Mishkaat Shareef
29. میت پر رونے کا بیان
مشكاة المصابيح
1705
Mishkaat Shareefکسی عزیز و رشتہ دار اور دوست و متعلق شخص کی دائمی جدائی پر رنج و غم اور حسرت و افسوس کا ہونا ایک فطری بات ہے مرنے والا جتنا زیادہ قریب اور عزیز ہوگا۔ رنج و غم کی گھٹائیں اتنی ہی مہیب ہوں گی یہ ناممکن ہے کہ اپنے عزیز و متعلقین میں سے کسی کا انتقال ہوجائے اور دل روئے نہیں، آنکھیں آنسو بہائیں نہیں اور چہرہ رنج و الم اور حسرت و غم کی تصویر نہ بن جائے پھر اس فطری رنج و غم کا دوسرا رخ اظہار غم بھی ہے آنسو بہاتی آنکھیں اس کیفیت کا اظہار کرتی ہیں جو دل پر احساس جدائی کی سیاہ چادر تان دیتی ہے اور چہرہ رنج و غم کی برستی ہوئی گھٹا ان جذبات کی غمازی کرتی ہے جو رگ رگ میں دائمی فراق کی چنگاریاں بھر دیتے ہیں اسلام نے چونکہ زندگی کے ہر شعبہ میں اعتدال کی راہ دکھائی ہے اور پیغمبر اسلام نے کیا خوشی اور کیا غم ہر مرحلہ پر انسانی وقار اور رکھ رکھاؤ کا معیار برقرار رکھا ہے اس لئے کیسے ممکن تھا کہ انسانی برادری کے اس جذباتی و فطری نازک موڑ پر راہنمائی نہ کی جاتی لہٰذا یہاں یہ باب قائم کر کے یہ بتایا جا رہا ہے کہ اس مرحلہ پر آنحضرت ﷺ کی مقدس تعلیم اور آپ کا عمل کیا تھا ؟
1706
Mishkaat Shareefکسی کے انتقال پر نوحہ اور چلائے بغیر رونا مکروہ نہیں ہے چلا کر اور نوحہ کے ساتھ رونا نیز میت کی زائد اور دوراز حقیقت تعریف توصیف بیان کرنا جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں مروج تھا مکروہ ہے البتہ میت کی واقعی اور حقیقی تعریف و توصیف بطور بیان کے ذکر کرنا مکروہ نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص مرجائے تو اس کے لواحقین سے اس کی تعزیت کرنی مستحب اور بڑی اچھی بات ہے اور تعزیت کا مفہوم یہ ہے کہ لواحقین کو صبر سکون کی تلقین کی جائے اور انہیں تسلی تشفی دی جائے۔ ایک سے زائد مرتبہ تعزیت نہ کی جائے انتقال کے تیسرے روز بطور خاص میت کے گھر جمع ہونا، کھانا پینا کرنا اور دوسری رسوم ادا کرنا کہ جسے ہماے یہاں تیجہ کہتے ہیں قطعی طور پر بدعت اور حرام ہے کیونکہ نہ صرف یہ کہ شریعت میں ان باتوں کی حقیقت نہیں ہے بلکہ میت کی وصیت کے بغیر اس کا مال خرچ کرنا یتیموں اور ورثاء کے مال میں تصرف کرنا جو بالکل ناجائز ہے۔ قاموس کے مصنف مجدد الدین نے سفر السعادۃ میں لکھا ہے کہ پہلے میت کے لئے صرف یہ طریقہ تھا کہ لوگ نماز جنازہ کے لئے جمع ہوتے تھے لہٰذا اب یہ طریقہ دن اور رات متعین کر کے اور غیر ضروری تکلفات کر کے قرآن خوانی اور ختم وغیرہ کے لئے قبر پر یا کسی دوسری جگہ لوگوں کو جمع کرنا بدعت ہے۔ تعزیت قبول کرنے کے لئے گھر میں یا مسجد میں بیٹھے رہنا جائز ہے۔ چناچہ منقول ہے کہ جب حضرت جعفر، حضرت زید اور حضرت ابن رواحہ (رض) کے بارے میں آنحضرت ﷺ کو یہ اطلاع ملی یہ تینوں حضرات غزوہ موت میں یکے بعد دیگرے شہید ہوگئے ہیں تو آپ انتہائی رنج و غم کے ساتھ مسجد نبوی میں بیٹھ گئے وہیں تعزیت کرنے والے آتے اور آپ سے تعزیت کر کے چلے جاتے ہاں متعین دنوں اور متعین تاریخوں میں تعزیت کا وہ طور طریقہ جو بعد میں رائج ہوگیا اس وقت نہیں تھا۔ بعد کے بہت سے علماء لکھتے ہیں کہ (دفن کے بعد) میت کے گھر تعزیت کے لئے بطور خاص جمع ہونا مکروہ ہے اور یہ بات تو سخت مکروہ ہے کہ میت کے اہل و عیال صرف اسی مقصد کے لئے گھر کے دروازے پر بیٹھ جائیں اور لوگ وہاں جمع ہو کر تعزیت کریں کیونکہ یہ زمانہ جاہلیت کا طریقہ ہے۔ اس بارے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب لوگ میت کو دفن کر چکیں تو منتشر ہوجائیں اور اپنے اپنے کام کاج میں لگ جائیں اسی طرح میت کے اہل و عیال کو چاہئے کہ وہ بھی اپنے اپنے کاروبار میں مشغول ہوجائیں۔ اسی طرح قبر کے چاروں طرف حلقہ باندھ کر قرآن خوانی مکروہ ہے۔ تعزیت کرنے کا وقت مرنے کے بعد صرف تین دن تک ہے تین دن کے بعد تعزیت کرنا مکروہ ہے ہاں اگر تعزیت کرنے والا یا غمزدہ موجود نہ ہو تو پھر اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جب بھی ملاقات ہو اسی وقت تعزیت ادا کی جائے۔ میت کو دفن کرنے کے بعد تعزیت کرنا دفن سے پہلے تعزیت کرنے سے اولیٰ ہے مگر یہ سلسلہ اس صورت میں ہے جب کہ میت کے اہل و عیال میں بہت زیادہ جزع فزع اور اظہار رنج و غم زیادہ شدید نہ ہو۔ اگر اہل و عیال زیادہ جزع و فزع میں مبتلا ہوں تو پھر دفن سے پہلے ہی تعزیت اولیٰ ہوگی۔ عمومی طور پر میت کے تمام اقا رب خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے، مرد ہوں یا عورت سب ہی سے تعزیت کرنا مستحب ہے ہاں اگر عورت جوان ہو تو اس سے تعزیت نہ کی جائے، البتہ اس عورت کے محرم اس سے بھی تعزیت کرسکتے ہیں۔
1707
Mishkaat Shareefمستحب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اہل میت سے تعزیت کرے تو اس سے صبر و تسلی کے اس قسم کے الفاظ کہے اللہ تعالیٰ مرنے والے کو اپنی مغفرت و بخشش سے نوازے، اسی کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اس پر اپنی رحمت کا سایہ کرے، سانحہ ارتحال کے اس سخت حادثہ پر تم سب کو صبر کی توفیق عطا فرمائے اور تم سب کو اس رنج و مصیبت کے بدلہ میں ثواب عطا فرمائے۔ تعزیت کے لئے بہترین الفاظ وہی ہیں جو آنحضرت ﷺ ارشاد فرماتے تھے کہ ان للہ مااخذ ولہ ما اعطی وکل چیز عندہ باجل مسمی وہ چیز بھی اللہ ہی کی ملکیت ہے جو اس نے لے لی ہے اور وہ چیز بھی اسی کی ملکیت میں ہے جو اس نے دے رکھی ہے اور اس کے نزدیک ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے اگر کوئی غیر مسلم مرجائے اور اس کا قرابتی مسلمان ہو تو اس سے تعزیت اس طرح کی جائے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بہت زیادہ ثواب عطا فرمائے اور تمہیں بہترین صبر و سکون کی دولت سے نوازے اور اگر میت مسلمان ہو اور قرابتی غیر مسلمان تو اس سے اس طرح کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ مرنے والے کو بخشش و مغفرت سے نوازے اور تمہیں صبر و سکون عطا فرمائے۔ اور اگر میت اور قرابتی دونوں ہی غیر مسلم ہوں تو تعزیت ان الفاظ کے ذریعہ کی جائے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ عطا فرمائے اور تمہارے اہل و عیال میں کمی نہ فرمائے۔ احساس رنج وغم پر تین دن تک اپنے کاروبار چھوڑ کر گر میں بیٹھے رہنا اگرچہ جائز ہے لیکن اس کا ترک اولیٰ ہے۔ اظہار رنج وغم کے لئے مردوں کو سیاہ کپڑا پہننا، رنج و مصیبت کے وقت کپڑے پھاڑ ڈالنا، چاک گریباں ہوجانا یہ سب چیزیں ممنوع ہیں ہاں اگر عوتیں سیاہ کپڑے پہنیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ کسی کے انتقال پر حد سے زیادہ جزع وفزع کرنا اور خواہ مخواہ کے ہنگامے کرنا مثلاً منہ اور ہاتھوں کو کالا کرنا، چاک گریباں ہوجانا، منہ نوچنا، بالوں کو بکھیر ڈالنا، سر پر مٹی ڈالنا، راتوں کو پیٹنا، سینہ کو بی کرنا اور قبروں پر آگ روشن کرنا یہ سب باتیں زمانہ جاہلیت کی رسوم اور انتہائی غلط و باطل ہیں ان سے بچنا بہت ضروری ہے۔ جس گھر میں میت ہوجائے وہاں کھانا پکا کر بھیجنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن اسے اس طرح ضروری اور لازم جان لینا کہ خواہ اس کے لئے ادھا قرض ہی کیوں نہ کرنا پڑے انتہائی غلط بات ہے اسی طرح تیسری روز یعنی تیجہ میں لوگوں کو بطور خاص مدعو کرنا اور برادری والوں کو کھانا کھلانا بھی بڑی بری بات اور بےفائدہ چیز ہے۔ یہ بات بطور خاص یاد رکھیے کہ جو لوگ تیجہ کے نام پر جو کچھ خرافات اور اور واہیات حرکتیں کرتے ہیں وہ انتہائی گمراہی میں مبتلا ہیں مثلاً موت کے تیسرے دن اس طرح انتظامات کئے جاتے ہیں کہ شادی بیاہ میں بھی کیا انتظامات ہوتے ہوں گے لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے برادری والے جمع ہوتے ہیں فرش بچھتے ہیں، خیمے کھڑے کئے جاتے ہیں خوشبوئیں بانٹی جاتی ہیں یہ سب باتیں بدعت اور انتہائی گمراہ کن ہیں ان واہیات اور خرافات سے اجتناب ضروری ہے۔ نصاب میں لکھا ہے کہ جن جگہوں پر یہ رسم جاری ہے کہ مرد موت کے تیسرے دن خوشبو لگاتے ہیں وہ عورتوں کے ساتھ مشابہت میں مبتلا ہیں کیونکہ عورتیں تیسرے روز سوگ ختم کرنے کے لئے خوشبو لگاتی ہیں لہٰذا اس سے بھی پرہیز کرنا چاہئے لیکن یہ ممانعت خوشبولگانے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ اس طرح اس وقت عورتوں کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے اور شریعت نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا ہے۔ آداب تعزیت یہ ہیں کہ جب کوئی شخص میت کے گھر تعزیت کے لئے جائے تو وہاں اہل خانہ کو سلام کرے، مصافحہ کرے ان کے ساتھ انتہائی تواضع اور نرمی کے ساتھ بات چیت کرے، بےفائدہ اور زیادہ گفتگو نہ کرے بلکہ صرف تسلی اور اطمینان اور صبروسکون کے الفاظ کہے اور ہنسنے مسکرانے سے پرہیز کرے۔
1708
Mishkaat Shareefعن أنس قال : دخلنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم على أبي سيف القين وكان ظئرا لإبراهيم فأخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم إبراهيم فقبله وشمه ثم دخلنا عليه بعد ذلك وإبراهيم يجود بنفسه فجعلت عينا رسول الله صلى الله عليه و سلم تذرفان . فقال له عبد الرحمن بن عوف : وأنت يا رسول الله ؟ فقال : يا ابن عوف إنها رحمة ثم أتبعها بأخرى فقال : إن العين تدمع والقلب يحزن ولا نقول إلا ما يرضي ربنا وإنا بفراقك يا إبراهيم لمحزونون
حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ (ایک دن) ہم رسول کریم ﷺ کے ہمراہ ابوسیف لوہار کے گھر گئے جو (آنحضرت ﷺ کے صاحبزادے) حضرت ابراہیم کی دایہ کے شوہر تھے۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابراہیم کو (گود میں) لے کر بوسہ لیا اور سونگھا (یعنی اپنا منہ اور ناک ان کے منہ پر اس طرح رکھی جیسے کوئی خوشبو سونگھتا ہے) اس واقعہ کے کچھ دنوں کے بعد ہم پھر ابوسیف کے یہاں گئے جب کہ حضرت ابراہیم حالت نزع میں تھے چناچہ (ان کی حالت دیکھ کر) آنحضرت ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، حضرت عبدالرحمن بن عوف نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ رو رہے ہیں ! آپ نے فرمایا اے ابن عوف (آنسو کا بہنا) رحمت ہے۔ اس کے بعد پھر آپ ﷺ کی مبارک آنکھیں آنسو بہانے لگیں آپ نے فرمایا آنکھیں آنسو بہا رہی اور دل غمگین ہے مگر اس کے باوجود ہماری زبانوں پر وہی الفاظ ہیں جن سے ہمارا پروردگار راضی رہے اے ابراہیم ہم تیری جدائی سے بیشک غمگین ہیں۔
تشریح
ابوسیف کا نام براء تھا اور ان کی بیوی کا نام خولہ منذر تھا جو انصاریہ اور آنحضرت ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کی دایہ تھیں ان کا گھرانہ پیشہ کے لحاظ سے لوہا تھا۔ حضرت ابراہیم صرف سولہ سترہ مہینے کے تھے کہ انتقال کر گئے چناچہ اس حدیث میں ان کی حالت بیماری و نزع کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ ان کی دایہ کے گھر گئے اور انہیں گود میں لے کر پیار کیا اور جب ان کا آخری وقت دیکھا تو رونے لگے اسی وجہ سے حضرت عبدالرحمن نے عرض کیا کہ اس قسم کے رقت انگیز مواقع پر لوگ تو روتے ہی ہیں مگر آپ کی عظمت شان اور کمال معرفت سے یہ بعید ہے کہ آپ روئیں۔ اس کا جواب آنحضرت ﷺ نے یہ دیا کہ یہ رحمت ہے۔ یعنی میری آنکھیں بےصبری کی وجہ سے آنسو نہیں بہا رہی ہیں جیسا کہ تم سمجھ رہے ہو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بچہ کو اس حالت میں دیکھ کر جذبہ رحم امنڈ رہا ہے جو آنسوؤں کی شکل میں آنکھوں سے بہہ رہا ہے۔ دل غمگین ہے، میں اس طرح اشارہ ہے کہ جو شخص ایسے موقع پر بھی غمگین نہ ہو اور اس کا دل غم کی کسک محسوس نہ کرے اس کے سینہ میں دھڑکتا ہوا دل نہیں ہے بلکہ پتھر کا ایک ٹکڑا ہے جب کہ نظروں کے سامنے لخت جگر دم توڑ رہا ہو ایسے نازک موقع پر بھی آنکھیں آنسو نہ بہائیں تو یہ صبر و ضبط نہیں ہے بلکہ اس احساس محبت و مروت اور جذبہ ترحم کا فقدان ہے لہٰذا یہ حال یعنی غمگین ہونا اہل کمال کے نزدیک کامل تر ہے یہ بنسبت اس چیز کے کہ بچہ کی موت ہوجائے اور چہرہ پر بشاشت و اطمینان کی لہریں دوڑ رہی ہوں۔
تشریح
ابوسیف کا نام براء تھا اور ان کی بیوی کا نام خولہ منذر تھا جو انصاریہ اور آنحضرت ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کی دایہ تھیں ان کا گھرانہ پیشہ کے لحاظ سے لوہا تھا۔ حضرت ابراہیم صرف سولہ سترہ مہینے کے تھے کہ انتقال کر گئے چناچہ اس حدیث میں ان کی حالت بیماری و نزع کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ ان کی دایہ کے گھر گئے اور انہیں گود میں لے کر پیار کیا اور جب ان کا آخری وقت دیکھا تو رونے لگے اسی وجہ سے حضرت عبدالرحمن نے عرض کیا کہ اس قسم کے رقت انگیز مواقع پر لوگ تو روتے ہی ہیں مگر آپ کی عظمت شان اور کمال معرفت سے یہ بعید ہے کہ آپ روئیں۔ اس کا جواب آنحضرت ﷺ نے یہ دیا کہ یہ رحمت ہے۔ یعنی میری آنکھیں بےصبری کی وجہ سے آنسو نہیں بہا رہی ہیں جیسا کہ تم سمجھ رہے ہو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بچہ کو اس حالت میں دیکھ کر جذبہ رحم امنڈ رہا ہے جو آنسوؤں کی شکل میں آنکھوں سے بہہ رہا ہے۔ دل غمگین ہے، میں اس طرح اشارہ ہے کہ جو شخص ایسے موقع پر بھی غمگین نہ ہو اور اس کا دل غم کی کسک محسوس نہ کرے اس کے سینہ میں دھڑکتا ہوا دل نہیں ہے بلکہ پتھر کا ایک ٹکڑا ہے جب کہ نظروں کے سامنے لخت جگر دم توڑ رہا ہو ایسے نازک موقع پر بھی آنکھیں آنسو نہ بہائیں تو یہ صبر و ضبط نہیں ہے بلکہ اس احساس محبت و مروت اور جذبہ ترحم کا فقدان ہے لہٰذا یہ حال یعنی غمگین ہونا اہل کمال کے نزدیک کامل تر ہے یہ بنسبت اس چیز کے کہ بچہ کی موت ہوجائے اور چہرہ پر بشاشت و اطمینان کی لہریں دوڑ رہی ہوں۔
1709
Mishkaat Shareefوعن أسامة بن زيد قال : أرسلت ابنة النبي صلى الله عليه و سلم إليه : أن ابنا لي قبض فأتنا . فأرسل يقرئ السلام ويقول : إن لله ما أخذ وله ما أعطى وكل عنده بأجل مسمى فلتصبر ولتحتسب . فأرسلت إليه تقسم عليه ليأتينها فقام ومعه سعد بن عبادة ومعاذ بن جبل وأبي بن كعب وزيد ابن ثابت ورجال فرفع إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم الصبي ونفسه تتقعقع ففاضت عيناه . فقال سعد : يا رسول الله ما هذا ؟ فقال : هذه رحمة جعلها الله في قلوب عباده . فإنما يرحم الله من عباده الرحماء
حضرت اسامہ بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی (حضرت زینب) نے آپ ﷺ کے پاس کسی کے ذریعہ سے یہ پیغام بھیجا کہ میرا بیٹا دم توڑ رہا ہے اس لئے (فورا) آپ ﷺ میرے پاس تشریف لے آئیے۔ آنحضرت ﷺ نے (اس کے جواب میں) سلام کے بعد کہ کہلا بھیجا کہ جو چیز (یعنی اولاد وغیرہ) اللہ نے لے لی وہ بھی اسی کی تھی اور جو چیز اس نے دے رکھی ہے وہ بھی اسی کی ہے (لہٰذا ان کے اٹھ جانے پر جزع و فزع نہ کرنا چاہئے کیونکہ چاہئے کیونکہ اس کی امانت تھی جسے اس نے واپس لے لیا) اور اس (خدا) کے نزدیک ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے (یعنی تمہارے بیٹھے کی زندگی اتنے ہی دنوں کے لئے لکھی گئی تھی جتنے دن کہ وہ زندہ رہا۔ بس تمہیں صبر کرنا اور اللہ سے ثواب کا طلب گار رہنا چاہے۔ حضرت زینب نے دوبارہ آدمی بھیجا اور (اس مرتبہ) انہوں نے آنحضرت ﷺ کو قسم دی کہ ضرور ہی تشریف لائیے چناچہ آپ ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے حضرت سعد بن عبادہ حضرت معاذ بن جبل حضرت ابی بن کعب حضرت زید بن ثابت اور صحابہ میں سے دوسرے لوگ آپ کے ساتھ ہو لئے جب آپ صاحبزادی کے ہاں پہچے تو بچہ آپ کی گود میں دے دیا گیا جو جان کنی کی حالت میں تھا اسے دیکھ کر آنحضرت ﷺ کی آنکھیں آنسو بہانے لگیں حضرت سعد نے کہا کہ یا رسول اللہ ! یہ کیا ہے آپ نے فرمایا کہ یہ رحمت ہے جسے اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا فرمایا ہے اچھی طرح سن لو کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے صرف انہیں لوگوں پر رحمت یعنی مہربانی کرتا ہے جو جذبہ ترحم رکھنے والے ہیں۔ (بخاری)
تشریح
حضرت سعد نے چونکہ یہ گمان کیا کہ رونے کی تمام اقسام حرام و مکروہ ہیں اور آنحضرت ﷺ اس وقت سہوا رو رہے ہیں اس لئے آنحضرت ﷺ نے انہیں آگاہ کیا کہ رونے کی تمام اقسام حرام و مکروہ نہیں ہے بلکہ اس طرح رونا تو اس جذبہ ترحم کی علامت ہے جو دل میں امنڈ رہا ہوتا ہے ہاں نوحہ کے ساتھ رونا، چاک گریبان ہونا اور سینہ پیٹنا البتہ حرام و ممنوع ہے۔
تشریح
حضرت سعد نے چونکہ یہ گمان کیا کہ رونے کی تمام اقسام حرام و مکروہ ہیں اور آنحضرت ﷺ اس وقت سہوا رو رہے ہیں اس لئے آنحضرت ﷺ نے انہیں آگاہ کیا کہ رونے کی تمام اقسام حرام و مکروہ نہیں ہے بلکہ اس طرح رونا تو اس جذبہ ترحم کی علامت ہے جو دل میں امنڈ رہا ہوتا ہے ہاں نوحہ کے ساتھ رونا، چاک گریبان ہونا اور سینہ پیٹنا البتہ حرام و ممنوع ہے۔
1710
Mishkaat Shareefوعن عبد الله بن عمر قال : اشتكى سعد بن عبادة شكوى له فأتاه النبي صلى الله عليه و سلم يعوده مع عبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص وعبد الله بن مسعود فلما دخل عليه وجده في غاشية فقال : ( قد قضى ؟ قالوا : لا يا رسول الله فبكى النبي صلى الله عليه و سلم فلما رأى القوم بكاء النبي صلى الله عليه و سلم بكوا فقال : ألا تسمعون ؟ إن الله لا يعذب بدمع العين ولا بحزن القلب ولكن يعذب بهذا وأشار إلى لسانه أو يرحم وإن الميت لعيذب ببكاء أهله
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبداللہ بن مسعود بھی آپ کے ساتھ تھے، جب آپ ﷺ ان کے پاس پہنچے تو انہیں بےہوشی کی حالت پایا آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا ان کا انتقال ہوگیا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! نہیں۔ آپ ﷺ (سعد کی حالت دیکھ) رونے لگے جب صحابہ نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی رونے لگے پھر آپ نے فرمایا۔ اچھی طرح سن لو ! کہ اللہ تعالیٰ آنکھوں کے آنسو بہانے اور دل کے غمگین ہونے پر عذاب نہیں کرتا آپ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا البتہ اللہ اس کی وجہ سے عذاب بھی کرتا ہے اور رحم بھی یعنی اگر کسی حادثہ و مصیبت کے وقت زبان سے ناشکری کے یا بارگاہ الوہیت میں بےادبی کے الفاظ نکلیں یا نوحہ کر کے رویا جائے تو یہ مستحق عذاب ہے اور اگر ایسے موقع پر زبان حمد و شکر میں مشغول رہے اور انا للہ پڑھا جائے تو مستحق رحمت وثواب ہے نیز مردہ کو اپنے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر مردہ کے اہل و عیال اور اس کے گھر والے باآواز بلند یعنی پکار پکار روتے ہیں یا نوحہ کرتے ہیں تو اس مردہ کو عذاب ہوتا ہے، اس مسئلہ کی تحقیق تیسری فصل میں آئے گی انشاء اللہ۔
تشریح
حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر مردہ کے اہل و عیال اور اس کے گھر والے باآواز بلند یعنی پکار پکار روتے ہیں یا نوحہ کرتے ہیں تو اس مردہ کو عذاب ہوتا ہے، اس مسئلہ کی تحقیق تیسری فصل میں آئے گی انشاء اللہ۔
1711
Mishkaat Shareefوعن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص ہمارے راستے پر چلنے والوں میں سے نہیں ہے جو رخساروں کو پیٹے، گریبان چاک کرے اور ایام جاہلیت کی طرح آواز بلند کرے (یعنی رونے کے وقت زبان سے ایسے الفاظ اور ایسی آواز نکالے جو شرعا ممنوع ہے جیسے نوحہ یا واویلا کرنا وغیرہ وغیرہ۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
یہاں رخساروں کو پیٹنے اور گریبان چاک کرنے والے کے لئے جو وعید فرمائی جا رہی ہے یہی وعید اس شخص کے لئے بھی ہے جو سر سے پگڑی و ٹوپی اتار پھینکے یا سر اور داڑھی کے بال نوچنے لگے کیونکہ ان سب چیزوں کا ایک ہی حکم ہے۔
تشریح
یہاں رخساروں کو پیٹنے اور گریبان چاک کرنے والے کے لئے جو وعید فرمائی جا رہی ہے یہی وعید اس شخص کے لئے بھی ہے جو سر سے پگڑی و ٹوپی اتار پھینکے یا سر اور داڑھی کے بال نوچنے لگے کیونکہ ان سب چیزوں کا ایک ہی حکم ہے۔
1712
Mishkaat Shareefوعن أبي بردة قال : أغمي على أبي موسى فأقبلت امرأته أم عبد الله تصيح برنة ثم أفاق فقال : ألم تعلمي ؟ وكان يحدثها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أنا بريء ممن حلق وصلق وخرق . ولفظه لمسلم
حضرت ابی بردہ کہتے ہیں (ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ بےہوش ہوگئے تو ان کی عورت ام عبداللہ چلا چلا کر رونے لگی جب حضرت ابوموسیٰ کو ہوش آیا تو انہوں نے کہا کہ کیا تمہیں نہیں معلوم ؟ کہ چلا چلا کر رونا کتنا برا ہے چناچہ راوی کہتے ہیں کہ پھر ابوموسیٰ ان سے یہ حدیث بیان کرنے لگے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں اس شخص سے بیزار ہوں جو مصیبت و حادثہ کے وقت سر کے بال منڈائے چلاچلا کر روئے اور اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے۔ (بخار ومسلم) حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔
تشریح
زمانہ جاہلیت میں اس قسم کے افعال عورتوں سے سرزد ہوتے تھے لہٰذا مسلمانوں کو ان باتوں سے اچھی طرح پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ رسول کریم ﷺ ایسے شخص سے بیزار ہوتے ہیں جو ان غلط اور باطل چیزوں میں مبتلا ہوتا ہے۔
تشریح
زمانہ جاہلیت میں اس قسم کے افعال عورتوں سے سرزد ہوتے تھے لہٰذا مسلمانوں کو ان باتوں سے اچھی طرح پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ رسول کریم ﷺ ایسے شخص سے بیزار ہوتے ہیں جو ان غلط اور باطل چیزوں میں مبتلا ہوتا ہے۔
1713
Mishkaat Shareefوعن أبي مالك الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أربع في أمتي من أمر الجاهلية لا يتركونهن : الفخر في الأحساب والطعن في الأنساب والاستسقاء بالنجوم والنياحة . وقال : النائحة إذا لم تتب قبل موتها تقام يوم القيامة وعليها سربال من قطران ودرع من جرب . رواه مسلم
حضرت ابومالک اشعری (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار باتیں ایسی ہیں جنہیں میرے امت کے (کچھ) لوگ نہیں چھوڑیں گے۔ (١) حسب پر فخر کرنا، (٢) نسب پر طعن کرنا (٣) ستاروں کے ذریعہ پانی مانگنا (٤) نوحہ کرنا، نیز آپ ﷺ نے فرمایا نوحہ کرنے والی عورت نے اگر مرنے سے پہلے توبہ نہیں کی تو وہ قیامت کے دن اس حال میں کھڑی کی جائے گی کہ اس کے جسم پر قطران اور خارش کا کرتا ہوگا۔ (مسلم)
تشریح
حسب ان خصلتوں کو کہتے ہیں جو اگر کسی مسلمان کے اندر موجود ہوں تو وہ ان کی موجودگی کی وجہ سے اپنے کو بہتر و اچھا سمجھتا ہے جیسے شجاعت و بہادری اور فصاحت وغیرہ۔ نسب پر طعن کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے نسب میں اس طرح عیب جوئی کی جائے کہ فلاں شخص کا باپ برا تھا اور فلاں شخص کا دادا کمتر تھا۔ چونکہ حسب پر فخر کرنے اور نسب پر طعن کرنے کی وجہ سے اپنی تعظیم و بڑائی اور دوسرے لوگوں کی حقارت لازم آتی ہے اس لئے یہ دونوں چیزیں ہی مذموم ہیں ہاں اسلام و کفر کے امتیاز کی بناء پر ان دونوں میں کوئی مضائقہ نہیں ہے یعنی اگر کوئی مسلمان اپنے ایمان و اسلام کی وجہ سے اپنے آپ کو بزرگ اور بڑا جانے اور کسی کافر کو اس کے کفر کی وجہ سے حقیر و کمتر سمجھے تو یہ جائز ہے۔ ستاروں کے ذریعہ پانی مانگنے سے مراد یہ ہے کہ ستاروں کی تاثیر پر بارش کی امید رکھنا یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ اگر فلاں ستارہ منزل میں داخل ہوجائے تو بارش ہوگی۔ اس بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ اعتقاد رکھنا کہ فلاں ستارے کے فلاں منزل میں داخل ہونے کی وجہ سے بارش ہوگی، حرام ہے بلکہ جب بارش ہو تو یہ کہنا واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں بارش سے سیراب کیا ہے۔ نوحہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مرجائے تو اس پر واویلا کیا جائے اور میت کی اچھی خصلتیں رو رو کر اس طرح بیان کی جائے کہ ہائے وہ کتنا بہادر تھا، ہائے وہ ایسا تھا ہائے وہ ویسا تھا۔ قطران کو لتار کی مانند ایک دوا کا نام ہے جو سیاہ اور بدبو دار ہوتی ہے اور ابہل درخت سے کہ جو ہوبر بھی کہا جاتا ہے نکلتی ہے اس اونٹ کے جسم پر ملتے ہیں جسے خارش ہوجاتی ہے چونکہ اس کے اندر حرارت اور گرمی زیادہ ہوتی ہے اس لئے اونٹ کی خارش کو جلا دیتی ہے اس کا ایک خاص اثر یہ بھی ہے کہ آگ کا اثر بہت جلد قبول کرتی ہے اور جلدی ہی بھڑک اٹھتی ہے۔ ارشاد گرامی کے اس آخری جملہ کا مطلب یہ ہوا کہ نوحہ کرنے والی عورت اپنے برے فعل سے توبہ کئے بغیر مرگئی تو قیامت کے روز اس کے جسم پر خارش مسلمط کی جائے گی پھر اس پر قطران ملی جائے گی تاکہ اس کی خارش میں اور زیادہ سوزش وجلن پیدا ہو اور وہ زیادہ ایذاء پائے۔
تشریح
حسب ان خصلتوں کو کہتے ہیں جو اگر کسی مسلمان کے اندر موجود ہوں تو وہ ان کی موجودگی کی وجہ سے اپنے کو بہتر و اچھا سمجھتا ہے جیسے شجاعت و بہادری اور فصاحت وغیرہ۔ نسب پر طعن کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے نسب میں اس طرح عیب جوئی کی جائے کہ فلاں شخص کا باپ برا تھا اور فلاں شخص کا دادا کمتر تھا۔ چونکہ حسب پر فخر کرنے اور نسب پر طعن کرنے کی وجہ سے اپنی تعظیم و بڑائی اور دوسرے لوگوں کی حقارت لازم آتی ہے اس لئے یہ دونوں چیزیں ہی مذموم ہیں ہاں اسلام و کفر کے امتیاز کی بناء پر ان دونوں میں کوئی مضائقہ نہیں ہے یعنی اگر کوئی مسلمان اپنے ایمان و اسلام کی وجہ سے اپنے آپ کو بزرگ اور بڑا جانے اور کسی کافر کو اس کے کفر کی وجہ سے حقیر و کمتر سمجھے تو یہ جائز ہے۔ ستاروں کے ذریعہ پانی مانگنے سے مراد یہ ہے کہ ستاروں کی تاثیر پر بارش کی امید رکھنا یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ اگر فلاں ستارہ منزل میں داخل ہوجائے تو بارش ہوگی۔ اس بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ اعتقاد رکھنا کہ فلاں ستارے کے فلاں منزل میں داخل ہونے کی وجہ سے بارش ہوگی، حرام ہے بلکہ جب بارش ہو تو یہ کہنا واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں بارش سے سیراب کیا ہے۔ نوحہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مرجائے تو اس پر واویلا کیا جائے اور میت کی اچھی خصلتیں رو رو کر اس طرح بیان کی جائے کہ ہائے وہ کتنا بہادر تھا، ہائے وہ ایسا تھا ہائے وہ ویسا تھا۔ قطران کو لتار کی مانند ایک دوا کا نام ہے جو سیاہ اور بدبو دار ہوتی ہے اور ابہل درخت سے کہ جو ہوبر بھی کہا جاتا ہے نکلتی ہے اس اونٹ کے جسم پر ملتے ہیں جسے خارش ہوجاتی ہے چونکہ اس کے اندر حرارت اور گرمی زیادہ ہوتی ہے اس لئے اونٹ کی خارش کو جلا دیتی ہے اس کا ایک خاص اثر یہ بھی ہے کہ آگ کا اثر بہت جلد قبول کرتی ہے اور جلدی ہی بھڑک اٹھتی ہے۔ ارشاد گرامی کے اس آخری جملہ کا مطلب یہ ہوا کہ نوحہ کرنے والی عورت اپنے برے فعل سے توبہ کئے بغیر مرگئی تو قیامت کے روز اس کے جسم پر خارش مسلمط کی جائے گی پھر اس پر قطران ملی جائے گی تاکہ اس کی خارش میں اور زیادہ سوزش وجلن پیدا ہو اور وہ زیادہ ایذاء پائے۔
1714
Mishkaat Shareefوعن أنس قال : مر النبي صلى الله عليه و سلم بامرأة تبكي عند قبر فقال : اتقي الله واصبري قالت : إليك عني فأنك لم تصب بمصيبتي ولم تعرفه فقيل لها : إنه النبي صلى الله عليه و سلم . فأتت باب النبي صلى الله عليه و سلم فلم تجد عنده بوابين فقالت : لم أعرفك . فقال : إنما الصبر عند الصدمة الأولى
حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) نبی کریم ﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے جو ایک قبر کے قریب چلا چلا کر رو رہی تھی آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے عذاب سے ڈرو ! یعنی نوحہ نہ کرو ورنہ عذاب میں مبتلا کی جاؤ گی۔ اور صبر کرو ! اس عورت نے آنحضرت ﷺ کو پہچانا نہیں آپ کا ارشاد سن کر کہنے لگی کہ میرے پاس سے دور ہٹو، تم میرا غم کیا جانو کیونکہ تم میری مصیبت میں گرفتار نہیں ہوئے ہو۔ (جب آنحضرت ﷺ وہاں سے چلے آئے) تو اسے بتایا گیا کہ یہ نبی کریم ﷺ تھے (پھر کیا تھا) وہ (بھاگی ہوئی) آنحضرت ﷺ کے دردولت پر حاضر ہوئی اسے دروازہ پر کوئی دربان و پہرہ دار نہیں ملا (جیسا کہ بادشاہوں اور امیروں کے دروازوں پر دربان و پہرہ دار ہوتے ہیں (پھر اس نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ میری گستاخی معاف فرمائیے) میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ صبر تو وہی کہلائے گا جو ابتداء مصیبت میں ہو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
کتنا سچ اور مبنی برحقیقت ہے کہ جو بات کہی جا رہی ہے اسے دیکھو نہ دیکھو کہ بات کہنے والا کون ہے ؟ اس قول پر عمل نہ صرف یہ کہ سچائی اور نیکی کی راہیں روشن کرتا چلا جاتا ہے بلکہ بسا اوقات خجالت و شرمندی سے بچاتا بھی ہے۔ اسی واقعہ پر نظر ڈالیے ایک عورت ایک غلط کام کر رہی ہے۔ آنحضرت ﷺ اسے نیکی و بھلائی کے راستہ پر لگانے کے لئے کچ ارشاد فرما رہے ہیں وہ عورت اتفاق سے آپ کو پہچانتی نہیں نہ صرف یہ کہ وہ آپ ﷺ کے ارشاد سے اعراض کرتی ہے بلکہ ایک غلط جواب بھی دیتی ہے جب بعد میں اسے معلوم ہوتا ہے کہ مجھ سے وہ قیمتی بات کہنے والا کوئی ایرا خیرا نہیں تھا بلکہ خود رسالت مآب ﷺ کی ذات گرامی تھی تو اب اسے احساس ہوتا ہے کہ واقعی میں غلطی میں مبتلا تھی پشیمان ہو کر بھاگی ہو در رسالت پر حاضر ہوتی ہے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرتی ہے۔ اب دیکھیے اگر وہ اس عارفانہ قول کے مطابق آنحضرت ﷺ کو پہچانے بغیر آپ کے ارشاد گرامی کے سامنے سر اطاعت خم کردیتی تو نہ صرف یہ کہ نیکی و بھلائی کے راستہ کو اسی وقت پا لیتی بلکہ بعد کی خجالت و شرمندگی سے بھی بچ جاتی۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ کامل اور پسندیدہ صبر کہ جس پر ثواب ملتا ہے وہی ہوتا ہے جو ایذاء و مصیبت میں کیا جائے ورنہ آخر میں تو خود بخود صبر آجاتا ہے بعد میں کسی نے صبر کیا تو کیا صبر کیا ؟۔
تشریح
کتنا سچ اور مبنی برحقیقت ہے کہ جو بات کہی جا رہی ہے اسے دیکھو نہ دیکھو کہ بات کہنے والا کون ہے ؟ اس قول پر عمل نہ صرف یہ کہ سچائی اور نیکی کی راہیں روشن کرتا چلا جاتا ہے بلکہ بسا اوقات خجالت و شرمندی سے بچاتا بھی ہے۔ اسی واقعہ پر نظر ڈالیے ایک عورت ایک غلط کام کر رہی ہے۔ آنحضرت ﷺ اسے نیکی و بھلائی کے راستہ پر لگانے کے لئے کچ ارشاد فرما رہے ہیں وہ عورت اتفاق سے آپ کو پہچانتی نہیں نہ صرف یہ کہ وہ آپ ﷺ کے ارشاد سے اعراض کرتی ہے بلکہ ایک غلط جواب بھی دیتی ہے جب بعد میں اسے معلوم ہوتا ہے کہ مجھ سے وہ قیمتی بات کہنے والا کوئی ایرا خیرا نہیں تھا بلکہ خود رسالت مآب ﷺ کی ذات گرامی تھی تو اب اسے احساس ہوتا ہے کہ واقعی میں غلطی میں مبتلا تھی پشیمان ہو کر بھاگی ہو در رسالت پر حاضر ہوتی ہے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرتی ہے۔ اب دیکھیے اگر وہ اس عارفانہ قول کے مطابق آنحضرت ﷺ کو پہچانے بغیر آپ کے ارشاد گرامی کے سامنے سر اطاعت خم کردیتی تو نہ صرف یہ کہ نیکی و بھلائی کے راستہ کو اسی وقت پا لیتی بلکہ بعد کی خجالت و شرمندگی سے بھی بچ جاتی۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ کامل اور پسندیدہ صبر کہ جس پر ثواب ملتا ہے وہی ہوتا ہے جو ایذاء و مصیبت میں کیا جائے ورنہ آخر میں تو خود بخود صبر آجاتا ہے بعد میں کسی نے صبر کیا تو کیا صبر کیا ؟۔