سے جنگ کرو گے اور اللہ اس پر تمہیں فتح عطا فرمائے گا۔ (مسلم)
تشریح
عالم عرب کا وہ خطہ جس کو جزیرۃ العرب سے تعبیر کیا جاتا ہے، قدیم جغرافیہ دانوں کے مطابق نجد حجاز جس کے دو مقدس شہر مکہ اور مدینہ ہیں یمامہ، یمن اور عروض پر مشتمل ہے اس خطہ کے جنوب میں بحر عرب، مشرق میں خلیج عربی اور خلیج یمان اور مغرب میں بحراحمر ہے، اس کے شمال میں دریائے فرات اس طرح بہتا ہے اس خطے کے اس تنہا شمالی خشکی کے سرے کو بہت حد تک کاٹ دیتا ہے اور اس وجہ سے یہ خطہ گویا مجازا جزیرۃ العرب کہلاتا ہے ورنہ اصل کے اعتبار سے یہ خطہ جزیرہ نمائے عرب سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ویسے اہل عرب جزیرہ نما کو بھی توسعا جزیرہ کہہ دیا کرتے ہیں۔ جزیرۃ العرب سے جنگ کرو گے کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت میری زندگی میں جزیرۃ العرب کے جو علاقے اسلام کی روشنی سے محروم رہ گئے ہیں۔ میرے بعد ان کی تاریکی بھی ختم ہوجائے گی، کچھ علاقے تو تبلیغ و اشاعت اسلام کے ذریعے کفر کے اندھیرے سے نکل آئیں گے اور باقی علاقے کے لوگوں سے تم جنگ کرو گے اور اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کے ذریعے فتح پاؤ گے اس طرح ہر چار طرف اسلام کا جھنڈا سر بلند ہوجائے گا اور پورے جزیرۃ العرب میں کوئی ایک کافر بھی باقی نہیں بچے گا۔ دجال سے جنگ کرو گے الخ کا مطلب یہ ہے کہ دجال جب ظاہر ہوگا تو اپنی طلسماتی طاقت اور مکر و فریب کے ذریعے بڑی اودھم مچائے گا اور کچھ ملکوں اور علاقوں پر قابو پالے گا لیکن جب تم اس کے مقابلے پر نکل کھڑے ہو گے تو اللہ تعالیٰ اس کو مقہور و مغلوب کر دے گا اور جو ملک و علاقہ اس کے قبضے میں چلا گیا ہوگا وہ دوبارہ تسلط و قبضہ میں آجائے گا، نیز وہ دجال حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ہلاک ہوجائے گا جو مسلمانوں کی مدد کے لئے آسمان سے اتریں گے۔ واضح رہے کہ اس ارشاد میں حضور ﷺ کا خطاب تو صحابہ سے تھا مگر اصل روئے سخن امت کی طرف تھا۔
تشریح
عالم عرب کا وہ خطہ جس کو جزیرۃ العرب سے تعبیر کیا جاتا ہے، قدیم جغرافیہ دانوں کے مطابق نجد حجاز جس کے دو مقدس شہر مکہ اور مدینہ ہیں یمامہ، یمن اور عروض پر مشتمل ہے اس خطہ کے جنوب میں بحر عرب، مشرق میں خلیج عربی اور خلیج یمان اور مغرب میں بحراحمر ہے، اس کے شمال میں دریائے فرات اس طرح بہتا ہے اس خطے کے اس تنہا شمالی خشکی کے سرے کو بہت حد تک کاٹ دیتا ہے اور اس وجہ سے یہ خطہ گویا مجازا جزیرۃ العرب کہلاتا ہے ورنہ اصل کے اعتبار سے یہ خطہ جزیرہ نمائے عرب سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ویسے اہل عرب جزیرہ نما کو بھی توسعا جزیرہ کہہ دیا کرتے ہیں۔ جزیرۃ العرب سے جنگ کرو گے کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت میری زندگی میں جزیرۃ العرب کے جو علاقے اسلام کی روشنی سے محروم رہ گئے ہیں۔ میرے بعد ان کی تاریکی بھی ختم ہوجائے گی، کچھ علاقے تو تبلیغ و اشاعت اسلام کے ذریعے کفر کے اندھیرے سے نکل آئیں گے اور باقی علاقے کے لوگوں سے تم جنگ کرو گے اور اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کے ذریعے فتح پاؤ گے اس طرح ہر چار طرف اسلام کا جھنڈا سر بلند ہوجائے گا اور پورے جزیرۃ العرب میں کوئی ایک کافر بھی باقی نہیں بچے گا۔ دجال سے جنگ کرو گے الخ کا مطلب یہ ہے کہ دجال جب ظاہر ہوگا تو اپنی طلسماتی طاقت اور مکر و فریب کے ذریعے بڑی اودھم مچائے گا اور کچھ ملکوں اور علاقوں پر قابو پالے گا لیکن جب تم اس کے مقابلے پر نکل کھڑے ہو گے تو اللہ تعالیٰ اس کو مقہور و مغلوب کر دے گا اور جو ملک و علاقہ اس کے قبضے میں چلا گیا ہوگا وہ دوبارہ تسلط و قبضہ میں آجائے گا، نیز وہ دجال حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ہلاک ہوجائے گا جو مسلمانوں کی مدد کے لئے آسمان سے اتریں گے۔ واضح رہے کہ اس ارشاد میں حضور ﷺ کا خطاب تو صحابہ سے تھا مگر اصل روئے سخن امت کی طرف تھا۔