hadith book logo

Mishkaat Shareef

148. نرمی و مہربانی حیاء اور حسن خلق کا بیان

مشكاة المصابيح

4946
Mishkaat Shareef
صحیح
حذر حا اور ذال کے زبر اور راء کے جز کے ساتھ کے معنی ہیں بچنا پرہیز کرنا، چوکنا رہنا اور حذر کے زبر اور ذال کے زیر کے ساتھ بیدار و مستعد مرد کو کہتے ہیں۔ تانی کے معنی ہیں کسی کام و معاملہ میں جلدی بازی اختیار کرنے کے بجائے توقف و تاخیر کرنا اور اچھی طرح غور و فکر کرلینا، عنوان بالا کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ لوگوں کے شر زمانہ کی آفات اور ماحول و معاشرہ کے فتنہ و فساد سے اپنے آپ کو بچائے ان آفات و فتنہ و فساد کا تعلق خواہ دنیاوی نقصانات و مضرات سے ہو یا دینی و اخروی نقصان و تباہی سے اسی طرح چاہیے کہ وہ اپنے کام اور معاملات میں ہمیشہ ہوشیار اور چوکنا رہے، عجلت پسندی اور جلد بازی سے احتراز کرے حلم وقار اختیار کرے اپنے ہر ارادہ و عمل پر اچھی طرح و غور و فکر کیا کرے اور ہر کام کے انجام و مال پر بہتر صورت نظر رکھے۔
4947
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يلدغ المؤمن من جحر مرتين . متفق عليه
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
لدغ کے معنی ہیں ڈسنا، سانپ اور بچھو کا کاٹنا، جحر سوراخ اور بل کو کہتے ہیں جو سانپ اور بچھو وغیرہ کا مسکن ہوتا ہے۔ حدیث کا مقصد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ مومن دانا جو حق و انصاف کا علم بردار اور دین کا حامی و محافظ ہوتا ہے اس کی شان یہ ہے کہ وہ کسی عہد شکن اور سرکش سے، جو دین کا دشمن ہے درگزر نہ کرے اللہ کی راہ میں اور اللہ کی خاطر اس کو اپنے غضب و انتقام کا نشانہ بنانے سے نہ چوکے، بار بار حلم و بردباری اور چشم پوشی کا رویہ اختیار نہ کرے اور اس کے دھوکہ میں نہ آئے واضح رہے کہ کسی دنیاوی معاملہ میں فریب کھا جانا زیادہ اہمیت نہیں رکھتا مگر کسی دین کے معاملہ میں فریب نہ کھانا چاہیے۔ علماء نے لکھا ہے کہ نبی ﷺ نے مذکورہ ارشاد گرامی میں جس حکیمانہ اصول کی طرف اشارہ کیا ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک عظیم الشان تعلیم ہے جس کی بنیاد دین کی رعایت و حمایت اور دشمنان دین کے شر و فساد کی بیخ کنی ہے۔ مذکوہ بالا ارشاد گرامی کا پس منظر یہ ہے کہ زمانہ رسالت میں عرب کا ایک مشہور شاعر ابوغرہ تھا اور اس کا تعلق کفار کے اس طبقہ سے تھا جو اسلام، ذات رسالت پناہ اور مسلمانوں کے خلاف نفرت و عداوت اور سب شتم کے پہاڑ تراشنے پر مامور تھے چناچہ وہ اپنے اشعار کے ذریعہ مسلمانوں کی ہجو کیا کرتا تھا اور اپنی قوم کے شریر لوگوں کو مسلمانوں کی ایذاء و اہانت پر اکسایا کرتا تھا جب بدر کے میدان میں حق باطل کے درمیان پہلی معرکہ آرائی ہوئی اور اللہ نے اپنے مٹھی بھر بندوں کو دشمنان دین پر فتح عطا فرمائی اور مکہ کے بہت سارے کفار جس میں ان کے زعماء و اساطین بھی تھے قیدی بنا کر مدینہ منورہ لے گئے تو ان میں وہ بدبخت شاعر ابوغرہ بھی تھا اس نے بارگاہ رسالت میں اپنے پچھلے سیاہ ناموں پر اظہار ندامت کیا اور عفو خواہی کے ساتھ یہ عہد کیا کہ اب میں کبھی بھی ایسے افعال بد کے پاس نہیں پھٹکوں گا۔ چناچہ نبی کریم ﷺ کو اس بدبخت پر رحم و کرم کرنے کا موقع مل گیا اور آپ نے اس کے عہد و پیمان کی بنیاد پر اس کو رہا کردیا لیکن اس کی ازلی شفاعت و بدبختی نے اس کو چین سے نہیں بیٹھنے دیا اور وہ اپنی قوم میں پہنچ کر پہلی روش پر چلنے لگا یہاں تک کہ اللہ نے اس کو دوبارہ جنگ احد کے موقع پر قیدی کی حثییت سے بارگاہ رسالت میں پہنچا دیا اس نے اس مرتبہ بھی وہی عہد و پیمان کا حربہ استعمال کیا اور اظہار ندامت و عفو خواہی کے ساتھ امان چاہنے لگا اور آئندہ اپنی ان حرکتوں سے باز رہنے کا عہد و پیمان کیا لیکن نبی کریم ﷺ نے اس کو معاف نہیں کیا اور اس کو جہنم رسید کردینے کا حکم فرمایا۔ چناچہ اس کو قتل کردیا گیا، اس وقت جب بعض لوگوں نے اس کی سفارش کی اور نبی کریم ﷺ سے درخواست کی کہ اس کو ایک مرتبہ اور معاف فرما دیا جائے تو حضور ﷺ نے فرمایا مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جاتا۔
4948
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لأشج عبد القيس إن فيك لخصلتين يحبهما الله الحلم والأناة . رواه مسلم
اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قبیلہ عبدالقیس کے سردار اشج سے فرمایا کہ تمہارے اندر جو دو خوبیاں ہیں ان کو اللہ بہت پسند کرتا ہے (خواہ کسی شخص میں ہوں حلم و بردباری اور دوسرے توقف و آہستگی۔ (مسلم)

تشریح
عبدالقیس ایک قبیلہ کا نام ہے جب اس قبیلہ کے لوگ نبی کریم ﷺ کی زیارت و ملاقات کے لئے مدینہ آئے اور مسجد نبوی کے سامنے پہنچے تو نبی کریم ﷺ کو دیکھ کر فرط شوق سے اپنے اونٹوں سے کود پڑے بےتابانہ اور دیوانہ وار دوڑتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور نبی کریم ﷺ کے تئیں محبت و عقیدت اور شوق ملاقات کی بےقراری کا اظہار نہایت جذباتی طور پر کیا نبی کریم ﷺ نے ان کو اس بیقرار اور مظطرب حالت میں دیکھا تو سکوت فرمایا ان سے کچھ نہیں کہا لیکن یہ لوگ عظیم المرتبت شخصیت اور اپنے سردار یعنی اشج کی زیر قیادت بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تھے اور جن کا اصل نام منذر تھا ان کی کیفیت بالکل دوسری تھی وہ پہلے اپنی قیام گاہ پر اترے وہاں انہوں نے اپنے تمام رفقاء کا سامان جمع کیا اور ساری چیزوں کو باندھ کر اطمینان کے ساتھ نہائے دھوئے نہایت نفیس پاکیزہ زیب تن کئے اور پھر انتہائی وقار و تمکنت کے ساتھ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے مسجد نبوی میں آئے اور وہاں دو رکعت نماز ادا کی دعا مانگی اور اس کے بعد نبی کریم ﷺ کو ان کی یہ وضع اور روش بہت پسند آئی اور ان سے مذکورہ بالا الفاظ ارشاد فرمائے۔ ایک روایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے ان کے سامنے ان دونوں خوبیوں کا ہونا بیان فرمایا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے اندر جو یہ دو خوبیاں ہیں ان کو میں نے از راہ تکلف اختیار کیا ہے اور میری خود ساختہ ہیں یا اللہ تعالیٰ نے ان کو میری فطرت میں پیدا کیا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ ان دونوں خوبیوں کو تمہارے مزاج و فطرت میں ودیعت رکھا ہے یہ سن کر انہوں نے کہا کہ اللہ کا لاکھ شکر ہے اور احسان ہے کہ اس نے مجھ کو ان دو خوبیوں کے ساتھ استوار کیا جن کو اللہ اور اس کا رسول پسند کرتا ہے یعنی اگر یہ دونوں خوبیاں میری خود ساختہ اور از راہ تکلف اختیار کی ہوئی ہوتیں تو ان کے زائل ہونے یا ان میں نقصان پیدا ہوجانے کا خدشہ ہوتا ہے مگر چونکہ فطری طور پر ہیں اور اللہ کی عطا کی ہوئی ہیں اس لئے میں بجا طور پر امید رکھتا ہوں کہ یہ دونوں میرے اندر ہمیشہ رہیں گے اور باقی رہیں گے۔
4949
Mishkaat Shareef
ضعیف
عن سهل بن سعد الساعدي أن النبي صلى الله عليه وسلم قال الأناة من الله والعجلة من الشيطان . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب . وقد تكلم بعض أهل الحديث في عبد المهيمن بن عباس الراوي من قبل حفظه
اور حضرت سہل بن ساعد (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی کام میں آہستگی و بردباری اللہ کی طرف سے ہے یعنی یہ خوبی الہام الٰہی کے ذریعہ کسی انسان کو حاصل ہوتی ہے اور جلد بازی شیطان کی خصلت ہے اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے نیز بعض محدثین نے اس حدیث کے راوی عبدالمہیمن ابن عباس کی یاد داشت کے بارے میں کلام کیا ہے یعنی انہوں نے کہا ہے کہ عبدالمہیمن کا حافظہ زیادہ اچھا نہیں تھا اگرچہ ان کے عدل و ثقہ میں کوئی شبہ نہیں۔

تشریح
اس حدیث کو بیہقی نے بھی شعب الایمان میں بطریق مرفوع نقل کیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ التانی من اللہ والعجلۃ من الشیطان ۔ اور جلد بازی شیطان کی خصلت ہے کا مطلب یہ ہے کہ کسی دنیاوی کام میں غور و فکر نہ کرنا، اس کے انجام پر نظر رکھے بغیر اس کو شروع کردینا اور جلد بازی کی روش اختیار کرنا ایک ایسی خصلت ہے جس کو شیطان وسوسوں اور واہمات کے ذریعہ انسان کے اندر پیدا کرتا ہے جس سے اس کا مقصد اس کے کام کو خراب کرنا ہے اور خود اس کو پریشانیوں میں مبتلا کرنا ہے بعض حضرات نے یہ وضاحت کی ہے کہ اس سے وہ امور مستثنی ہیں جن کی خیر و برکت میں کوئی شبہ نہیں یعنی اچھی چیزوں میں غفلت کرنا شیطان کی خصلت نہیں ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا یسارعون فی الخیرات۔ ملا علی قاری کہتے ہیں کہ جہاں تک عبادات و طاعات کا تعلق ہے تو جاننا چاہیے کہ ایک تو کسی عبادت وطاعت کی طرف سرعت و جلد رویہ کو اختیار کرنا ہے اور دوسرے اس عبادات وطاعت کو کرتے وقت جلد بازی کرنا ہے ظاہر ہے کہ ان دونوں کے درمیان فرق ہے چناچہ اول الذکر ایک مطلوب و مستحسن چیز ہے اور ثانی الذکر ایک مذموم خصلت ہے اس بات کو مثال کے طور پر یوں سمجھا جائے کہ ایک تو نماز کے لئے جلدی کرنا اور ایک نماز میں جلدی کرنا نماز کے لئے جلدی کرنا تو یہ ہے کہ جب نماز کا وقت ہوجائے تو اس کو ادا کرنے میں تاخیر نہ کرنا جلدی جلدی تیاری کرے نماز پڑھنے لگے۔ یہ چیز صرف یہ ہے کہ اس جلد بازی میں شامل نہیں ہے جس کی برائی بیان کی گئی ہے بلکہ یہ ایک مستحسن عمل ہے اور نماز میں جلدی کرنا یہ ہے کہ جب نماز پڑھنے لگے تو اس نماز سے جلد از جلد فارغ ہوجانے کی خاطر اس کے ارکان و افعال کی ادائیگی میں عجلت کرنے لگے یہ چیز یعنی کسی نیک کام کو جلد بازی سے پورا کرنا مذموم ہے لہذا ملا علی قاری کے مذکورہ الفاظ کا حاصل یہ نکلا کہ فرق شوق سے کسی اچھے کام کی طرف لپکنا اور اس کی انجام دہی کے لئے جلد از جلد تیار ہونا ایک اچھی چیز ہے اور اس اچھے کام کو جلد بازی کے ساتھ کرنا ایک بری چیز ہے۔
4950
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي سعيد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا حليم إلا ذو تجربة رواه أحمد والترمذي وقال هذا حديث حسن غريب
اور حضرت ابوسعید (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی شخص کامل بردبار نہیں ہوتا جب تک اس کو لغزش نہ ہوئی ہو اور کوئی شخص کامل حکیم نہیں ہوتا جب تک کہ اس کو تجربہ حاصل نہ ہوا ہو اس روایت کو احمد اور ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

تشریح
حدیث کے پہلے جملے کا مطلب یہ ہے کہ حلم و بردباری اور لحاظ و مروت کا جو ہر شخص میں ہوتا ہے جس نے دھوکا کھایا ہو لغزشوں اور خطاؤں سے دوچار ہوا ہو گناہ و معصیت کا مرتکب ہوچکا ہو اور اپنے معاملات میں خلل نقصان برداشت کرچکا ہو اور ہوشیار ہونے کے بعد ندامت و خجالت کا برگراں کاندھوں پر اٹھائے پھرا ہو ظاہر ہے کہ ایسا شخص چونکہ اچھی طرح جانتا ہے اور سمجھتا ہے کہ کسی کے دکھ درد اور نفع نقصان کی کیا اہمیت ہوتی ہے کسی کے عیوب چھپانے اور کسی کی خطاؤں کی سے درگزر کرنے کی کتنی ضرورت ہوتی ہے اس لئے وہ دوسروں کے تئیں حلم و بردبار اور خیر خواہ ہوتا ہے لوگوں کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے اور اگر کسی سے کوئی خطا ہوجاتی ہے تو اس سے درگزر کرتا ہے۔ حکیم اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جو دانا و عقل مند ہے راست باز ہو کیونکہ حکمت کے معنی ہیں ہر چیز کی حقیقت و اصلیت کو جاننا اور تجرمہ کا مطلب ہے کاموں کی واقفیت حاصل کرنا اور کسی کام کو کرنے کا طریقہ جانتا لہذا فرمایا گیا ہے کہ جس شخص کو اشیاء کی حقیقت و پہچان حاصل ہوئی ہو ہر چیز کے نفع نقصان سے آگاہ ہوا حالات کے اتار چڑھاؤ اور معاملات و افراد کی بھلائی برائی سے وقف ہو اس کو حکمت کی دولت مل گئی اور وہ کامل حکیم ہوا۔ اور اگر حکیم سے طبیب مراد لیا جائے تو بھی مطلب بالکل صاف ہے کہ کوئی شخص محض علم طب پڑھنے سے کامل و معالج نہیں ہوجاتا بلکہ اس کے لئے تجربہ اور معالجہ کی مشق و مزادلت ضروری ہے۔
4951
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن أنس أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم أوصني . فقال خذ الأمر بالتدبير فإن رأيت في عاقبته خيرا فأمضه وإن خفت غيا فأمسك . رواه في شرح السنة
اور حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک شخص نے عرض کیا کہ حضرت مجھ کو کوئی ایسی وصیت فرما دیں جس پر میں اپنے کاموں اور معاملات میں عمل کروں اور جس کی وجہ سے میرا کوئی عمل و کام بگڑ نے نہ پائے۔ حضور نے فرمایا تم جب بھی کسی کام کو کرنے کا ارادہ کرو تو تدبر اختیار کرو یعنی انجام پر نظر ڈالو اور اس کے تمام مصلح و مفاسد پر اچھی طرح غور و فکر کرلو اور پھر اگر تمہیں اس کام کے انجام میں دینی خیر و بھلائی نظر آئے تو اس کو کرو اور اگر تمہیں اس کے انجام میں کسی دینی یا دنیاوی گمراہی و اخروی خوف محسوس ہو تو اس کو چھوڑ دو ۔ (شرح السنہ)
4952
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن مصعب بن سعد عن أبيه قال الأعمش لا أعلمه إلا عن النبي صلى الله عليه وسلم قال التؤدة في كل شيء إلا في عمل الآخرة . رواه أبو داود
اور حضرت مصعب بن سعد نے اپنے والد سے ایک روایت نقل کی ہے کہ جس کے بارے میں حدیث کے راوی حضرت اعمش کہتے ہیں کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اس حدیث کو حضرت سعد (رض) نے نبی کریم ﷺ سے نقل کیا ہے اور وہ یوں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا توقف و تاخیر ہر عمل میں بہتر ہے مگر آخرت کے عمل میں نہیں۔ (ابوداؤد)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں توقف نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کو فورا کرلینا چاہیے کیونکہ نیک کام میں تاخیر کا مطلب بہت سی آفات اور کو تاہیوں کا خطرہ مول لینا ہے علاوہ ازیں دنیاوی امور کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ اگر کسی دنیاوی کام کو کیا جائے تو ابتداء میں عام طور پر اس کے انجام کا حال معلوم نہیں ہوتا کہ آیا اس کا انجام یقینی طور پر اچھا ہوگا جس کی وجہ سے اس کو فورا کرلینا ضروری ہو یا اچھا نہیں ہوگا کہ اس کے کرنے میں تاخیر کی جائے لہذا تعلیم دی گئی ہے کہ اپنے دنیاوی کام میں توقف و تاخیر اختیار کرلو اور کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے اچھی طرح غور و فکر کرلو اس کے خلاف دینی کاموں کا انجام چونکہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا علم نہ ہو اس لئے ان میں تاخیر کی گنجائش نہیں ہوتی علاوہ ازیں قرآن کریم میں یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ نیکی بھلائی کے کاموں میں سبقت عجلت کرو اور مغفرت و بخشش کی طرف لپکو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے۔ تشریح امام غزالی نے اللہ کے ارشاد آیت (الشیطان یعدکم الفقر) کی تفسیر میں لکھا ہے کہ مومن کے لئے مناسب یہ ہے کہ جونہی اس کے دل میں اللہ کے نام پر اپنا مال خرچ کرنے کا داعیہ پیدا ہو تو وہ اس نیک کام میں قطعا تاخیر نہ کرے کیونکہ جب کوئی شخص اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے تو شیطان اس کے دل میں وسوسہ ڈالنے لگتا ہے کہ اگر اپنا مال خرچ کر دے گا تو کنگال ہوجائے گا اسی طرح وہ اس کو فقر افلاس سے ڈراتا ہے اور صدقہ خیرات کرنے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے لہذا توقف تاخیر کرنے کی صورت میں ہوسکتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ شیطان کا داؤ چل جائے اور اس نیکی سے ہاتھ دھونا پڑے۔ ایک بزرگ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ایک دن بیت الخلاء میں تھے کہ انہوں نے وہیں سے اپنے شاگرد کو آواز دی کہا کہ میرے بدن کی قمیص اتار کر فلاں شخص کو دیدو شاگرد نے یہ سن کر کہا یہ بات آپ بیت الخلاء سے نکلنے کے بعد بھی کہہ سکتے تھے اس قدر بےصبری کی کیا وجہ ہے انہوں نے فرمایا کہ جیسے ہی میرے دل میں داعیہ پیدا ہوا کہ میں یہ قمیص فلاں ضرورت مند کو دیدوں تو میں نے ارادہ کرلیا کہ فورا یہ نیک کام کر دوں کیونکہ میں اپنے نفس پر بھروسہ نہیں کرسکتا نہ معلوم اس کا ارادہ کب بدل جائے اور میں اس نیکی سے محروم رہ جاؤں۔
4953
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد الله بن جرجس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال السمت الحسن والتؤدة والاقتصاد جزء من أربع وعشرين جزءا من النبوة . رواه الترمذي
اور حضرت عبداللہ بن سرجس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نیک راہ روش کسی کام میں آہستگی اور غور و فکر کے لئے تاخیر کرنا اور میانہ روی وہ خوبیاں ہیں جو نبوت کے چوبیس اجزاء سے ایک جز ہے۔ (ترمذی)

تشریح
میانہ روی کے معنی ہیں کہ ہر کام اور ہر حالت میں درمیانی راہ اختیار کرنا اور افراط وتفریط سے اجتناب کرنا جیسے خرچ کرنے میں نہ تو اسراف کرنا اور نہ بخل کرنا بلکہ درمیانی طریقہ یعنی جود و سخاوت اخیتار کرنا۔ یا ہمت و حوصلہ کے اظہار کے موقع پر نہ تو تہور دکھانا اور نہ بزدل بن جانا بلکہ درمیانی راہ شجاعت کو اختیار کرنا یا اعتقادی اور نظریاتی معاملات میں بھی میانہ روی اختیار کرنا کا مطلب یہ ہے کہ اسی عقیدہ پر اعتماد کیا جائے اور وہی نظریہ اپنایا جائے جو دین و دیانت اور عقل دانش کے اعتبار سے متعدل سمجھا جائے مثلا ایک عقیدہ جبر کا ہے اور ایک قدر کا ہے یہ دونوں عقیدے افراط کے حامل ہیں ان دونوں کے برخلاف درمیانی عقیدہ وہ ہے جو اہل سنت والجماعت کا ہے اسی طرح میانہ روی اختیار کرنے کے حکم کا تعلق معیشت سے ہے اور اس کی درمیانی عقیدہ وہ ضروریات زندگی پر نہ تو اتنا خرچ کیا جائے جو اسراف و عیش کی حد تک ہو اور نہ اس قدر کم خرچ کیا جائے جو تنگی تکلیف میں مبتلا کر دے بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال پیدا کیا جائے جیسا کہ خود ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کرنا معیشت کا آدھا سرمایہ ہے۔ غرض کہ انسانی زندگی کے ہر گوشہ اور ہر فعل عمل میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم ہے اور یہی چیز یعنی ہر ایک امر میں اعتدال اختیار کرنا وہ کمال ہے جو انسان کو اس کی مراد اور اس کے مقاصد تک پہنچاتا ہے کیونکہ بہت دوڑ کر چلنے وال اگر جاتا ہے اور سست رفتاری سے چلنے والا بچھڑ جاتا ہے صرف اعتدال کی چال چل کر ہی منزل پر پہنچا جاسکتا ہے۔ اس لئے اللہ نے متعدد مواقع پر راہ اعتدال کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور ایک جگہ یوں فرمایا ہے کہ کھاؤ پیو اور اسراف سے اجتناب کرو۔ بعض عارفین نے کہا ہے کہ علم و عمل میں بھی میانہ روی کی بڑی اہمیت ہے اور اس کی وجہ سے مختلف عملی آفات سے بچا جاسکتا ہے چناچہ حصول علم میں اتنی مشغولیت بہتر ہے جو عمل سے باز نہ رکھے اور عمل میں اسی قدر انہماک روا ہے جو حصول علم سے باز نہ رکھے۔ نبوت کے چوبیس اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ کے بارے میں شارحین نے لکھا ہے کہ یا تو یہ سب چیزیں مل کر ایک جزء کا درجہ رکھتی ہیں یا ان میں سے ہر ایک چیز ایک جزء ہے اور اس کا جزء کا مطلب یہ ہے کہ یہ خوبیاں اور صفات ان خوبیوں اور صفات میں سے ایک ہیں جن سے انبیاء کرام متصف مزین ہوتے ہیں رہی یہ بات کی اجزاء نبوت کے عدد کے تعین سے کیا مراد ہے تو حقیقت یہ ہے کہ اس کی مراد صرف شارع ہی بیان فرما سکتے ہیں جس کو بیان نہیں فرمایا گیا یوں بیان کرنے کو مختلف باتیں کہی جاسکتی ہیں مگر اس کی حقیقت تک چونکہ نور نبوت کے علاوہ کوئی بھی انسانی فہم و ادراک نہیں پہنچ سکتا اس لئے اس کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں کہنا چاہیے اور اس کو اللہ اور اس کے رسول کے سپرد کرنا چاہیے۔
4954
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس أن نبي الله صلى الله عليه وسلم قال إن الهدي الصالح والاقتصاد جزء من خمس وعشرين جزءا من النبوة . رواه أبو داود
اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نیک سیرت نیک راہ روش اور میانہ روی وہ خوبیاں ہیں جو نبوت کے پچیس اجزاء میں سے ایک جز ہیں۔ (ابوداؤد)

تشریح
ہدی صالح اور سمت صالح کے درمیان فرق یہ ہے کہ ہدی کا تعلق انسان کے باطنی احوال سے ہے اسی لئے اس کا ترجمہ نیک سیرت کیا گیا ہے جس کو نیک خونی سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے اور سمت کا تعلق انسان کے ظاہری احوال کردار سے ہے اس لئے اس کا ترجمہ نیک راہ روش کیا گیا ہے اس کو نیک چلنی بھی کہا جاتا ہے راہ سلوک و طریقت میں ان دونوں کا وہی درجہ ہے جو شریعت میں ایمان و اسلام کا ہے اس اعتبار سے نیک خوئی اور نیک چلنی یہ دونوں خوبیاں ایک ساتھ جس مومن میں ہوں تو نور علی نور اور اس کے مرتبہ حقیقت کے کامل ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اس حدیث میں ان خوبیوں کو نبوت کے پچیس اجزاء میں سے ایک جزء کہا گیا ہے جب کہ پچھلی حدیث میں چوبیس کا عدد منقول ہوا ہے لہذا دونوں روایتوں میں یہ تفاوت و فرق یا تو کسی راوی کے وہم و خطا میں مبتلا ہوجانے کی بنا پر ہے یا اس میں بھی کوئی بھید ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کسی موقع پر چوبیس کا عدد ذکر فرمایا ہے اور کسی موقع پر پچیس کا۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہی فرمایا کہ یہ خوبیاں نبوت کے چوبیس اجزاء میں سے ایک جزء ہیں اور پھر آپ نے از راہ عنایت ان خوبیوں کا ایک درجہ اور بڑھا دیا اور یہ فرمایا کہ یہ خوبیاں نبوت کے پچیس اجزاء میں سے ایک جزء ہیں یا یہ کہ پچھلی حدیث میں جن تین خوبیوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ مل کر چوبیس اجزاء میں سے ایک جزء کا درجہ پاتی ہیں اور اس حدیث میں جن تین خوبیوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ مل کر پچیس اجزاء میں سے ایک جزء کا درجہ پاتی ہیں اس صورت میں یہ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ یہ راوی کے وہم و خطا میں مبتلا ہوجانے کا نتیجہ ہے کہ اس سے ایک روایت میں چوبیس کا عدد نقل کیا ہے اور ایک روایت میں پچیس کا۔
4955
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إذا حدث الرجل الحديث ثم التفت فهي أمانة . رواه الترمذي وأبو داود
اور حضرت جابر بن عبداللہ (رض) نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب کوئی شخص کوئی ایسی بات کہے جس کا وہ اخفاء چاہتا ہوں اور پھر وہ چلا جائے تو اس کی وہ بات امانت ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد) مطلب یہ ہے کہ اس کی وہ بات سننے والوں کے لئے ایک امانت کا حکم رکھتی ہے ان کو چاہیے کہ وہ اس امانت میں خیانت نہ کریں یعنی اس کو ظاہر نہ کریں۔