Mishkaat Shareef
38. بہترین صدقہ کا بیان
مشكاة المصابيح
1925
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة وحكيم بن حزام قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى وأبدأ بمن تعول . رواه البخاري ومسلم عن حكيم وحده
حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت حکیم بن حزام (رض) دونوں راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بہتر صدقہ وہ ہے جو بےپروائی کے ساتھ دیا ہے اور صدقہ دینے کی ابتداء اس شخص سے کرو جس کا نفقہ تم پر لازم ہے (بخاری) اور امام مسلم نے اس روایت کو صرف حضرت حکیم بن حزام سے نقل کیا ہے۔
تشریح
بےپروائی کا مطلب یہ ہے کہ صدقہ کا مال اس انداز سے دو کہ تم خود فقیر و مفلس نہ بن جاؤ بلکہ غنا باقی رہے یعنی اپنے اہل و عیال کی ضروریات زندگی کے بقدر مال و اسباب رکھ لو۔ اس کے بعد جو کچھ بچ رہے اسے اللہ کے نام پر خیرات کردو، ایسا نہ ہو کہ تمام ہی مال و زر اللہ کی راہ میں خرچ کردو اور اپنے اہل و عیال کو محتاجگی اور بھوک سے بلکنے کے لئے چھوڑ دو ، چناچہ آپ ﷺ نے بعد میں ہی بات کی وضاحت فرمائی کہ صدقہ کا مال پہلے تو ان لوگوں کو دو جن کی ضروریات زندگی تمہاری ذات سے وابستہ ہوں جب ان سے بچ رہے تو پھر بعد میں دوسروں کو دے دو ۔
تشریح
بےپروائی کا مطلب یہ ہے کہ صدقہ کا مال اس انداز سے دو کہ تم خود فقیر و مفلس نہ بن جاؤ بلکہ غنا باقی رہے یعنی اپنے اہل و عیال کی ضروریات زندگی کے بقدر مال و اسباب رکھ لو۔ اس کے بعد جو کچھ بچ رہے اسے اللہ کے نام پر خیرات کردو، ایسا نہ ہو کہ تمام ہی مال و زر اللہ کی راہ میں خرچ کردو اور اپنے اہل و عیال کو محتاجگی اور بھوک سے بلکنے کے لئے چھوڑ دو ، چناچہ آپ ﷺ نے بعد میں ہی بات کی وضاحت فرمائی کہ صدقہ کا مال پہلے تو ان لوگوں کو دو جن کی ضروریات زندگی تمہاری ذات سے وابستہ ہوں جب ان سے بچ رہے تو پھر بعد میں دوسروں کو دے دو ۔
1926
Mishkaat Shareefاس بارے میں تحقیقی مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں اپنا مال و زر خرچ کرنا چاہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اسے یا تو غنائے نفس حاصل ہو بایں طور کہ از راہ سخاوت نفس وہ اپنا مال و زر اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہے تو اسے اللہ کی ذات پر اس درجے کامل اعتماد اور توکل ہو کہ اس کا دل بالکل مستغنی ہو اور اسے اس بات کی پرواہ نہ ہو کہ میرے اہل و عیال کل کیا کھائیں گے، جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے ایک موقع پر اپنا تمام مال و اسباب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ کے قدموں میں ڈالا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر (رض) گھر والوں کے لئے کیا چھوڑا ؟ انہوں نے عرض کیا اللہ (یعنی اہل و عیال کے لئے اللہ کی ذات پر کامل اعتماد اور توکل چھوڑ آیا ہوں کہ جس نے اب تک مجھے اتنا مال و زر دیا ہے وہی کل کو ان کی بھی ضروریات زندگی پوری کرے گا) آنحضرت ﷺ نے ان کی سخاوت اور ان کے اس عظیم جذبے کو بہت سراہا، یہ تو پہلا درجہ ہوا دوسرا درجہ یہ ہے کہ اگر غنائے نفس حاصل نہ ہو پھر غنائے مال ہونا ضروری ہے یعنی اللہ کی راہ میں اتنا ہی مال خرچ کرے کہ خود مفلس و فقیر نہ ہوجائے بلکہ اتنا مال باقی رکھ چھوڑنا ضروری ہے کہ اہل و عیال کی ضروریات زندگی پوری ہو سکیں جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ حاصل یہ کہ اگر توکل کی دولت نصیب ہو تو پھر جو کچھ چاہے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے اگر یہ مرتبہ حاصل نہ ہو تو اپنے اہل و عیال کو مقدم رکھے، صدقہ و خیرات میں اتنا مال نہ دے دے کہ خود اور اہل و عیال ضروریات زندگی کے لئے محتاج ہوجائیں۔
1927
Mishkaat Shareefوعن أبي مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أنفق المسلم نفقة على أهله وهو يحتسبها كانت له صدقة
حضرت ابومسعود (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو مسلمان اپنے اہل یعنی بیوی اور اقرباء پر کچھ خرچ کرتا ہے اور اس میں ثواب کی توقع رکھتا ہے تو اس کا یہ خرچ اس کے حق میں (بڑا مقبول) صدقہ ہوجاتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
1928
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : دينار أنفقته في سبيل الله ودينار أنفقته في رقبة ودينار تصدقت به على مسكين ودينار أنفقته على أهلك أعظمها أجرا الذي أنفقته على أهلك . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ایک دینار تو وہ ہے جسے تم اللہ کی راہ میں ( یعنی حج یا جہاد، یا طالب علم) میں خرچ کرو ایک دینار تو وہ جسے تم غلام کو آزاد کرنے میں خرچ کرو، تو ان تمام دیناروں میں از روئے ثواب سب سے بڑا دینار وہ ہے جسے تم نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا ہے۔ (مسلم)
1929
Mishkaat Shareefوعن ثوبان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل دينار ينفقه الرجل دينار ينفقه على عياله ودينار ينفقه على دابته في سبيل الله ودينار ينفقه على أصحابه في سبيل الله . رواه مسلم
حضرت ثوبان (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ بہتر دینار وہ ہے جو کوئی شخص اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے بہتر دینار وہ ہے جو کوئی شخص اپنے اس جانور پر خرچ کرے جو جہاد کے لئے پالا گیا ہو اور بہتر دینار وہ ہے جو کوئی شخص اپنے ان دوستوں پر خرچ کرے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہوں۔ (مسلم)
تشریح
یہاں مال و زر کے تین بہترین مصرف بیان فرمائے گئے ہیں کہ ان تینوں پر اپنا مال و زر خرچ کرنا ان کے علاوہ دوسروں پر خرچ کرنے سے بہتر ہے۔
تشریح
یہاں مال و زر کے تین بہترین مصرف بیان فرمائے گئے ہیں کہ ان تینوں پر اپنا مال و زر خرچ کرنا ان کے علاوہ دوسروں پر خرچ کرنے سے بہتر ہے۔
1930
Mishkaat Shareefوعن أم سلمة قالت : قلت : يا رسول الله ألي أجر أن أنفق على بني أبي سلمة ؟ إنما هم بني فقال : أنفقي عليهم فلك أجر ما أنفقت عليهم
ام المومنین حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک دن میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ابوسلمہ کے بیٹوں پر خرچ کرنے میں میرے لئے ثواب ہے کہ نہیں درآنحالیکہ وہ میرے ہی بیٹے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ان پر خرچ کرو جو چیز تم ان پر خرچ کرو گی اس کا تمہیں ثواب ملے گا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حضرت ابوسلمہ (رض) ایک صحابی تھے حضرت ام سلمہ (رض) پہلے ان کے عقد میں تھیں، ابوسلمہ سے ان کے کئی بچے ہوئے عمر زینب اور درہ، جب ابوسلمہ کا انتقال ہوگیا، تو ام سلمہ (رض) کو نبی کریم ﷺ کی زوجیت میں آنے کا شرف حاصل ہوا۔ ابوسلمہ سے ان کے جو بچے تھے وہ ان کے اخراجات میں انہیں کچھ دیا کرتی تھیں۔ چناچہ اسی کو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ ان کو میں جو کچھ دیتی ہوں آیا اس کا ثواب بھی مجھے ملتا ہے یا نہیں ؟ لہٰذا اس صورت میں بیٹوں سے حضرت ام سلمہ (رض) کے حقیقی بیٹے مراد ہوں گے جو ابوسلمہ (رض) سے تھے یا یہ بھی احتمال ہے کہ ابوسلمہ (رض) کی دوسری بیوی کے کچھ بچے ہوں گے ام سلمہ نے ان پر مال خرچ کرنے کے بارے میں آنحضرت ﷺ سے پوچھا اس صورت میں بیٹوں سے ام سلمہ (رض) کے سوتیلے بیٹے مراد ہوں گے۔
تشریح
حضرت ابوسلمہ (رض) ایک صحابی تھے حضرت ام سلمہ (رض) پہلے ان کے عقد میں تھیں، ابوسلمہ سے ان کے کئی بچے ہوئے عمر زینب اور درہ، جب ابوسلمہ کا انتقال ہوگیا، تو ام سلمہ (رض) کو نبی کریم ﷺ کی زوجیت میں آنے کا شرف حاصل ہوا۔ ابوسلمہ سے ان کے جو بچے تھے وہ ان کے اخراجات میں انہیں کچھ دیا کرتی تھیں۔ چناچہ اسی کو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ ان کو میں جو کچھ دیتی ہوں آیا اس کا ثواب بھی مجھے ملتا ہے یا نہیں ؟ لہٰذا اس صورت میں بیٹوں سے حضرت ام سلمہ (رض) کے حقیقی بیٹے مراد ہوں گے جو ابوسلمہ (رض) سے تھے یا یہ بھی احتمال ہے کہ ابوسلمہ (رض) کی دوسری بیوی کے کچھ بچے ہوں گے ام سلمہ نے ان پر مال خرچ کرنے کے بارے میں آنحضرت ﷺ سے پوچھا اس صورت میں بیٹوں سے ام سلمہ (رض) کے سوتیلے بیٹے مراد ہوں گے۔
1931
Mishkaat Shareefوعن زينب امرأة عبد الله بن مسعود قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تصدقن يا معشر النساء ولو من حليكن قالت فرجعت إلى عبد الله فقلت إنك رجل خفيف ذات اليد وإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أمرنا بالصدقة فأته فاسأله فإن كان ذلك يجزي عني وإلا صرفتها إلى غيركم قالت فقال لي عبد الله بل ائتيه أنت قالت فانطلقت فإذا امرأة من الأنصار بباب رسول الله صلى الله عليه و سلم حاجتي حاجتها قالت وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم قد ألقيت عليه المهابة . فقالت فخرج علينا بلال فقلنا له ائت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبره أن امرأتين بالباب تسألانك أتجزئ الصدقة عنهما على أزواجهما وعلى أيتام في حجورهما ولا تخبره من نحن . قالت فدخل بلال على رسول الله صلى الله عليه و سلم فسأله فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : من هما . فقال امرأة من الأنصار وزينب فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أي الزيانب . قال امرأة عبد الله فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : لهما أجران أجر القرابة وأجر الصدقة . واللفظ لمسلم
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی زوجہ محترمہ حضرت زینب (رض) کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ مجلس ذکر و نصیحت میں عورتوں کو مخاطب کرتے ہوئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اے عورتوں کی جماعت ! صدقہ و خیرات کرو، اگرچہ وہ تمہارے زیورات ہی میں سے کیوں نہ ہو ! حضرت زینب (رض) کہتی ہیں کہ یہ سن کر میں آنحضرت ﷺ کی مجلس سے عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آئی اور ان سے کہنے لگی کہ آپ خالی ہاتھ یعنی مفلس مرد ہیں اور چونکہ رسول کریم ﷺ نے ہمیں صدقہ و خیرات کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ اس لئے آپ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جا کر یہ معلوم کریں کہ اگر میں آپ پر اور آپ کی اولاد پر بطور صدقہ خرچ کروں تو آیا یہ صدقہ میرے لئے کافی ہوگا یا نہیں ؟ اگر آپ کو اور آپ کی اولاد کو میرا صدقہ دینا میرے لئے کافی ہوجائے تو پھر آپ ہی کو صدقہ دے دوں اور اگر یہ میرے لئے کافی نہ ہو تو پھر آپ کے علاوہ دوسرے لوگوں پر بطور صدقہ خرچ کروں ! حضرت زینب (رض) کہتی ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے مجھ سے کہا کہ تم ہی جاؤ اور رسول کریم ﷺ سے اس بارے میں پوچھ لو چناچہ میں خود آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں وہاں کیا دیکھتی ہوں کہ رسول کریم ﷺ کے دروازے پر انصار کی ایک عورت کھڑی ہے اور (وہاں آنے کی) ہماری حاجت یکساں تھی۔ (یعنی وہ وہ بھی معلوم کرنے آئی تھی کہ آیا میں اپنے صدقہ کا مال اپنے خاوند اور اس کے متعلقین کو دے سکتی ہوں یا نہیں ؟ حضرت زینب (رض) کہتی ہیں کہ چونکہ رسول کریم ﷺ کی ذات اقدس ہیبت و عظمت کا پیکر تھی اس لئے ہمیں آپ ﷺ کے پاس جانے کی جرات نہ ہوئی اور ہم وہاں سے نکل کر حضرت بلال (رض) کے پاس آئیں اور ان سے کہا کہ آپ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں جا کر کہئے کہ دروازے پر کھڑی ہوئی دو عورتیں آپ ﷺ سے پوچھتی ہیں کہ کیا اپنے شوہروں اور ان یتیموں کو جو ان کی پرورش میں ہیں ان کا صدقہ دینا ان کے لئے کافی ہوجائے گا مگر دیکھئے آنحضرت ﷺ کو یہ نہ بتائیے گا کہ ہم کون ہیں ؟ یعنی انہوں نے اپنے آپ کو ظاہر کر کے ریا سے بچنے میں مبالغہ کیا کہ پہلے تو آنحضرت ﷺ نے بلال سے پوچھا کہ دو عورتیں کون ہیں ؟ حضرت بلال (رض) نے کہا کہ ایک تو انصار کی کوئی عورت ہے اور دوسری زینب (رض) ہیں اپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ کون سی زینب ؟ (کیونکہ زینب نام کی کئی عورتیں ہیں) حضرت بلال (رض) نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی بیوی ! پھر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ (ان سے جا کر کہہ دو کہ اس صورت میں) ان کے لئے دوہرا ثواب ہے، ایک تو حق قربت کی ادائیگی کا اور دوسرا صدقہ دینے کا۔ (بخاری و مسلم الفاظ مسلم کے ہیں) ۔
تشریح
قد القیت علیہ المہایہ، کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کی ذات اقدس کو ہیبت و عظمت کا ایسا پیکر بنایا تھا کہ لوگ آپ ﷺ سے مرعوب ہوتے، ڈرتے اور آپ ﷺ کی بےانتہا تعظیم کرتے تھے اسی وجہ سے کسی کو بھی جرات نہیں ہوتی تھی کہ وہ اچانک آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچ جائے اور ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کی یہ عظمت وہیبت (نعوذ باللہ) آپ ﷺ کی کسی بد خلقی اور خشونت کی وجہ سے نہیں تھی۔ بلکہ یہ تو اللہ داد تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی اس عظمت وہیبت کو آپ ﷺ کی عزت و تعظیم کا سبب بنایا تھا۔ جب حضرت زینب (رض) نے حضرت بلال (رض) کو منع کردیا تھا کہ وہ ان کے نام آنحضرت ﷺ کو نہ بتائیں تو انہیں ان کی اس خواہش کا احترام کرنا چاہئے تھا مگر آنحضرت ﷺ نے چونکہ ان سے ان عورتوں کا نام پوچھا اس لئے آنحضرت ﷺ کے حکم کی بناء پر ان کے لئے یہ ہی ضروری ہوگیا تھا کہ وہ ان کا نام بتادیں چناچہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے حکم کی تعمیل کی۔ یہ حدیث کی وضاحت تھی اب اصل مسئلہ کی طرف آئیے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آیا کوئی عورت اپنے خاوند یا کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنی زکوٰۃ کا مال دے سکتا ہے یا نہیں۔ لہٰذا اس بارے میں تو بالاتفاق تمام علماء کا یہ مسلک ہے کہ کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنی زکوٰۃ کا مال نہ دے مگر اس کے برعکس صورت میں امام ابوحنیفہ تو یہ فرماتے ہیں کہ کوئی عورت اپنے خاوند کو اپنی زکوٰۃ کا مال نہ دے کیونکہ مرد کے منافع اور مال میں عادۃ اکثر دونوں ہی شریک ہوتے ہیں اس طرح کوئی عورت اپنے خاوند کو زکوٰۃ کا مال دے گی تو اس مال سے خود بھی فائدہ حاصل کرے گی جو جائز نہیں ہوگا۔ صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جس طرح مرد کا اپنی بیوی کو زکوٰۃ کا مال دینا جائز ہے اسی طرح بیوی بھی اپنی زکوٰۃ کا مال اپنے خاوند کو دے سکتی ہے ائمہ کے اس اختلاف کی بنا پر کہا جائے گا کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اس مذکور صدقہ سے صدقہ نفل مراد ہوگا اور صاحبین کے نزدیک اس سے صدقہ نفل بھی مراد ہوسکتا ہے اور صدقہ فرض یعنی زکوٰۃ کو بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔
تشریح
قد القیت علیہ المہایہ، کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کی ذات اقدس کو ہیبت و عظمت کا ایسا پیکر بنایا تھا کہ لوگ آپ ﷺ سے مرعوب ہوتے، ڈرتے اور آپ ﷺ کی بےانتہا تعظیم کرتے تھے اسی وجہ سے کسی کو بھی جرات نہیں ہوتی تھی کہ وہ اچانک آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچ جائے اور ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کی یہ عظمت وہیبت (نعوذ باللہ) آپ ﷺ کی کسی بد خلقی اور خشونت کی وجہ سے نہیں تھی۔ بلکہ یہ تو اللہ داد تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی اس عظمت وہیبت کو آپ ﷺ کی عزت و تعظیم کا سبب بنایا تھا۔ جب حضرت زینب (رض) نے حضرت بلال (رض) کو منع کردیا تھا کہ وہ ان کے نام آنحضرت ﷺ کو نہ بتائیں تو انہیں ان کی اس خواہش کا احترام کرنا چاہئے تھا مگر آنحضرت ﷺ نے چونکہ ان سے ان عورتوں کا نام پوچھا اس لئے آنحضرت ﷺ کے حکم کی بناء پر ان کے لئے یہ ہی ضروری ہوگیا تھا کہ وہ ان کا نام بتادیں چناچہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے حکم کی تعمیل کی۔ یہ حدیث کی وضاحت تھی اب اصل مسئلہ کی طرف آئیے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آیا کوئی عورت اپنے خاوند یا کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنی زکوٰۃ کا مال دے سکتا ہے یا نہیں۔ لہٰذا اس بارے میں تو بالاتفاق تمام علماء کا یہ مسلک ہے کہ کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنی زکوٰۃ کا مال نہ دے مگر اس کے برعکس صورت میں امام ابوحنیفہ تو یہ فرماتے ہیں کہ کوئی عورت اپنے خاوند کو اپنی زکوٰۃ کا مال نہ دے کیونکہ مرد کے منافع اور مال میں عادۃ اکثر دونوں ہی شریک ہوتے ہیں اس طرح کوئی عورت اپنے خاوند کو زکوٰۃ کا مال دے گی تو اس مال سے خود بھی فائدہ حاصل کرے گی جو جائز نہیں ہوگا۔ صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جس طرح مرد کا اپنی بیوی کو زکوٰۃ کا مال دینا جائز ہے اسی طرح بیوی بھی اپنی زکوٰۃ کا مال اپنے خاوند کو دے سکتی ہے ائمہ کے اس اختلاف کی بنا پر کہا جائے گا کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اس مذکور صدقہ سے صدقہ نفل مراد ہوگا اور صاحبین کے نزدیک اس سے صدقہ نفل بھی مراد ہوسکتا ہے اور صدقہ فرض یعنی زکوٰۃ کو بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔
1932
Mishkaat Shareefوعن ميمونة بنت الحارث : أنها أعتقت وليدة في زمان رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : لو أعطيتها أخوالك كان أعظم لأجرك
ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث (رض) کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ کے زمانے میں ایک لونڈی آزاد کی اور سرکار دو عالم ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم وہ لونڈی اپنے ماموں کو دے دیتیں تو تمہیں بہت زیادہ ثواب ملتا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ تمہارے ماموں کو چونکہ ایک خدمت گار کی ضرورت تھی اس لئے اگر تم وہ لونڈی انہیں دے دیتیں تو تمہیں صدقہ کا ثواب تو ملتا ہی اس کے ساتھ ہی صلہ رحمی کا ثواب بھی ملتا۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ تمہارے ماموں کو چونکہ ایک خدمت گار کی ضرورت تھی اس لئے اگر تم وہ لونڈی انہیں دے دیتیں تو تمہیں صدقہ کا ثواب تو ملتا ہی اس کے ساتھ ہی صلہ رحمی کا ثواب بھی ملتا۔
1933
Mishkaat Shareefوعن عائشة قالت : يا رسول الله إن لي جارين فإلى أيهما أهدي ؟ قال : إلى أقربهما منك بابا . رواه البخاري
ام المومنین حضرت عائشہ (رض) کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! میرے دو پڑوسی ہیں میں ان میں سے کسے تحفہ بھیجوں ؟ (یعنی پہلے یا زیادہ کسے دوں ؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا۔ اس پڑوسی کو جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔ (بخاری)
تشریح
اگر کسی کے دو پڑوسی ہوں اس طرح کہ ان میں ایک پڑوسی کی دیوار اپنے سے زیادہ قریب ہو اور دوسرے پڑوسی کا دروازہ زیادہ قریب ہو تو قریبی دروازہ والے ہی کو مقدم رکھا جائے۔ لیکن اتنی بات سمجھ لیجئے کہ یہاں حدیث میں حصر مراد نہیں ہے، یعنی آپ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف اسی کو دیا جائے دوسرے کو نہ دیا جائے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ پہلے یا زیادہ اس پڑوسی کو بھیجا جائے جس کا دروازہ قریب ہو اور اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس پڑوسی کا دروازہ زیادہ قریب ہوتا ہے اور اس سے ملنا جلنا اور اس کے یہاں آنا جانا زیادہ رہتا ہے جس کی وجہ سے اس کے حالات کا بھی زیادہ علم رہتا ہے لہٰذا اس کے ساتھ محبت و سلوک کا معاملہ کرنا اولیٰ ہے۔
تشریح
اگر کسی کے دو پڑوسی ہوں اس طرح کہ ان میں ایک پڑوسی کی دیوار اپنے سے زیادہ قریب ہو اور دوسرے پڑوسی کا دروازہ زیادہ قریب ہو تو قریبی دروازہ والے ہی کو مقدم رکھا جائے۔ لیکن اتنی بات سمجھ لیجئے کہ یہاں حدیث میں حصر مراد نہیں ہے، یعنی آپ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف اسی کو دیا جائے دوسرے کو نہ دیا جائے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ پہلے یا زیادہ اس پڑوسی کو بھیجا جائے جس کا دروازہ قریب ہو اور اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس پڑوسی کا دروازہ زیادہ قریب ہوتا ہے اور اس سے ملنا جلنا اور اس کے یہاں آنا جانا زیادہ رہتا ہے جس کی وجہ سے اس کے حالات کا بھی زیادہ علم رہتا ہے لہٰذا اس کے ساتھ محبت و سلوک کا معاملہ کرنا اولیٰ ہے۔
1934
Mishkaat Shareefوعن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا طبخت مرقة فأكثر ماءها وتعاهد جيرانك . رواه مسلم
حضرت ابوذر غفاری (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب تم شوربا پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ ڈالو اور اپنے ہمسایہ کا خیال رکھو۔ (مسلم)
تشریح
اس ارشاد گرامی کا منشاء یہ ہے کہ جب سالن پکاؤ تو اپنی لذت و خواہش ہی کو مقدم نہ رکھو بلکہ ہمسایہ اور پڑوسی کی ضرورت کا بھی خیال رکھو اور اس کی شکل یہ ہے کہ سالن میں پانی زیادہ ڈالو تاکہ شوربا زیادہ ہو اور تم اسے اپنے ہمسایہ میں ضرورت مند لوگوں کو بانٹ سکو۔
تشریح
اس ارشاد گرامی کا منشاء یہ ہے کہ جب سالن پکاؤ تو اپنی لذت و خواہش ہی کو مقدم نہ رکھو بلکہ ہمسایہ اور پڑوسی کی ضرورت کا بھی خیال رکھو اور اس کی شکل یہ ہے کہ سالن میں پانی زیادہ ڈالو تاکہ شوربا زیادہ ہو اور تم اسے اپنے ہمسایہ میں ضرورت مند لوگوں کو بانٹ سکو۔