hadith book logo

Mishkaat Shareef

93. منسوبہ کو دیکھنے اور جن اعضا کو چھپانا واجب ہے ان کا بیان

مشكاة المصابيح

3129
Mishkaat Shareef
صحیح
مخطوبہ سے مراد وہ عورت ہے جس سے نکاح کا پیغام دیا گیا ہو عورت سے مراد جس کے وہ اعضاء ہیں جن جن کو چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔ منسوبہ کو دیکھنے کا مسئلہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ حضرت امام شافعی حضرت امام احمد اور اکثر علماء کے نزدیک اپنی منسوبہ کو نکاح سے پہلے دیکھ لینا جائز ہے خواہ منسوبہ اس بات کی اجازت دے یا نہ دے۔ حضرت امام مالک کے ہاں اپنی منسوبہ کو نکاح سے پہلے دیکھنا اسی صورت میں جائز ہے جب کہ اس کی اجازت حاصل ہو اس کی اجازت کے بغیر دیکھنا جائز نہیں ہے لیکن ایک روایت کے مطابق حضرت امام مالک کے ہاں منسوبہ کو دیکھنا مطلقا ممنوع ہے۔ اس بارے میں فقہی مسئلہ یہ بھی ہے کہ بہتر اور مناسب یہی ہے کہ مرد اپنی منسوبہ کو دیکھنے کی بجائے کسی تجربہ کار اور معتمد عورت کو بھیج دے تاکہ وہ اس کی منسوبہ کو دیکھ کر مطلوبہ معلومات فراہم کر دے۔
3130
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي هريرة قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إني تزوجت امرأة من الأنصار قال : فانظر إليها فإن في أعين الأنصار شيئا . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں ایک انصاری عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہو اس بارے میں آپ ﷺ کی کیا ہدایت ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اس عورت کو دیکھ لو تو اچھا ہے کیونکہ بعض انصاریوں کی آنکھوں میں کچھ خرابی ہے ( مسلم)

تشریح
آپ ﷺ کی اس ہدایت کا مطلب یہ تھا کہ چونکہ بعض انصاریوں کی آنکھ میں کچھ خرابی ہے جس سے طبیعت میں تکدر پیدا ہوتا ہے اس لئے مناسب ہے کہ تم اپنی منسوبہ کو دیکھ کر یہ اطمینان کرلو کہ اس کی آنکھوں میں تو کوئی نقص نہیں ہے۔ علامہ نووی نے (فی اعین الانصار شیأ) کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ بعض انصاریوں کی آنکھیں کیری یا کرنجی ہوتی ہیں بہرکیف اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ خیر خواہی کے نکتہ نظر سے کسی چیز کا عیب و نقصان بیان کردینا جائز ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نکاح کا پیغام بھیجنے سے پہلے اپنی منسوبہ کو دیکھ کر مرد سے اس کے حالات بتادے نیز اس بارے میں مسئلہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ اپنی منسوبہ کا صرف منہ اور اس کی ہتھیلیاں ہی دیکھنا مباح ہے اگرچہ جنسی ہیجان سے مامون نہ ہو کیونکہ اس کے لئے یہ دونوں اعضاء ستر کے حکم میں نہیں ہے۔
3131
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تباشر المرأة المرأة فتنعتها لزوجها كأنه ينظر إليها
اور حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی عورت اپنا برہنہ جسم کسی دوسری عورت کے برہنہ جسم سے نہ لگائے اور نہ اس عورت کے جسم کا حال اپنے خاوند کے سامنے بیان کرے ( کیونکہ اپنے خاوند کے سامنے کسی اجنبی عورت کے جسم کا حال بیان کرنا ایسا ہی ہے) جیسا کہ اس کا خاوند اس عورت کے جسم کو خود دیکھ رہا ہو ( بخاری ومسلم)

تشریح
کسی عورت کا اپنے جسم کو برہنہ کر کے کسی دوسری عورت کے برہنہ جسم سے مس کرنا اور پھر اس عورت کے جسم کی خصوصیات یعنی گداز پن وغیرہ اپنے شوہر کے سامنے بیان کرنا انتہائی معیوب بات ہے چناچہ آپ ﷺ نے اس سے عورتوں کو منع کیا ہے کیونکہ یہ نہ صرف بےشرمی کی بات اور غیر اخلاقی حرکت ہے بلکہ اس سے یہ بھی خطرہ ہے کہ اس کا خاوند کسی اجنبی عورت کے جسم کی پرکشش خصوصیات سن کر نفسانی ہیجان اور گندے خیالات میں مبتلا ہوجائے جو فتنہ و برائی کی جڑ ہے۔
3132
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ينظر الرجل إلى عورة الرجل ولا المرأة إلى عورة المرأة ولا يفضي الرجل إلى الرجل في ثوب واحد ولا تفضي المرأة إلى المرأة في ثوب واحد . رواه مسلم
اور حضرت ابوسعید راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی مرد کسی دوسرے مرد کے ستر کی طرف نہ دیکھے کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ستر کی طرف نہ دیکھے دو برہنہ مرد ایک کپڑے میں جمع نہ ہوں اور نہ دو برہنہ عورتیں ایک کپڑے میں جمع ہوں ( مسلم)

تشریح
شریعت نے مرد و عورت کے جسم کے جن حصوں اور اعضاء کو باہم دیکھنے اور چھونے کی ممانعت کی ہے ان کو ستر کہا جاتا ہے اور جسم کے ان حصوں کو عام نظروں سے چھپانا ڈھانکنا ضروری ہے اس بارے میں جو فقہی تفصیل ہے وہ اس طرح ہے کہ مرد کا ستر اس کے جسم کا وہ حصہ ہے جو زیرناف سے گھٹنوں کے نیچے تک ہوتا ہے اس کے جسم کے اس حصہ کو بلا ضرورت دیکھنا نہ تو کسی مرد کے لئے جائز ہے اور نہ کسی عورت کے لئے ہاں اس مرد کی بیوی یا لونڈی دیکھ سکتی ہے، مرد کے جسم کے اس حصہ کے علاوہ بقیہ حصوں کو دیکھنا مرد کے لئے بھی جائز ہے اور عورت کے لئے بھی بشرطیکہ عورت جنسی ہیجان سے مامون ہو اگر عورت جنسی ہیجان سے مامون نہ ہو تو پھر وہ غیر مرد کے جسم کے کسی بھی حصہ کو مطلقًا نہ دیکھے۔ اسی طرح عورت کا ستر عورت کے حق میں اس کے جسم کا زیر ناف سے زانوں تک کا حصہ ہے لہذا عورت کے جسم کے اس حصہ کو بلا ضرورت دیکھنا عورت کے لئے بھی جائز نہیں ہے جب کہ عورت کا ستر اجنبی مرد کے حق میں اس کا پورا جسم ہے، یعنی مرد کے لئے کسی اجنبی عورت کے جسم کے کسی بھی حصہ پر نظر ڈالنا جائز نہیں ہے ہاں ایک روایت کے مطابق عورت کا چہرہ، اس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر اس کے ستر میں داخل نہیں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی اجنبی عورت کا ان اعضاء کا دیکھنا غیر مرد کے لئے جائز ہے بشرطیکہ وہ مرد جنسی ہیجان سے مامون ہو اگر جنسی ہیجان سے مامون نہ ہو تو پھر اس کے لئے ان اعضاء کا دیکھنا بھی جائز نہیں ہوگا۔ البتہ کسی خاص ضرورت کے وقت دیکھنا جائز ہوگا خواہ جنسی ہیجان سے مامون ہو یا مثلا گواہ کسی معاملہ میں گواہی کے وقت یا حاکم کسی معاملہ کے فیصلہ کے وقت ہر حالت میں ان اعضاء کو دیکھ سکتا ہے اسی طرح عورت کے ان اعضاء یعنی چہرہ اور ہاتھ پیر کو چھونا غیر مرد کے لئے جائز نہیں ہے اگرچہ وہ جنسی ہیجان سے مامون ہی کیوں نہ ہو بشرطیکہ عورت جوان ہو ہاں اگر عورت اتنی عمر رسیدہ ہو کہ نفسانی خواہش اس کی طرف مائل ہی نہ ہوتی ہو یا اتنا بڈھا ہو کہ خود بھی اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو اور اس عورت کے نفس کی طرف سے بھی مطمئن ہو تو اس صورت میں ان اعضاء کو چھونا جائز ہوگا۔ مرد کو اپنی بیوی کے جسم کا ہر حصہ دیکھنا جائز ہے اسی طرح اپنی اس لونڈی کا پورا جسم دیکھنا جائز ہے جس سے مجامعت حلال ہو۔ عورت کا ستر اس کے محرم کے حق میں اس کی پیٹھ، پیٹ اور زیرناف سے گھٹنوں کے نیچے تک کا حصہ ہے۔ لہذا کسی عورت کے جسم کے ان حصوں اور اعضاء کو دیکھنا اور چھونا اس کے محرم کے لئے جائز نہیں ہے اگرچہ وہ جنسی ہیجان سے مامون ہی کیوں نہ ہو چونکہ عورت کا سر چنڈلی بازو اور سینا اس کے محرم کے میں ستر نہیں ہے اس لئے ان اعضاء کو محرم دیکھ سکتا ہے بشرطیکہ جنسی ہیجان سے مامون ہو۔ مرد کے حق میں غیر کی لونڈی کا ستر اس کی محرمہ کے ستر کی مانند ہے یعنی پیٹھ، پیٹ اور زیر ناف سے گھٹنوں کے نیچے تک کا حصہ لہذا غیر کی لونڈی کے جسم کے ان حصوں اور اعضاء کو جو اس کے ستر کے حکم میں ہے دیکھنے اور چھونے کے بارے میں وہی تفصیل ہے جو اپنی محرمہ کے جسم کے مستور حصوں کو دیکھنے اور چھونے کی ہے۔ خوبصورت مرد کو نفسانی خواہش کے ساتھ دیکھنا یا اس کو ہاتھ لگانا حرام ہے کسی عورت کو اس سے نکاح کے ارادہ کے وقت یا کسی لونڈی کو اس کی خریداری کے وقت نفسانی خواہش کے خوف کے باوجود دیکھنا یا ہاتھ لگانا جائز ہے۔ غلام اپنی مالکہ یعنی مالک کی بیوی کے حق میں اجنبی مرد کی طرح ہے یعنی جس طرح اس کے لئے اجنبی مرد سے پردہ کرنا ضروری ہے اسی طرح غلام سے بھی پردہ کرنا چاہئے ایسے ہی ہیجڑا اور خواجہ سرا بھی مرد کی مانند ہے۔ علماء فقہ لکھتے ہیں کہ اجنبی عورت پر نظر ڈالنا حرام ہے خواہ یہ نظر ڈالنا نفسانی خواہش کے تحت ہو یا اس کے بغیر۔ دو برہنہ مرد ایک کپڑے میں جمع نہ ہوں کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ دو ننگے مردوں کا ایک کپڑے میں یکجا ہونا یا دو ننگی عورتوں کا ایک کپڑے میں اکٹھا ہونا اگرچہ بحسب عادت کسی برائی کا محل نہیں رکھتا لیکن اس کے باوجود یہ حرام اور مکروہ ہے کیونکہ یہ چیز بہرحال شرم وحیا کے منافی ہے۔
3133
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا لا يبتن رجل عند امرأة ثيب إلا أن يكون ناكحا أو ذا محرم . رواه مسلم (2/203) 3102 - [ 5 ] ( متفق عليه ) وعن عقبة بن عامر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إياكم والدخول على النساء فقال رجل : يا رسول الله أرأيت الحمو ؟ قال : الحمو الموت
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا خبردار کوئی مرد کسی ثیب عورت کے ساتھ شب نہ گزارے الاّ یہ کہ وہ مرد منکوح یعنی خاوند ہو یا محرم ہو ( مسلم ٩)

تشریح
یہاں رات گزرانے سے مراد تنہائی میں ملنا ہے لہذا اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مرد کسی اجنبی ثیب عورت کے ساتھ کسی جگہ تنہائی میں اکٹھا نہ ہو خواہ رات ہو یا دن ہو۔ ثیب اس عورت کو کہتے میں جس سے جماع ہوچکا ہو یا جو خاوند کرچکی ہو لیکن یہاں ثیب سے مراد جوان عورت ہے خواہ وہ کنواری ہو یا غیر کنواری ہو محرم سے مراد ہے جس سے نکاح کرنا ابدی طور پر ناجائز ہو جیسے بیٹا بھائی اور داماد وغیرہ اگرچہ یہ محرمیت دودھ کے رشتہ ہی کی وجہ سے کیوں نہ ہو۔ اور حضرت عقبہ بن عامر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اجنبی عورتوں کے نزدیک جانے سے اجتناب کرو جبکہ وہ تنہائی میں ہوں یا ننگی کھلی بیٹھی ہوں ایک شخص نے یہ سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! حمو کے بارے میں آپ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا خیال ہے ؟ کی ا ان کے لئے بھی یہ ممانعت ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ حمو تو موت ہے (بخاری ومسلم تشریح حمو شوہر کے قرابت داروں کو کہتے ہیں جیسے بھائی یعنی عورت کا دیور وغیرہ ہاں شوہر کا باپ اور شوہر کا بیٹا حمو میں داخل نہیں ہے۔ حمو تو موت ہے، کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح موت انسانی کی ظاہری اور دنیوی زندگی کو ہلاک کردیتی ہے اس طرح حمو کا تنہائی میں غیر محرم عورت کے پاس جانا اس کی دینی اور اخلاقی زندگی کو ہلاکت و تباہی کے راستہ پر ڈال دیتا ہے کیونکہ عام طور پر لوگ غیر محرم عورتوں کے ساتھ حمو کے خلط ملط کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اس لئے ان کے عورتوں کے پاس آتے جاتے رہنے اور ان کے ساتھ بےمحابا نشست و برخواست رکھنے کی وجہ سے ان کا کسی برائی میں مبتلا ہوجانا زیادہ مشکل نہیں رہتا اس کی وجہ سے فتنے سر ابھارتے ہیں اور نفس برائیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہ جملہ الحمو الموت ( یعنی حمو تو موت ہے لفظ موت کا ذکر دراصل اس محاورہ کی بنیاد پر جو اہل عرب کے ہاں عام طور پر کسی خطرناک چیز سے خوف دلانے کے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ اہل عرب کہہ دیا کرتے ہیں کہ شیر مرگ ہے یا بادشاہ آگ ہے۔ چناچہ ان جملوں کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ شیر کے قریب جانا موت کی آغوش میں چلا جانا ہے یا بادشاہ کی قربت آگ کی قربت کی مانند ہے لہذا ان سے بچنا چاہئے۔
3134
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر : أن أم سلمة استأذنت رسول الله في الحجامة فأمر أبا طيبة أن يحجمها قال : حسبت أنه كان أخاها من الرضاعة أو غلاما لم يحتلم . رواه مسلم
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ نے رسول کریم ﷺ سے سینگی کھچوانے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے حضرت ابوطیبہ کو سینگی کھینچنے کا حکم دیا حضرت جابر کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ حضرت ابوطیبہ کو سینگی کھینچنے کا حکم دینے کی وجہ یہ تھی کہ وہ حضرت ام سلمہ کے دودھ شریک بھائی تھے یا ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے ( مسلم ٩

تشریح
حضرت جابر کا اپنے گمان کا اظہار کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت ام سلمہ کو سینگی کھچوانے کی ضروری حاجت نہیں تھی کیونکہ ضرورت کے وقت اجنبی مرد کے لئے بھی جائز ہے کہ وہ کسی عورت کے سینگی کھینچے اور فصد کھولے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی بھی معالج علاج معالجہ کے وقت عورت کے پورے جسم کو دیکھ سکتا ہے۔
3135
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جرير بن عبد الله قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن نظر الفجاءة فأمرني أن أصرف بصري . رواه مسلم
اور حضرت جریر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے کسی اجنبی عورت پر ناگہاں نظر پڑجانے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں اپنی نظر فورًا پھیر لوں (مسلم

تشریح
اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ کسی اجنبی عورت کی طرف دیکھتا نہ رہے بلکہ فورًا اپنی نظر پھیر لے اور پھر دوبارہ اس کی طرف نہ دیکھے، کیونکہ پہلی نظر جو بلا قصد و ارادہ پڑی ہے معاف ہے مگر فی الفور نظر پھیرلینا چونکہ واجب ہے اس لئے پہلی نظر کے بعد اس عورت کی طرف دیکھتے رہنا گناہ کی بات ہے چناچہ قرآن کریم کی اس آیت میں بھی یہی حکم ہے آیت (قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ) ( 24 ۔ النور 30) مؤمنوں سے کہدیجئے کہ اپنی نظریں پست کریں، ، ہاں کسی ضرورت کے وقت مثلا نکاح وغیرہ کے لئے پہلی نظر کے بعد بھی دیکھنا جائز ہے اگر کسی عورت کے جسم کے کسی حصے پر زخم وغیرہ ہو یا فصد کھلوانی ہو اور یا جسم کا کوئی حصہ کسی مرض کی وجہ سے معالج کو دیکھنا ہو تو وہ اپنے جسم کے صرف اسی حصہ کو دکھائے جہاں زخم ہو یا جس جگہ فصد کھلوانی ہو اور یا جس حصہ کو دکھانا ضروری ہو اور جس کے باقی حصہ کو کپڑے سے چھپائے رکھے۔
3136
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المرأة تقبل في صورة شيطان وتدبر في صورة شيطان إذا أحدكم أعجبته المرأة فوقعت في قلبه فليعمد إلى امرأته فليواقعها فإن ذلك يرد ما في نفسه . رواه مسلم
اور حضرت جابر راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عورت شیطان کی صورت میں آتی ہے اور شیطان کی صورت میں جاتی ہے۔ لہذا جب تم میں سے کسی کو کوئی اجنبی عورت اچھی لگے اور وہ اس کے دل میں گھر کرنے لگے تو اسے چاہئے کہ وہ فورًا اپنی بیوی کے پاس چلا جائے اور اس سے مباشرت کرلے کیونکہ یہ مباشرت اس چیز کو ختم کر دے گی جو اس کے دل میں پیدا ہوگئی ہے ( یعنی جنسی خواہش (مسلم

تشریح
عورت شیطان کی صورت میں آتی ہے الخ یہ دراصل گندے خیالات، برے وسوسوں اور گمراہی میں مبتلا کرنے کے سلسلہ میں عورت کو شیطان کے ساتھ مشابہت دینے کا ایک اسلوب ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح شیطان انسانوں کے دل و دماغ میں برے خیالات ڈال کر گمراہ کرتا ہے اسی طرح عورت کا جمال مرد کی نظر کو اپنا اسیربنا کر اس کے دل کو بری خواہشات اور گندے خیالات کی گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے لہذا اجنبی عورت کو دیکھنا فتنہ و شر کا باعث بن جاتا ہے اس سے علماء نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ عورت کو تو یہ چاہئے کہ وہ بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلے اور کسی ضرورت کے تحت باہر نکلے تو بناؤ سنگار کر کے نہ نکلے اور مرد کو یہ چاہئے کہ وہ اجنبی عورت کی طرف نہ دیکھے اور نہ اس کے کپڑوں کی طرف نظر کرے۔ اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی اخذ کیا جاتا ہے کہ اس بات میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ مرد اپنی بیوی کو مباشرت کے لئے دن میں اپنے پاس بلا لے اگرچہ بیوی کسی ایسے کام میں مشغول ہو جس کو اس وقت چھوڑ دینا ممکن ہو کیونکہ بسا اوقات مرد پر جنسی ہیجان کا غلبہ ہوتا ہے کہ مباشرت میں تاخیر اس کے دل میں اور دماغ میں یا جسم کی کسی تکلیف ومرض کا باعث بن جاتی ہے۔
3137
Mishkaat Shareef
صحیح
عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا خطب أحدكم المرأة فإن استطاع أن ينظر إلى ما يدعوه إلى نكاحها فليفعل . رواه أبو داود (2/204) 3107 - [ 10 ] ( صحيح ) وعن المغيرة بن شعبة قال خطبت امرأة فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : هل نظرت إليها ؟ قلت : لا قال : فانظر إليها فإنه أحرى أن يؤدم بينكما . رواه أحمد والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي
حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ نکاح کا پیغام بھیجے تو اگر وہ اس عورت کے ان اعضاء کو دیکھنے پر قادر ہو جو اس کو نکاح کی رغبت دلاتے ہیں (یعنی ہاتھ اور چہرہ تو ایک نظر دیکھ لے ( ابوداؤد)

تشریح
جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ اپنی منسوبہ کو نکاح کا پیغام بھیجنے سے پہلے ایک نظر دیکھ لینا مستحب ہے کیونکہ اگر وہ عورت پسند آگئی اور طبیعت کو بھا گئی تو اس نکاح کے بعد وہ اس عورت کیوجہ سے بدکاری سے بچا رہے گا جو نکاح کا اصل مقصود ہے اس موقع پر یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ایک موقع پر جو یہ فرمایا گیا ہے کہ کسی عورت سے اس کے حسن و جمال کی وجہ سے نکاح نہ کیا جائے تو اس حکم کا یہ مقصد نہیں ہے کہ حسن و جمال کو ملحوظ ہی نہ رکھا جائے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ کسی حسین و جمیل عورت سے نکاح کرنے میں کوئی دینی نقصان و فساد ہو تو اس دینی نقصان کوتاہی سے بالکل صرف نظر کر کے اس سے محض اس بناء پر نکاح نہ کیا جائے کہ وہ حسن و جمال کی حامل ہے۔ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے منگنی کا ارادہ کیا تو رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تم نے اس عورت کو دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اس عورت کو ایک نظر دیکھ لو کیونکہ دیکھ لینا بہت مناسب و بہتر ہے ( احمد ترمذی نسائی (ابن ماجہ دارمی) تشریح یعنی اگر تم اپنی منسوبہ کو ایک نظر دیکھ لینے کے بعد اس سے نکاح کرو گے تو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت، الفت بہت زیادہ ہوگی کیونکہ جب منسوبہ کو دیکھ لینے کے بعد نکاح ہوتا ہے تو عام طور پر کوئی پچھتاوا نہیں ہوتا اور نہ اپنے اس انتخاب پر کوئی شرمندگی و پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔
3138
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن ابن مسعود قال : رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم امرأة فأعجبته فأتى سودة وهي تصنع طيبا وعندها نساء فأخلينه فقضى حاجته ثم قال : أيما رجل رأى امرأة تعجبه فليقم إلى أهله فإن معها مثل الذي معها . رواه الدارمي
اور حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ کی نظر ایک عورت پر پڑی تو وہ آپ ﷺ کو اچھی لگی چناچہ آپ ﷺ فورًا ام المؤمنین حضرت سودہ کے پاس تشریف لائے وہ اس وقت خوشبو تیار کر رہی تھیں اور چند عورتیں ان کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں ان عورتوں نے خلوت کردی (یعنی حضرت سودہ کے پاس سے اٹھ کر باہر آگئیں) پھر آپ ﷺ نے اپنی ضرورت پوری کی (یعنی حضرت سودہ سے مجامعت فرمائی) اور فرمایا کہ جس مرد کی کسی ایسی عورت پر نظرپڑ جائے جو اسے اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ وہ فورًا اپنی بیوی کے پاس چلا جائے اور اس کے ذریعہ جنسی تسکین حاصل کرلے تاکہ اس کی جنسی خواہش پوری ہوجائے اور برے خیالات میں مبتلا نہ ہو کیونکہ اس کی بیوی کے پاس بھی وہی چیز ہے جو اس عورت کے پاس ہے ( دارمی)

تشریح
اس عورت پر آنحضرت کی نظر پڑجانا ایک اتفاقی امر تھا جس پر کوئی اختیار نہیں تھا اور پھر اس عورت کا آپ ﷺ کی نظر میں اچھا لگنا انسانی طبیعت وجبلت کا تقاضا تھا جو ایک فطری امر ہے۔