hadith book logo

Mishkaat Shareef

53. تسبیح ، تحمید تہلیل اور تکبیر کے ثواب کا بیان

مشكاة المصابيح

2321
Mishkaat Shareef
صحیح
تسبیح سے مراد ہے سبحان اللہ کہنا تحمید سے مراد الحمدللہ کہنا اور تہلیل سے مراد ہے لاالہ الا اللہ کہنا اور تکبیر سے مراد ہے اللہ اکبر کہنا۔
2322
Mishkaat Shareef
صحیح
عن سمرة بن جندب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الكلام أربع : سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر وفي رواية : أحب الكلام إلى الله أربع : سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر لا يضرك بأيهن بدأت . رواه مسلم
حضرت سمرہ بن جندب کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا انسان کے کلام میں سب سے بہتر کلام چار ہیں اور وہ یہ ہیں۔ سبحان اللہ (اللہ پاک ہے) الحمدللہ (تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں) لاالہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) اللہ اکبر (اللہ بہت بڑا ہے) ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کلام چار ہیں (١) سبحان اللہ (٢) الحمدللہ (٣ لاالہ الا اللہ (٤) اللہ اکبر۔ ان میں سے کسی بھی کلمہ سے شروع کرنا تمہارے لئے نقصان دہ نہیں ہے۔ (مسلم)

تشریح
سب سے بہتر کلام چار ہیں۔ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے بعد انسان کے کلام میں یہ چار کلمے سب سے افضل ہیں یہ وضاحت اور ترجمہ میں انسان کی قید اس لئے ہے کہ چوتھا کلمہ یعنی اللہ اکبر قرآن کریم میں نہیں ہے اور یہ ایک ظاہر بات ہے کہ جو چیز قرآن میں نہیں ہے وہ اس چیز سے افضل نہیں جو قرآن میں ہے لیکن اور ایک حدیث میں اس طرح ہے افضل الکلام بعد القرآن وہی من القرا ان۔ یعنی یہ کلمے مجموعہ قرآن کے بعد افضل کلمے ہیں اور یہ کلمے بھی قرآن ہی کے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کلام سے انسانی کلام کے ساتھ اللہ بھی مراد ہے یعنی یہ چار کلمے اللہ تعالیٰ کے تمام کلام میں افضل ترین کلمے ہیں اس صورت میں کہا جائے گا کہ ان میں سے اول الذکر تین کلمے تو بعینہ قرآن میں موجود ہیں اور چوتھا کلمہ اگرچہ بعینہ قرآن میں نہیں ہے لیکن اس آیت (وَكَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا) 17 ۔ الاسراء 111) میں بالمعنی یقینا موجود ہے۔ اس موقع پر یہ بات ذہن نشین ہونی چاہئے کہ یہ چاروں کلمے اگرچہ افضل ہیں لیکن احادیث سے جو ذکر کسی حال یا کسی وقت سے متلعق ثابت ہے اس حالت یا اس وقت میں اس ذکر میں مشغول ہونا تسبیح وغیرہ سے افضل ہے۔ دوسری روایت کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ ان چاروں کلموں کو پڑھتے وقت مذکورہ ترتیب ضروری نہیں ہے چاہے کوئی پہلے سبحان اللہ کہے اور چاہے کوئی پہلے الحمد للہ کہے یا لاالہ الا اللہ یا اللہ اکبر کہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم طیبی نے کہا ہے کہ چاروں کلمات کو مذکورہ ترتیب کے ساتھ پڑھنا عزیمت یعنی اولیٰ ہے اور بغیر ترتیب کے پڑھنا رخصت یعنی جائز ہے۔
2323
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن أقول : سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر أحب إلي مما طلعت عليه الشمس . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میرا سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر کہنا بلا شبہ میرے نزدیک اس چیز سے جس پر آفتاب طلوع ہوتا ہے (یعنی دنیا اور دنیا کی چیزوں سے زیادہ پسندیدہ ہے) (مسلم)
2324
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال : سبحان الله وبحمده في يوم مائة مرة حطت خطاياه وإن كانت مثل زبد البحر
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی دن میں سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ پڑھا تو اس کے گناہ ختم کر دئیے جاتے ہیں اگرچہ وہ دریا کے جھاگ کی مانند یعنی کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
طیبی فرماتے ہیں کہ سو مرتبہ چاہے تو کئی مرتبہ کر کے پڑھا جائے دن کے ابتدائی یا آخری حصہ میں ایک ہی دفعہ میں پڑھ لیا جائے دونوں طرح درست ہے لیکن افضل اور اولیٰ یہی ہے کہ دن کے ابتدائی حصہ میں ایک ہی دفعہ پڑھ لیا جائے افضل ہے۔
2325
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال حين يصبح وحين يمسي : سبحان الله وبحمده مائة مرة لم يأت أحد يوم القيامة بأفضل مما جاء به إلا أحد قال مثل ما قال أو زاد عليه )
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس نے صبح کے وقت اور شام کے وقت سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہا تو قیامت کے دن کوئی شخص اس عمل سے بہتر کوئی عمل نہیں لائے گا علاوہ اس شخص کے جس نے اس کی مانند یا اس سے زیادہ کہا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
اس موقع پر ایک اشکال پیدا ہوتا ہے حدیث کی ظاہری عبارت سے یہ مفہوم معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے پہلے شخص کی مانند کیا یعنی اس نے پہلے شخص کی طرح صبح وشام کے وقت سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہا تو وہ قیامت کے دن اس عمل سے افضل لائے گا جو یہ پہلا لائے گا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ دوسرے شخص نے اگر پہلے شخص کی طرح سبحان اللہ وبحمدہ صبح وشام سو سو مرتبہ کہا تو وہ قیامت کے دن پہلے ہی شخص کی طرح عمل لے کر حاضر ہوگا نہ کہ اس سے افضل عمل لائے گا۔ اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ حدیث کی عبارت حقیقت ومعنی کے اعتبار سے یوں ہے کہ قیامت کے دن کوئی شخص اس عمل کے برابر کوئی عمل نہیں لائے گا جو یہ شخص لائے گا اور نہ اس کے عمل سے افضل کوئی عمل لائے گا علاوہ اس شخص کے جس نے اس کی مانند (سبحان اللہ وبحمدہ صبح وشام کے وقت سو سو مرتبہ سے زیادہ کہا) تو وہ اس پہلے شخص کے عمل سے افضل عمل لائے گا۔ یا پھر کہا جائے گا کہ کہ مثل ما قال اوزاد علیہ میں حرف او معنی کے اعتبار سے حرف واؤ کی جگہ استعمال کیا گیا ہے۔
2326
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كلمتان خفيفتان على اللسان ثقيلتان في الميزان حبيبتان إلى الرحمن : سبحانه الله وبحمده سبحانه الله العظيم
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دو کلمے ہیں جو زبان میں کہنے سے تو ہلکے ہیں لیکن ترازو میں بہت بھاری ہیں (یعنی ان کا ثواب میزان عمل میں بھاری ہوگا اور بخشنے والے اللہ کے نزدیک بہت پیارے ہیں اور وہ دو کلمے یہ ہیں سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ یعنی اللہ پاک ہے اور اپنی حمد کے ساتھ موصوف ہے پاک ہے جو اللہ بڑا ہے۔ (بخاری ومسلم)
2327
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن سعد بن أبي وقاص : قال : كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أيعجز أحدكم أن يكسب كل يوم ألف حسنة ؟ فسأله سائل من جلسائه : كيف يكسب أحدنا ألف حسنة ؟ قال : يسبح مائة تسبيحة فيكتب له ألف حسنة أو يحط عنه ألف خطيئة . رواه مسلم وفي كتابه : في جميع الروايات عن موسى الجهني : أو يحط قال أبو بكر البرقاني ورواه شعبة وأبو عوانة ويحيى بن سعيد القطان عن موسى فقالوا : ويحط بغير ألف هكذا في كتاب الحميدي
حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن جب کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ہر روز ایک ہزار نیکیاں حاصل کرے ؟ مجلس میں موجود صحابہ میں سے ایک صحابی نے پوچھا کہ ہم میں سے کوئی شخص (روزانہ بسہولت) ایک ہزار نیکیاں کس طرح حاصل کرسکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ ایک سو مرتبہ سبحان اللہ پڑھ لے اس کے لئے ایک ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی بایں حساب کہ ہر نیکی پر دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا اس کے ایک ہزار صغیرہ اگر اللہ چاہے گا تو کبیر گناہ دور کئے جائیں گے۔ (مسلم) ابوبکر برقانی کہتے ہیں کہ صحیح مسلم میں موسیٰ جہنی سے جو روایتیں منقول ہیں ان سب میں لفظ او یحط ہی نقل کیا گیا ہے لیکن شعبہ، ابوعوانہ اور یحییٰ بن سعید قطان نے موسیٰ جہنی ہی سے یہ روایت نقل کی ہے اس میں لفظ ویحط بغیر الف کے ذکر کیا ہے اور کتاب حمیدی یعنی جمع بین الصحیحین میں بھی اسی طرح منقول ہے۔

تشریح
او یحط کے پیش نظر تو حدیث کا مفہوم یہ ہوگا کہ دونوں میں سے کوئی ایک بات ہوتی ہے یا تو ایک ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں ایک ہزار گناہ دور کئے جاتے ہیں جبکہ ویحط کی صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ ایک ہزار نیکیاں بھی لکھی جاتی ہیں اور ایک ہزار گناہ بھی دور کئے جاتے ہیں۔ ترمذی، نسائی اور ابن حبان کی روایتیں بھی اسی مفہوم کی تائید کرتی ہیں کیونکہ ان میں لفظ ویحط ہی ہے لہٰذا بظاہر تو دونوں روایتوں میں منافات معلوم ہوتی لیکن اگر ذہن میں یہ بات رہے کہ کبھی بھی واؤ معنی کے اعتبار سے او کی جگہ پر استعمال ہوتا ہے تو کوئی منافات نظر نہیں آئے گی اور دونوں روایتوں کا ایک مفہوم نکلے گا اس صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جس شخص نے یہ تسبیح پڑھی اس کے لئے ایک ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں اگر اس کے ذمہ گناہ نہ ہوں گے یا اس کے ایک ہزار گناہ دور کر دئیے جائیں گے اگر اس کے ذمے گناہ ہوں گے۔
2328
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي ذر قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم أي الكلام أفضل ؟ قال : ما اصطفى الله لملائكته : سبحان الله وبحمده . رواه مسلم
حضرت ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا کلام بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ کلام جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے لئے چن لیا ہے (اور وہ یہ ہے) سبحان اللہ وبحمدہ۔ (مسلم)

تشریح
چن لیا ہے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر میں سے اس کلمہ کو اپنے فرشتوں کے لئے چن لیا ہے اور اس کلمہ کی انتہائی فضیلت کی وجہ سے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے ہمیشہ پڑھتے رہا کریں۔ سبحان اللہ وبحمدہ چاروں کلموں یعنی سبحان اللہ والحمدللہ والا الہ الا اللہ واللہ اکبر کا اختصار ہے کیونکہ تشریح میں شرک کی نفی بھی ہوتی ہے جو تہلیل کا حاصل ہے اور اس سے اللہ اکبر یعنی بہت بڑا ہونا بھی لازم آتا ہے۔
2329
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جويرية أن النبي صلى الله عليه و سلم خرج من عندها بكرة حين صلى الصبح وهي في مسجدها ثم رجع بعد أن أضحى وهي جالسة قال : ما زلت على الحال التي فارقتك عليها ؟ قالت : نعم قال النبي صلى الله عليه و سلم : لقد قلت بعدك أربع كلمات ثلاث مرات لو وزنت بما قلت منذ اليوم لوزنتهن : سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضاء نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته . رواه مسلم
حضرت جویریہ (رض) (جو آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ ہیں) سے منقول ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ صبح کے وقت نماز فجر کے لئے ان کے پاس سے نکلے اور وہ اپنے مصلی پر بیٹھی ہوئی تھیں جب رسول کریم ﷺ چاشت کے وقت واپس تشریف لائے وہ اپنی جگہ یعنی مصلی پر بدستور بیٹھی ہوئی تھیں آپ ﷺ نے ان کو دیکھ کر فرمایا کہ جس حالت میں تمہیں چھوڑ کر گیا تھا اسی طرح مسلسل بیٹھی ہوئی ہو ؟ یعنی صبح کے وقت سے اب تک کہ چاشت کا وقت آگیا ہے مصلی پر بیٹھی ہوئی اسی طرح ذکر الٰہی میں مشغول ہو) انہوں نے کہا کہ جی ہاں نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چار کلمے تین مرتبہ کہے ہیں وہ چار کلمے ایسے ہیں کہ اگر ان کو اس چیز سے تولا جائے جس کے کہنے میں تم ابتداء دن سے اب تک مشغول رہی ہو (یعنی ذکر میں تو یقینا چار کلمے اس چیز پر بھاری رہیں گے (یعنی ان چار کلموں کا ثواب اس پورے وقت ذکر الٰہی میں تمہاری مشغولیت کے ثواب سے زیادہ ہوگا۔ اور وہ چار کلمے یہ ہیں سبحان اللہ وبحمدہ عدد خلقہ و رضاء نفسہ وزنۃ عرشہ ومداد کلماتہ۔ میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں اور اس کی تعریف کرتا ہوں اس کی مخلوقات کی تعداد کے بقدر اور اس کی ذات کی مرضی کے موافق اور اس کے عرش کے وزن کے مطابق اور اس کے کلموں کی مقدار کے مانند ہے۔ (مسلم)

تشریح
اور اس کے کلموں کی مانند میں کلموں سے مراد یا تو ان کی کتابیں اور ان کے صحیفے ہیں یا اس کے اسماء ہیں اسی طرح کی صفات یا اس کے اوامر بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ذکر میں کیفیت کا اعتبار ہوتا ہے کمیت کا نہیں ! یعنی وہ تسبیحات وغیرہ جن کے مضامین اعلیٰ اور بہت خوب ہوں اور جنہیں قلب کے حضور و اخلاص کے ساتھ پڑھا جائے اگرچہ کم ہوں مگر ان تسبیحات کے مضامین سے افضل ہیں جو ایسی نہ ہوں اور جنہیں پڑھتے وقت حضور قلب و اخلاص کی دولت میسر نہ ہو اگرچہ وہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں اسی پر قیاس کرتے ہوئے سمجھا جاسکتا ہے کہ غور و فکر اور حضور اخلاص کے ساتھ قرآن کی تلاوت وقرأت گرچہ ایک ہی آیت ہو، اس قرأت و تلاوت سے افضل ہے جو ان چیزوں سے خالی ہو۔ چاہے وہ بہت ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔
2330
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال : لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير في يوم مائة مرة كانت له عدل عشر رقاب وكتبت له مائة حسنة ومحيت عنه مائة سيئة وكانت له حرزا من الشيطان يومه ذلك حتى يمسي ولم يأت أحد بأفضل مما جاء به إلا رجل عمل أكثر منه
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص یہ کلمات لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل چیز قدیر اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اس کے لئے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے دن میں سو مرتبہ کہے اس کو سو غلاموں کے آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اس کے سو گناہ دور کئے جاتے ہیں اور اس کو اس دن شام تک شیطان سے پناہ حاصل رہتی ہے اور (قیامت کے دن) کوئی اس کے لائے ہوئے (اس عمل سے بہتر کوئی عمل لے کر نہیں آئے گا علاوہ اس شخص کے جس نے ان کلمات کو اس سے زیادہ پڑھا ہو۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
ظاہری طور پر یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص ان کلمات کو شام کے وقت پڑھے تو اسے بھی اسی طرح صبح تک شیطان سے پناہ حاصل رہے گی لہٰذا ہوسکتا ہے کہ اس بات کو راوی نے اختصار کے پیش نظر بیان کرنے سے چھوڑ دیا ہو یا یہ کہ خود نبی کریم ﷺ ہی نے اسے بیان نہ کیا ہو کیونکہ حدیث کے ظاہری مفہوم سے یہ بات خود واضح ہوجاتی ہے۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ حدیث میں جو کچھ فضیلت اور جو کچھ ثواب بیان کیا گیا ہے وہ اس صورت میں ہے جب کہ کوئی شخص ان کلمات کو سو مرتبہ پڑھے چناچہ ان کلمات کو جتنا زیادہ پڑھے گا اسے اتنا ہی زیادہ اجر وثواب حاصل ہوگا پھر یہ کہ چاہے کوئی ان کلمات کو مختلف اوقات میں اور متفرق طور پر سو مرتبہ پڑھے اور چاہے تو ایک وقت میں اور اکٹھا سو مرتبہ پڑھے۔ ہر دو صورت میں اسے مذکورہ ثواب حاصل ہوگا لیکن افضل یہی ہے کہ ان کلمات کو ایک ہی دفعہ میں سو مرتبہ اور دن کے ابتدائی حصہ میں پڑھا جائے تاکہ پورا دن شیطان سے پناہ حاصل رہے۔