hadith book logo

Mishkaat Shareef

154. آرزو اور حرص کا بیان

مشكاة المصابيح

5120
Mishkaat Shareef
صحیح
فقراء فقیر کی جمع ہے جس کے معنی ہی مفلس، محتاج، غریب اور فضیلت سے مراد اجر وثواب کی کثرت ہے۔ لہٰذا فقراء کی فضیت کے بیان کا مطلب ان احادیث کو نقل کرنا ہے جن سے یہ واضح ہوگا کہ جو لوگ اپنی غربت و افلاس اور محتاجگی کی وجہ سے اپنی اور اپنے متعلقین کی معاشی زندگی کی سختیوں کو صبر و سکون کے ساتھ جھیلتے ہیں اور تمام مشکلات کا مقابلہ نہایت عزم و استقلال کے ساتھ کرتے ہوئے توکل و قناعت اختیار کرتے ہیں اور تقدیر الٰہی پر راضی و شاکر رہتے ہیں ان کو کتنا زیادہ اجر وثواب ملتا ہے اور وہ آخرت میں کتنا بڑا درجہ پائیں گے۔ حضور ﷺ کی معاشی زندگی سے مراد آپ کے کھانے پینے، رہن سہن اور بسر اوقات کا وہ معیار اور طور طریقہ ہے جو غرباء اور فقراء کا ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ جس کو کفات (بقدر ضرورت) کہا جاسکتا ہے، عنوان بالا میں فقراء کی فضیلت اور حضور ﷺ کی معاشی زندگی کو ایک ساتھ ذکر کرنے اور دونوں سے متعلق احادیث و مضمون کو ایک باب میں نقل کرنے میں جو خاص حکمت ہے وہ اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اکثر انبیاء اولیاء کی طرح حضور ﷺ کا معیار زندگی اور بسر اوقات بھی غرباء و فقراء کی طرح تھا، یعنی سرکار دو عالم ﷺ خوشحال زندگی اختیار کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود اپنی زندگی اس طرح بسر کرتے تھے جس طرح کوئی غریب و مفلس شخص بسر کرتا ہے اور اپنے متعلقین کی کفالت اسی تنگی اور سخت کوشی و جانکاہی کے ساتھ کرتے تھے جو غریب و نادار لوگوں کا معمول ہے، چناچہ غریب و نادار مومن کی فضیلت کو ثابت کرنے کے لئے یہی بات بہت کافی ہے۔ واضح رہے کہ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ صبر و رضا اختیار کرنے والا غریب و مفلس سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے یا شکر گزار غنی و خوشحال شخص ؟ چناچہ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ شکر گزار غنی زیادہ فضیلت رکھتا ہے کیونکہ اس کے ہاتھ سے اکثر وہ چیزیں عمل میں آتی ہیں جو صدقہ و خیرات اور مالی انفاق و ایثار یعنی زکوٰۃ قربانی اور نیک کاموں میں خرچ کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا زیادہ سے زیادہ قرب و نزدیکی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں نیز حدیث میں بھی اغنیاء کی تعریف میں یوں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا آیت (ذالک فضل اللہ یؤ تیہ من یشاء) یعنی یہ مال و دولت اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اکثر حضرات یہ فرماتے ہیں کہ صبر کرنے والا غریب و مفلس زیادہ فضیلت رکھتا ہے جس کی ایک سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ خود حضور سرور کائنات ﷺ کا معیار زندگی اغنیاء کے مطابق نہیں تھا بلکہ غرباء اور مفلسوں کی طرح تھا نیز اس باب میں جو احادیث منقول ہوں گی وہ سب بھی ان حضرات کے قول کی دلیل ہیں۔ تاہم یہ بات ملحوظ رہے کہ اس اختلافی اقوال کا تعلق دراصل مطلق فقر اور غنا کی حقیقت و ماہیت سے ہے اور اس کا اعتبار بھی وجوہ کے مختلف ہونے پر ہے۔ چناچہ ایک شخص کے حق میں کبھی تو غنا یعنی دولتمندی، خیر و بھلائی کا باعث بن سکتی ہے اور کبھی اس کا فقیر و مفلس ہونا ہی اس کے حق میں بہتر ہوسکتا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندہ پر مہربان ہوتا ہے تو اس کو وہی چیز دیتا ہے جو اس کے حق میں صلاح و فلاح کا ذریعہ ہوتی ہے۔ خواہ فقر ہو یا غنا اور خواہ صحت ہو یا تندرستی ! یہی حکم کہ اختلاف وجوہ کی بنا پر ایک ہی چیز کبھی افضل ہوسکتی ہے اور کبھی مفضول ان تمام صفات کا ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ حضرت شیخ المشائخ سید محی الدین عبدالقادر جیلانی (رح) کے بارے میں منقول ہے کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ صبر کرنے والا مفلس بہت رہے یا شکر گزار دولتمند ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ شکر گزار فقیر دونوں سے بہتر ہے۔ انہوں نے اس جواب کے ذریعہ گویا فقر و افلاس کی فضیلت کی طرف اشارہ فرمایا کہ فقر افلاس درحقیقت ایک نعمت ہے کہ اس پر شکر گزار ہونا چاہئے نہ کہ وہ کوئی مصیبت و بلا ہے جس پر صبر کیا جائے، شیخ عالم عارف ربانی اور ولی اللہ حضرت عبدالوہاب متقی (رح) اپنے شیخ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ انہوں نے جب تک ہم سے فقر و افلاس کی فضیلت کا اقرار و اعتراف نہیں کرا لیا اس وقت تک ہمیں بیعت نہیں کیا، چناچہ فرمایا کہ اس طرح کہو الفقر افضل من الغناء فقر و افلاس، غنا سے بہتر ہے جب ہم نے اس بات کو دہرایا تب انہوں نے ہمارا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور ہمیں مرید کہا۔ اس موقع پر اس بات کو بھی جان لینا چاہئے کہ اصلاح شریعت میں فقیر کا وہ مفہوم مراد نہیں ہوتا جو عام طور پر معروف ہے یعنی گدا گر بھکاری اور منگتا، بلکہ اس لفظ سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جس کو عرف عام میں غریب و مفلس کہا جاتا ہے اور جو مال و اسباب سے تہی دست ہوتا ہے اسلام کی مذہبی کتابوں اور احکام و مسائل میں ایسے شخص کے لئے عام طور پر دو لفظ استعمال ہوتے ہیں ایک تو فقیر دوسرے مسکین ، چناچہ بعض حضرات نے ان دونوں میں فرق کیا ہے اور کہا ہے کہ فقیر کا اطلاق اس شخص پر ہوتا ہے جو نصاب یعنی اس قدر مال و اسباب کا مالک نہ ہو جس کی وجہ سے اس پر زکوٰۃ و فطرہ واجب ہوتا ہو، یا اس شخص کو فقیر کہا جاتا ہے جو بس ایک دن کی غذائی ضروریات کے بقدر مال و اسباب رکھتا ہو اور اس سے زائد اس کے پاس اور کچھ نہ ہو جب کہ مسکین اس شخص کو کہتے ہیں جو نہ صرف یہ کہ نصاب کا مالک نہ ہو بلکہ اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو یہاں تک کہ وہ ایک دن کی غذائی ضروریات کے بقدر بھی مال و اسباب نہ رکھتا ہو اور بعض حضرات نے اس کے برعکس کہا ہے۔ بہرحال عنوان میں جو لفظ فقراء استعمال کیا گیا ہے اس سے فقیر اور مسکین دونوں مراد ہیں۔
5121
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم رب أشعث مدفوع بالأبواب لو أقسم على الله لأبره . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بظاہر تو پرا گندہ بال اور غبار آلود (یعنی نہایت خستہ حال اور پریشان صورت) نظر آتے ہیں جن کو (ہاتھ یا زبان کے ذریعہ) دروازوں سے دھکیلا جاتا ہے لیکن وہ (خدا کے نزدیک اتنا اونچا درجہ رکھتے ہیں کہ) اگر وہ اللہ کے بھروسہ پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم کو یقینا پورا کرے۔ (مسلم)

تشریح
جن کو دروازوں سے دھکیلا جاتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ واقعتا دنیا داروں کے دروازوں پر جاتے ہیں ان کو وہاں سے دھکیلا جاتا ہے کیونکہ جو لوگ اللہ کے لئے دنیا کی ظاہری زینت و عزت کی چیزوں سے دور رہتے ہیں، ان کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ کوئی ایسا کام کریں گے جس سے ذلت اٹھانا پڑے، بلکہ اس جملہ سے مراد یہ ہے کہ اولیاء اللہ کی روحانی عظمتوں کا راز ان کی شکستہ حالی میں پوشیدہ ہوتا ہے اور ان کا ظاہر، ان کے باطن کا اس حد تک سرپوش ہوتا ہے کہ اگر بالفرض وہ کسی کے گھر جانا چاہیں تو لوگوں کی نظر میں ان کی کوئی قدر و منزلت نہ ہونے کی وجہ سے ان کو دروازہ ہی پر روک دیا جائے مکان میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ اور ظاہر ہے کہ جب وہ دروازوں سے دھکیلے جاسکتے ہیں تو ان کو مجلسوں اور محفلوں میں آنے سے بطریق اولی روکا جاسکتا ہے اور اس میں حکم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ ان کی حقیقت لوگوں پر ظاہر ہو اور وہ ایسی حالت میں رہیں جس سے لوگ ان کی طرف مائل و ملتفت ہوں، تاکہ ان کو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے کوئی انس ورغبت نہ ہو۔ پس حقیقت میں اللہ تعالیٰ ان پاک نفس بندوں کو دنیا داروں اور ظالموں کے دروازوں پر کھڑے رہنے اور ان کے حرام مال کے کھانے پینے سے محفوظ رکھتا ہے، جیسا کہ کوئی شخص اپنے مریض کو اب و ہوا اور نقصان دہ غذاؤں سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ چناچہ وہ لوگ اپنے مولیٰ کے در کے علاوہ اور کسی دروازے پر حاضری نہیں دیتے اور اپنے کمال استغناء اور بےنیازی کی وجہ سے اپنے پروردگار کے علاوہ کسی دوسرے کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ اور اگر وہ اللہ پر قسم کھائیں الخ کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اللہ پر اعتماد کر کے اور اس کی قسم کھا کر یہ کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں کام کرے گا یا فلاں کام نہیں کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو سچا کرتا ہے بایں طور کہ ان کے کہنے کے مطابق اس کام کو کرتا ہے یا نہیں کرتا، جیسا کہ باب الدیت میں اس کے متعلق ایک روایت گزر چکی ہے حاصل یہ کہ وہ لوگ اگرچہ اپنی ظاہری حالت کی وجہ سے دنیا داروں کی نظر میں کوئی قدر و منزلت نہیں رکھتے مگر حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کا مرتبہ اتنا بلند اور اس کی بارگاہ میں ان کی عزت و مقبولیت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اگر وہ کسی بات پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ ان کو سچا کرتا ہے اور ان کی قسم پوری کرتا ہے یعنی وہ بات پوری ہو کر رہتی ہے۔
5122
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن مصعب بن سعد قال رأى سعد أن له فضلا على من دونه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم هل تنصرون وترزقون إلا بضعفائكم ؟ . رواه البخاري
حضرت مصعب بن سعد تابعی (رح) کہتے ہیں کہ (میرے والد) حضرت سعد (رض) نے اپنے بارے میں یہ گمان کیا کہ وہ اس شخص سے افضل ہیں جو ان سے کمتر ہے (یعنی ضعیف و نا تو اں شخص یا فقیر و مفلس چناچہ رسول کریم ﷺ نے (ان کا یہ گمان ختم کرنے اور دوسروں کو آگاہ کرنے کے لئے) فرمایا۔ تمہیں (دشمنان دین کے مقابلہ پر) مدد و سہارا اور رزق کن لوگوں کی برکت سے ملتا ہے انہی کی برکت سے جو ضعیف و نا تو اں اور غریب و نادار ہیں (بخاری)

تشریح
حضرت سعد (رض) بہت سے اوصاف اور خوبیوں کے مالک تھے، مثلا شجاعت (دل اوری) جود و کرم اور سخاوت، فیاضی جیسے اعلی اوصاف ان میں بدرجہ اتم تھے، چناچہ ان کے ذہن میں یہ بات پیدا ہوئی کہ جو لوگ مجھ جیسی خصوصیات اور خوبیاں نہیں رکھتے ان کی بہ نسبت میں مسلمانوں کی زیادہ مدد و اعانت کرتا ہوں اور اس اعتبار سے اسلام کے لئے میرا وجود زیادہ فائدہ مند ہے ذہن کی یہ بات زبان بھی آگئی ہوگی، لہٰذا حضور ﷺ نے ان کے اس گمان سے ان کو باز رکھا اور واضح فرمایا کہ تمہارا اس انداز سے سوچنا غیر مناسب بات ہے تمہیں چاہئے کہ جو لوگ طاقت و قوت اور مال و دولت کے اعتبار سے تم سے کمتر ہیں ان کی عزت کرو، انہیں کمتر و حقیر نہ سمجھو اور ان کے تئیں تکبر و نخوت کا رویہ اختیار نہ کرو کیونکہ وہ لوگ بڑے شکستہ دل اور مسکین ہوتے ہیں، ان میں خلوص و سچائی کا جوہر ہوتا ہے، ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی ہوتی ہے اور تم انہی کی دعاؤں کی برکتوں سے فائدہ اٹھاتے ہو، اللہ انہی کے طفیل تمہیں دشمنوں پر غالب کرتا ہے اور تمہارے رزق میں برکت عطا فرماتا ہے۔
5123
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أسامة بن زيد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قمت على باب الجنة فكان عامة من دخلها المساكين وأصحاب الجد محبوسون غير أن أصحاب النار قد أمر بهم إلى النار وقمت على باب النار فإذا عامة من دخلها النساء . متفق عليه
حضرت اسامہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ فرمانے لگے کہ میں (معراج کی رات، یا خواب میں، یا حالت کشف میں) جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تھا (میں نے دیکھا کہ جو لوگ جنت میں داخل ہوئے ہیں ان میں زیادہ تعداد غریبوں کی ہے اور مالداروں کو قیامت کے میدان میں روک رکھا گیا ہے۔ البتہ اصحاب نار یعنی کافروں کو دوزخ میں لے جانے کا حکم دے دیا گیا ہے اور جب میں دوزخ کے دروزاے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ جو لوگ دوزخ میں ڈالے گئے ہیں ان میں زیادہ تعداد عورتوں کی ہے ۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
محبوسون کے معنی ہیں وہ لوگ جن کو جنت میں جانے سے روک دیا گیا ہے حاصل یہ کہ مومنین میں سے جو لوگ اس فانی دنیا میں مالداری و تمول اور جاہ و منصب کی وجہ سے عیش و عشرت کی زندگی اختیار کئے ہوئے ہیں ان کو جنت میں جانے سے اس وقت تک کے لئے روکا رکھا جائے گا، جب تک ان سے اچھی طرح حساب نہیں لیا جائے گا، چناچہ اس وقت وہ لوگ اس بات سے سخت رنج و غم محسوس کریں گے کہ انہیں دنیا میں مال و زر کی کثرت اور جاہ و منصب کی وسعت کیوں حاصل ہوئی اور وہ اپنی خواہشات نفس کے مطابق دنیاوی لذات و عشرت سے کیوں بہرہ مند ہوئے کیونکہ ظاہر ہے کہ اگر ان سے ان دنیاوی امور کا ارتکاب ہوا ہوگا جن کو حرام قرار دیا گیا ہے تو وہ عذاب کے مستوجب ہوں گے اور اگر انہوں نے محض ان چیزوں کو اختیار کیا ہوگا جن کو حلال قرار دیا گیا ہے تب بھی انہیں حساب و کتاب کے مرحلہ سے بہرحال گزرنا پڑے گا، جب کہ فقراء و مفلس لوگ اس سے بری ہوں گے کہ نہ تو ان سے حساب لیا جائے گا اور نہ انہیں جنت میں جانے سے روکا جائے گا بلکہ وہ مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں چلے جائیں گے اور ان کا مالداروں سے پہلے جنت میں جانا گویا ان نعمتوں کے عوض میں ہوگا جن سے وہ دنیا سے محروم رہے ہوں گے۔
5124
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اطلعت في الجنة فرأيت أكثر أهلها الفقراء . واطلعت في النار فرأيت أكثر أهلها النساء . متفق عليه
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس میں اکثر تعداد غریبوں اور نادار لوگوں کی نظر آئی اور دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو اس میں اکثریت عورتوں کی نظر آئی (بخاری ومسلم)
5125
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن فقراء المهاجرين يسبقون الأغنياء يوم القيامة إلى الجنة بأربعين خريفا . رواه مسلم
حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا فقراء، مہاجرین قیامت کے دن جنت میں اغنیاء (مال داروں) سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے (مسلم)

تشریح
چالیس سال سے مراد وہ عرصہ ہے جو ہماری اس دنیا کے شب و روز کے اعتبار سے چالیس سال کے بقدر ہوتا ہے اور اس حدیث کے ظاہر مفہوم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس حدیث کا تعلق خاص طور پر انہی فقراء سے ہے جو مہاجرین میں سے تھے۔ اس طرح اغنیاء سے مراد بھی اغنیائے مہاجرین ہیں۔ رہی یہ بات کہ یہاں فقراء اور اغنیاء کے ساتھ مہاجرین کی قید کیوں لگائی گئی ہے تو اس کی حقیقت دوسری فصل کی پہلی حدیث سے معلوم ہوگی۔ نیز جنت میں فقراء کے پہلے داخل ہونے کی وجہ ہوگی اغنیاء تو حساب کی طوالت کی وجہ سے میدان حشر میں رکے رہیں گے، جب کہ فقراء حساب کے بغیر جنت میں داخل ہو کر وہاں کی سعادتوں اور نعمتوں سے بہرہ مند ہونے لگیں گے۔
5126
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن سهل بن سعد قال مر رجل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لرجل عنده جالس ما رأيك في هذا ؟ فقال رجل من أشراف الناس هذا والله حري إن خطب أن ينكح وإن شفع أن يشفع . قال فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم مر على رجل فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم ما رأيك في هذا ؟ فقال يا رسول الله هذا رجل من فقراء المسلمين هذا حري إن خطب أن لا ينكح . وإن شفع أن لا يشفع . وإن قال أن لا يسمع لقوله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا خير من ملء الأرض مثل هذا . متفق عليه
حضرت سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ کے سامنے سے ایک شخص گزرا تو آپ ﷺ نے (اس کو دیکھ کر) اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص سے پوچھا کہ یہ جو شخص گزرا ہے اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے، یعنی یہ کوئی اچھا شخص ہے یا برا ؟ اس شخص نے جواب دیا کہ یہ شخص نہایت معزز اور شریف ترین لوگوں میں ہے، بخدا، اس شخص کی حیثیت یہ ہے کہ اگر کسی عورت سے نکاح کا پیغام بھیجے تو اس عورت سے اس کا نکاح ہوجائے اور اگر (کسی حاکم و سردار سے کسی شخص کے بارے میں کوئی سفارش کرے تو اس کی سفارش مان لی جائے، راوی حضرت سہل (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ (یہ جواب سن کر) خاموش رہے، اتنے میں ایک دوسرا شخص سامنے سے گزرا تو آپ ﷺ نے اس کو دیکھ کر اپنے پاس بیٹھے ہوئے اسی شخص سے پوچھا کہ اچھا اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ! یہ شخص نادار، قلاش مسلمانوں میں سے ہے، اس کی حیثیت تو یہ ہے کہ اگر نکاح کا پیغام دے تو اس سے کوئی نکاح نہ کرے، اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ ہو اور اگر کوئی بات کہے تو اس کی وہ بات سننے پر کوئی تیار نہ ہو (یعنی یہ شخص اپنے فقر و افلاس کی وجہ سے اتنی قدر و منزلت بھی نہیں رکھتا کہ کوئی شخص اس کی بات سننے پر آمادہ ہوجائے اور اس کی طرف التفات و توجہ کرے رسول کریم ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا۔ (نادان) یہ شخص (کہ جس کو تم نے حقارت کی نظر سے دیکھا ہے اور ایک بےحیثیت انسان سمجھا ہے) اس شخص جیسے لوگوں سے ہری زمین سے بھی کہیں بہتر ہے (جس کی تم نے تعریف کی ہے) (بخاری ومسلم)

تشریح
اس شخص جیسے لوگوں سے بھری زمین الخ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تمام روئے زمین اس شخص جیسے لوگوں سے بھر جائے جو پہلے یہاں سے گزرا تھا اور جس کی تعریف و توصیف میں تم رطب اللسان ہوئے تھے تو وہ ایک شخص کہ جو اپنے فقر و افلاس کی وجہ سے تمہاری نظر میں کوئی قدر و منزلت نہیں رکھتا ہے مرتبہ و فضیلت کے اعتبار سے اس تمام روئے زمین سے کہیں بہتر قرار پائے گا ۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضور ﷺ کے پاس جو صاحب بیٹھے ہوئے تھے اور جن سے حضور ﷺ نے ان دونوں اشخاص کے بارے میں سوال کیا تھا وہ خود کوئی غنی اور مال دار شخص ہوں گے، لہٰذا ان کے ساتھ مذکورہ سوال و جواب گویا ان کے حق میں یہ تنبیہ تھی کہ غریب و نادار مسلمانوں کو بنظر حقارت نہیں دیکھنا چاہئے کیونکہ اللہ کے نزدیک ان کو جو فضیلت حاصل ہے وہ بڑے بڑے مالداروں کو بھی حاصل نہیں۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ حضور ﷺ نے مالدار مسلمانوں کے مقابلہ پر غریب و نادار مسلمان کی اس درجہ فضیلت کیوں بیان فرمائی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر غریب و نادار مسلمان کا دل بہت صاف ہوتا ہے اور اس کے سبب وہ حق کو بہت جلد قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی بہت زیادہ کرتا ہے، اس کے برخلاف غنی و مالدار لوگ عام طور پر بےحسی اور شقاوت میں مبتلا ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے اندر سرکشی وبے نیازی اور تکبر کا وہ مادہ پیدا ہوجاتا ہے جو انہیں قبول حق اور احکام الٰہی کی پیروی سے باز رکھتا ہے۔ اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ آیت (سَاَصْرِفُ عَنْ اٰيٰتِيَ الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ) 7 ۔ الاعراف 146) اور اس حقیقت کا اندازہ علماء کے شاگردوں اور صلحاء و مشائخ کے مریدوں کو دیکھ کر کیا جاسکتا ہے کہ ان میں سے جو لوگ غریب و نادار ہوتے ہیں وہ حق بات کو بہت جلد قبول کرلیتے ہیں اور جو لوگ صاحب ثروت و مالدار ہوتے ہیں وہ ہر بات میں حیل و حجت کرتے ہیں۔ حدیث کے ظاہری مفہوم سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پہلے گزرنے والا شخص بھی مالدار مسلمانوں میں سے تھا نہ کہ کوئی کافر تھا کیونکہ مفاضلہ (یعنی آپس میں ایک دوسرے کی اخروی فضیلت کو ظاہر کرنے) کا تعلق کفار و مسلمین کے مابین ہو ہی نہیں سکتا (یعنی کسی مسلمان اور کسی کافر کو ایک دوسرے کے مقابلہ پر رکھ کر یہ کہا ہی نہیں جاسکتا کہ اخروی اجر وثواب کے اعتبار سے ان میں سے کون شخص زیادہ افضل ہے) اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کفار میں سے کسی بھی شخص کی طرف سرے سے خیر (یعنی اخروی سعادت و بھلائی کی نسبت کی ہی نہیں جاسکتی (اور ظاہر ہے کہ جس شخص میں خیر سرے سے کوئی وجود ہی نہ ہوسکتا ہو اس کی طرف اخروی فضیلت کی نسبت بھی کسی طرح نہیں کی جاسکتی چناچہ بعض علماء نے تو یہاں تک کہا ہے کہ جس مسلمان نے اپنی اپنی زبان سے یوں کہا کہ النصرانی خیر من الیہودی (یعنی عیسائی یہودی سے افضل ہے) تو اس کے بارے میں خوف ہے کہ وہ دائرہ کفر میں داخل نہ ہوگیا ہو کیونکہ اس نے اس جملہ کے ذریعہ گویا ان لوگوں میں خیر کا وجود ثابت کیا جن میں سرے سے خیر کا وجود ہی نہیں ہوسکتا، تاہم اس پر کفر کا اطلاق، جزم کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ بعض موقعوں پر لفظ کے ذریعہ (اخروی سعادت و بھلائی کے بجائے) حق کے زیادہ قریب کا مفہوم بھی مراد لے لیا جاتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ مذکورہ جملہ ادا کرنے والے نے لفظ خیر کو اسی مفہوم میں استعمال کیا ہو۔
5127
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة قالت ما شبع آل محمد من خبر الشعير يومين متتابعين حتى قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم . متفق عليه
حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ محمد ﷺ کے اہل بیت (یعنی ازواج مطہرات اور متعلقین) نے دو روز مسلسل جو کی روٹی سے پیٹ بھرا ہو (چہ جائیکہ گیہوں کی روٹی سے) یہاں تک کہ رسول کریم ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے (بخاری ومسلم)

تشریح
دو روز مسلسل سے یہ واضح ہوا کہ حضور ﷺ اور آپ کے اہل بیت کا معمول یہی تھا کہ اگر ایک دن پیٹ بھر کر کھایا تو دوسرے دن بھوکے رہے اور یہ اس وجہ سے تھا کہ حضور ﷺ نے خوشحالی و ترفہ کی زندگی پر فقر و افلاس کی زندگی کو ترجیح دی تھی اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو دنیا بھر کے خزانوں کی پیش کش ہوئی اور حکم ہوا اگر آپ ﷺ کہیں تو مکہ کے پہاڑوں کو آپ ﷺ کے لئے سونے میں تبدیل کردیا جائے تو حضور ﷺ نے دنیا بھر کے خزانوں اور سونے کے پہاڑوں کو تبدیل کرنے کے بجائے فقر اور تنگدستی ہی کو اختیار کیا اور فرمایا کہ میں تو بس یہ چاہتا ہوں کہ ایک دن پیٹ بھروں اور ایک دن بھوکا رہوں، تاکہ جس دن پیٹ بھروں اس دن اللہ کا شکر ادا کروں اور جس دن بھوکا رہوں اس دن صبر کروں۔ مذکورہ بالا حدیث سے بعض لوگوں کے اس قول کی تردید ہوجاتی ہے کہ حضور ﷺ اپنی زندگی کے آخری حصہ میں غنی و مالدار ہوگئے تھے، کیونکہ اگر حضور ﷺ اپنی آخری عمر میں واقعتا غنی ہوگئے تھے تو پھر حضرت عائشہ (رض) کے اس کہنے کے کیا معنی ہوں گے کہ حضور ﷺ کے اہل بیت کا حضور ﷺ کی وفات تک یہی معمول رہا کہ انہوں نے کبھی مسلسل دو دن تک جو کی روٹی سے پیٹ نہیں بھرا ؟ ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ جب آخری زمانہ نبوی میں اسلام کو طاقت اور غلبہ ملا اور مجاہدین اسلام نے مختلف علاقوں کو فتح کیا تو اس صورت میں مال غنیمت کا مقررہ حصہ حضور ﷺ کو بھی ملا اور تھوڑا بہت مال آپ ﷺ کے پاس آتارہا مگر روایات صحیحہ شاہد ہیں کہ حضور ﷺ اس مال کو بھی اپنے پاس کبھی نہیں رکھا، بلکہ جس طرح آتا اسی طرح اس کو اپنے پوردگار کی خوشنودی کی راہ میں خرچ کردیتے اور خود ہمیشہ کی طرح خالی ہاتھ رہ جاتے، البتہ دل کا غنا اور بڑھ جاتا، حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی حالت یہ تھی کہ مسلسل کئی کئی راتیں بھوک میں گزار دیتے تھے حضور ﷺ اور اہل بیت کو رات کا کھانا میسر نہیں ہوتا تھا اور وقتا فوقتا کھانا میسر ہونے کی صورت میں بھی آپ ﷺ کے دسترخوان پر عام طور سے جس چیز کی روٹی ہوتی تھی وہ جو تھا۔ اس حدیث سے یہ بات واضح ہوئی کہ ہمارے زمانہ کے غریب و نادار لوگوں اور فقراء میں سے کوئی بھی شخص اتنی سخت زندگی نہ تو گزاتا ہے اور نہ گزار سکتا ہے جتنی سخت زندگی حضور ﷺ گزارتے تھے اور یہ شان اس ذات گرامی کی تھی جو نہ صرف افضل البشر بلکہ افضل الانبیاء ہے جس کے چشم و ابرو کے اشارے پر دنیا بھر کی نعمتیں اس کے قدموں میں آسکتی تھیں۔ پس حضور ﷺ کے اس طرز زندگی میں غریب و نادار مسلمانوں کے لئے بڑی تسلی و اطمینان کا سامان پوشیدہ ہے۔ واضح رہے کہ حضور ﷺ کا اس قدر فقر و افلاس کی زندگی گزارنا اور بھوک کی صعوبت کو برداشت کرنا کوئی اضطرار و مجبوری کے درجہ کی چیز نہیں تھی بلکہ یہ اپنے قصد و اختیار کا نتیجہ تھا کہ آپ ﷺ چونکہ دنیا کی لذات اور نعمتوں سے کوئی سروکار نہیں رکھتے تھے، قوت لایموت پر قناعت کرتے اور اپنی اور اپنے اہل بیت کی ضروریات پر فقراء و مساکین اور دیگر ضرورت مندوں کی ضروریات کو ترجیح دے کر ایثار نفس پر عمل پیرا تھے اس لئے آپ ﷺ اتنی سخت زندگی گزارتے تھے۔
5128
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن سعيد المقبري عن أبي هريرة أنه مر بقوم بين أيديهم شاة مصلية فدعوه فأبى أن يأكل وقال خرج النبي صلى الله عليه وسلم ولم يشبع من خبز الشعير . رواه البخاري
حضرت سعید مقبری تابعی (رح) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ (ایک دن) حضرت ابوہریرہ (رض) کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے (جو ایک جگہ کھانے کے دسترخوان پر جمع تھے) اور ان کے سامنے بھنی ہوئی بھری بکری رکھی تھی۔ انہوں نے (کھانے کے لئے) حضرت ابوہریرہ (رض) کو بھی بلایا، لیکن انہوں نے انکار کردیا اور (اپنے نہ کھانے کے عذر میں) فرمایا کہ رسول کریم ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے اور کبھی آپ ﷺ نے جو کی روٹی سے بھی اپنا پیٹ نہیں بھرا لہٰذا یہ کیسے گوارا ہوسکتا ہے کہ میں بھنی بکری جیسی لذیذ غذا سے اپنا پیٹ بھروں جب کہ حضور ﷺ کو پیٹ بھر جو کی روٹی بھی میسر نہ ہوتی تھی ۔ (بخاری)
5129
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أنس أنه مشى إلى النبي صلى الله عليه وسلم بخبز شعير وإهالة سنخة ولقد رهن النبي صلى الله عليه وسلم درعا له بالمدينة عند يهودي وأخذ منه شعيرا لأهله ولقد سمعته يقول ما أمسى عند آل محمد صاع بر ولا صاع حب وإن عنده لتسع نسوة . رواه البخاري
حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں جو کی روٹی اور ایسی چربی لے کر آئے جو زیادہ دن رکھی رہنے کی وجہ سے بدبو دار ہوگئی تھی۔ نیز حضرت انس (رض) ہی نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (ایک مرتبہ) اپنی زرہ مدینہ میں ایک یہودی کے پاس گروی رکھ کر اس سے اپنے اہل بیت کے لئے کچھ جو لئے۔ حضرت انس (رض) سے روایت کرنے والے نے یہ بھی بیان کیا کہ میں نے حضرت انس (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ محمد ﷺ کے اہل بیت کی ایسی کوئی شام نہیں ہوتی تھی جس میں ان کے پاس ایک صاع گیہوں یا کوئی اور غلہ رہتا ہو جب کہ حضور ﷺ کے نو بیویاں تھیں۔ (بخاری)

تشریح
روایت کے آخری الفاظ کے ذریعہ یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ حضور ﷺ نے اپنے اہل بیت کے لئے کسی رات میں آنے والے دن کے لئے کسی طرح کا غلہ رکھ چھوڑا ہو باوجودیکہ آپ ﷺ کے نو بیویاں تھیں اور ان کی غذائی ضروریات کے لئے تھوڑا بہت غلہ ہر وقت آپ ﷺ کے یہاں رہنا چاہئے تھا۔ جہاں تک ایک یہودی سے حضور ﷺ کے قرض لینے کی بات ہے تو اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ اگر آپ ﷺ کسی مسلمان سے قرض لیتے تو مسلمان پر آپ ﷺ کا حال ظاہر ہوتا اور وہ آپ ﷺ کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے جب کہ آپ ﷺ اس بات کو ہرگز پسند نہیں فرماتے تھے کہ آپ ﷺ کی ضروریات زندگی کا بار مسلمانوں کے کاندھوں پر پڑے اور وہ خواہ خوشی یا کسی گرانی کے ساتھ اور شرم حضوری میں آپ ﷺ کو کچھ دیں۔ لیکن یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ حضور ﷺ کا کسی مسلمان کی بجائے ایک یہودی سے قرض لینا دراصل اس بات سے انتہائی تنزہ اور کامل احتیاط کے پیش نظر تھا کہ حضور ﷺ اپنی امت کے لوگوں سے کسی اجر و معاوضہ کے طلب گار ہوں خواہ وہ اجر و معاوضہ کے اعتبار سے نہ ہو بلکہ محض صورۃً ہو جیسا کہ مثلاً قرض کی صورت، کہ اگر آپ ﷺ کسی مسلمان سے قرض لیتے تو اس پر اجر و معاوضہ کا اطلاق نہ ہوتا، مگر ممکن تھا کہ کسی نہ کسی درجہ میں نفع اٹھانے کی وجہ سے اس پر بھی صورتاً اجر و معاوضہ کا اطلاق ہوجاتا، اس لئے آپ ﷺ احتیاطا اس کو بھی پسند نہیں کرتے تھے کہ کسی مسلمان سے قرض ہی کی صورت میں کوئی مالی فائدہ حاصل کریں، چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے آیت (قل لا اسألکم علیہ من اجر ان اجری الا علی اللہ ) حضور ﷺ کے اس کامل احتیاط کی ایک نظیر ہمارے امام، امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کی زندگی میں بھی ملتی ہے، چناچہ ان کے بارے میں منقول ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کی دیوار کے سایہ سے بھی فائدہ نہیں اٹھاتے تھے جس پر ان کا کوئی قرض ہوتا تھا اور ان کی یہ احتیاط اس حدیث کے پیش نظر ہوتی تھی کل قرض جر منفعۃ فھو ربوا (یعنی جو بھی قرض کوئی منفعت کھینچ کر لائے وہ سود ہے) ۔ مذکورہ بالا حدیث کے ضمن میں ایک اشکال واضح ہوتا ہے اور وہ یہ کہ بعض صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کے بقدر کفایت لازمی ضروریات کی بعض چیزیں ایک سال کے لئے اکٹھا بھروا کر رکھ دی تھیں، جب کہ یہاں جو حدیث نقل کی گئی ہے اس سے اس کے برعکس ثابت ہوتا ہے ؟ اس کا جواب علماء یہ بیان کرتے ہیں کہ حقیقت تو یہی ہے کہ شروع میں بہت کافی عرصہ تک، جب کہ آپ ﷺ کی معاشی زندگی پر فقر کا زیادہ غلبہ تھا آپ ﷺ اس معمول پر قائم تھے کہ کبھی کسی چیز کا ایک دن کے لئے بھی ذخیرہ نہیں کیا، جس دن جو کچھ میسر ہوگیا وہ اس دن کی غذائی ضروریات میں کام آگیا، اگلے دن کے لئے قناعت و توکل کے علاوہ کچھ پاس نہیں رہا، ہاں بعد میں جب معاشی حالت کچھ بہتر ہوئی اور آمدنی میں کچھ وسعت ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرت کے لئے ایک سال کی غذائی ضروریات کے بقدر غلہ کہ جو حد کفایت سے متجاوز نہیں تھا، اکٹھا بھروا دیا تھا۔ بعض حضرات نے ان دونوں طرح روایتوں میں اس طور پر مطابقت پیدا کی ہے کہ اٰل محمد میں لفظ آل زیادہ ہے جیسا کہ اہل عرب کے اسلوب کلام میں یہ بھی پایا جاتا ہے کہ وہ (آل فلاں) بول کر اس کے لفظی معنی ( فلاں کے اہل بیت) کے بجائے صرف اس فلاں کی ذات کو مراد لیتے ہیں مثلاً اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ آل زید (یعنی زید کے گھر والوں) کے پاس چند روپے بھی نہیں ہیں تو اس جملہ سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ خاص طور پر زید کے پاس چند روپے بھی نہیں ہیں۔ لہٰذا یہ بات بعید از حقیقت نہیں ہوسکتی کہ کبھی بھی دو روز مسلسل جو کی روٹی سے پیٹ نہ بھرنے یا اگلے دن کے لئے غلہ وغیرہ جمع نہ رکھنے کی بات خاص طور سے آنحضرت ﷺ کی ذات مبارک سے تعلق رکھتی ہو یعنی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ خود آپ ﷺ نے مسلسل دو دن تک پیٹ بھر کر نہ کھایا ہو یا خاص اپنی ذات کے واسطے آنے والے ایک آدھ دن کے لئے رکھ چھوڑا ہو، ہاں اگر آپ ﷺ نے کبھی کبھار ایسا کیا ہو کہ اپنی ازواج مطہرات کے لئے کچھ دنوں یا ایک آدھ سال کی غذائی ضروریات کے بقدر غلہ وغیرہ بھروا کر رکھ دیا ہو تو یہ اس بات کے منافی نہیں ہے۔